سرورق / بین اقوامی / شام کی صورتحال ناقابل قبول، اقوام متحدہ، غوطہ میں بشارالاسد افواج کی پیش قدمی-

شام کی صورتحال ناقابل قبول، اقوام متحدہ، غوطہ میں بشارالاسد افواج کی پیش قدمی-

اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے مطابق جنگ زدہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں مشرقی غوطہ کی موجودہ صورت حال ’قطعی ناقابل قبول‘ ہے۔ مشرقی غوطہ پر شامی فضائیہ اور زمینی دستوں کی طرف سے وہاں چھ سال سے قابض باغیوں کے خلاف کیے جانے والے حملوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً چھ سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارے کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاموں کے علاقائی رابطہ کار اور شام کے لیے ذمہ دار اہلکار پانوس مومٹزس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی غوطہ میں جس طرح عام شامی شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے، وہ ’قطعی ناقابل قبول‘ ہے۔ شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسد حکومت کے دستوں کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کی طرف نئی پیش قدمی کا موقع ملا ہے اور کئی محاذوں پر سرکاری دستے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے محصور زدہ شامی علاقےمشرقی غوطہ کی موجودہ صورت حال کو قطعی ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ شام میں عالمی ادار ے کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں عام شامی شہریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، جنگ بندی کے بجائے لڑائی اور بمباری بدستور جاری، اسپتالوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے ، شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق شامی فورسز نے مشرقی غوطہ میں مزید پیش قدمتی کرتے ہوئے اس کے ایک چوتھائی حصے پر قبضہ کرلیا ہے ، شدید لڑائی اور بمباری کے باعث سیکڑوں شہریوں اور خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد جان بچانے کیلئے تہہ خانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ تفصیلات کے مطابق شام میں باغیوں کے زیر کنٹرول مشرقی غوطہ پر شامی فضائیہ اور بری افواج کے حملوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران150بچوں سمیت 700کے قریب افراد جاں بحق اور2 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارے کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاموں کے علاقائی رابطہ کار اور شام کے لیے ذمے دار اقوام متحدہ کے اہلکار پانوس مُومٹزس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی غوطہ میں جس طرح عام شامی شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے، وہ ’قطعی ناقابل قبول‘ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بجائے لڑائی اور بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، اسپتالوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے ۔ دوسری جانب شام کے سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز بتایا کہ بشارالاسد افواج نے مشرقی غوطہ میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے اس کے ایک چوتھائی حصے پر قبضہ کرلیا ہے ۔ ادھر شامی افواج کی بمباری کے باعث مشرقی غوطہ سے سيکڑوں شہری اور خاندان نقل مکانی کر رہے ہيں۔سيرين آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس نے اتوار کو بتایا کہ اب تک تين سو سے چار سو خاندانوں کی نقل مکانی کی اطلاع ہے۔دریں اثناء غوطہ کے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ محصور زدہ علاقے میں شہریوں کو سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: