سرورق / بین اقوامی / شام پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال دوہرایا جاتا ہے تو مزید فضائی حملوں کا امکان: نکی ہیلی

شام پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال دوہرایا جاتا ہے تو مزید فضائی حملوں کا امکان: نکی ہیلی

واشنگٹن، امریکی قیادت میں شام میں کئے گئے مغربی ممالک کے فضائی حملوں کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ اگر وہاں کیمیکل ہتھیاروں کا پھر استعمال کیا گیا تو ایسے حملے دوہرائے جائیں گے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں سات اپریل کو صدر بشار الاسد کی حکومت نے کیمیائی حملوں میں کلورین گیس کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا تھا اور اسی کے جواب میں یہ حملے کئے گئے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ان حملوں میں سیرن گیس کا بھی استعمال کیا گیا تھا، جو کافی مہلک ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کل ایک بیان میں کہا کہ ابھی تک جو بھی ثبوت ملے ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شام کی حکومت نے بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ امریکی آرمس کنٹرول ایسو سی ایشن کے ماہر ڈیرل كمبال نے بتایا کہ مغربی ایشیا کا ہر شہر جہاں پانی کی صفائی ہوتی ہے وہاں کلورین تو ضرور ملائی ہی جاتی ہے اور یہ عام صنعتی کیمیکل ہے۔ لیکن کیمیکل حملوں میں کلورین گیس کا استعمال باعث تشویش ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کل پھر اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اگر شام میں کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال دوہرایا جاتا ہے تو ایسے حملے پھر کئے جائیں گے۔ امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ وہاں سیرن گیس کا استعمال کیا گیا تھا لیکن شام اس سے انکار کرتا ہے۔
وزیر دفاع جم میٹس کی نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر وہ مکمل طور پرپر یقین ہیں کہ وہاں کلورین گیس کا استعمال ہوا تھا۔ انہوں نے سیرن گیس حملے کے خدشہ سے انکار نہیں کیا ہے۔ نائب صدر مائیک پینس نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کم از کم کلورین گیس کا استعمال تو ہوا ہی تھا۔
دریں اثنا ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ سات اپریل کو شام میں سیرن گیس حملے کا اندازہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر ہی لگایا گیا تھا اور انٹیلی جنس رپورٹوں میں ایسی کوئی معلومات نہیں دی گئی تھی۔ مسز ہیلی نے جمعہ کو اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ امریکہ کا اندازہ ہے کہ شامی جنگ میں صدر اسد نے کم از کم 50 بار کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے اور عام لوگوں کے مطابق کم از کم 200 بار ایسا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کل پھر اس جانب اشارے دیے تھے کہ اگر شام میں کلورین گیس کا استعمال ہوتا ہے تو اس پر پھر حملے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا تھا ’’اگر شامی انتظامیہ اس زہریلی گیس کا استعمال پھر کرتا ہے تو امریکہ اپنی طرف سے پوری طرح تیار ہے۔ اگر ہمارے صدر نے انتباہ سےمتعلق کوئی لائن کھینچ دی ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے‘‘۔

شامی افواج ادلب کو نشانہ بنا سکتی ہے: فرانس

پیریس: فرانس کے وزیر خارجہ جین يویس لی ڈرائن نے خبردار کیا ہے کہ شام کی فوج دہشت گردوں کے کنٹرول والے شام کے ادلب شہر کو اپنا اگلا نشانہ بنا سکتی ہے۔ مسٹر ڈرائن نے فرانس کے ہفتہ وار جرنل ’دو دمانچے‘ کو بتایا، “ایک نئی انسانی آفات کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ادلب کا مستقبل سیاسی عمل کے ذریعے طے کیا جانا چاہئے جس میں دہشت گردوں سے اسلحہ کی واپسی شامل ہے‘‘۔ انہوں نے کہا، “ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا اہم دشمن اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اور دیگر دہشت گرد گروپ ہے جو شام کے مشرقی حصے میں ایک بار پھر اكٹھا ہو رہے ہیں‘‘۔ مسٹر ڈرائن نے کہا، “روس شام کی حقیقت سے انکار کرتا رہا ہے اور روس کی طرف سے بشار الاسد کے تحفظ کو جواز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ روس 2013 اور 2017 میں شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کرتا رہا ہے۔یہ حقیقت سے منہ چھپانے جیسا ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: