سرورق / خبریں / سیاحت کیلئے 3ہزار کروڑکی لاگت کا جامع منصوبہ: سارا مہیش 25؍جون کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس، ریاست کے 20سیاحتی مراکز کی ترقی کیلئے فوری اقدامات –

سیاحت کیلئے 3ہزار کروڑکی لاگت کا جامع منصوبہ: سارا مہیش 25؍جون کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس، ریاست کے 20سیاحتی مراکز کی ترقی کیلئے فوری اقدامات –

میسور: محلوں کے شہر میسور سمیت ریاست کے 20 اہم سیاحتی مراکز کی ترقی کیلئے 3ہزار کروڑ روپئے کی لاگت سے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔یہ بات ریاستی وزیر برائے سیاحت سارا مہیش نے کہی۔ انہوں نے یہاں ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں گزشتہ روز سیاحتی مراکز کی ترقی کے سلسلے میں محکمہ کے افسروں اور مختلف اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی سیاحت کے شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں 25؍جون کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس طلب کیا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ میسور شہر میں سالانہ 35تا 40لاکھ سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔ان سیاحوں کو بنیادی سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔ سال کے پورے 365 دن بھی یہاں ایگزی بیشن کا اہتمام کیا جائے گا اور گلرہلی تالاب کی ترقی کو ممکن بنایا جائے گا۔ پیالیس ، زو سمیت زیادہ تر سیاحوں کی آمد والے مقامات پر شفاف پینے کا پانی، بیت الخلاء کی سہولت سمیت دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ سیاحتی مراکز سے جوڑنے والی سڑکوں کی ترقی و توسیع پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ بیرونی مقامات سے آنے والے سیاحوں کی صحیح رہنمائی اور حفاظت کیلئے سیاح دوست پولیسنگ نظام جاری کیا جائے گا۔ پیالیس، کرشنا راجہ ساگر برنداون کی لائٹنگ کے وقت میں توسیع کی جائے گی۔ خصوصی طور پر میسور میں سیاحوں کی نائٹ لائف کیلئے موقع فراہم کیا جائے گا۔ میسور کے سبھی سیاحتی مراکز کیلئے ایک ہی طرز کا ٹکٹ نظام ٹورزم ٹاسک فورس قائم کر کے رنگ روڈ پر خاتون سیاحوں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔وزیر موصوف نے بتایا کہ میسور میں یوگا یونیورسٹی کو منظوری دئے جانے سے ملازمت کے موقع فراہم ہوسکتے ہیں۔ بیرونی ریاستوں کے ٹورسٹ گاڑیوں کے داخلہ ٹیکس میں کمی لائی جائے گی۔ اس دوران اجلاس میں موجود مختلف اداروں کے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ چامنڈی پہاڑی کیلئے روپ وے تعمیر کئے جانے کے بارے میں اس سے پہلے ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا مگر ماحولیات دوستوں کی مخالفت کے سبب اس منصوبے پر کام نہیں ہوسکا۔ درختوں کو کاٹ دئے جانے کا الزام ماحولیات دوستوں کا ہے مگر روپ وے کیلئے زیادہ درختوں کو کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان لوگوں کو اعتماد میں لے کر چامنڈی پہاڑی کیلئے روپ وے تعمیر کا منصوبہ جاری کر کے سیاحوں کو راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ہوٹل مالکان اسوسی ایشن کے مہیش کامت نے کہا کہ میسور شہر کیلئے بیاٹری کاروں کو متعارف کرانے سے ماحولیات میں آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سیاحتی مراکز میں شفاف پینے کے پانی کے مراکز قائم کرنے سے پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی کی فروخت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جائے کہ کس طرح سے سیاحوں کے ساتھ پیش آئیں۔ ہوٹل مالکان اسوسی ایشن کے صدر نارائن گوڈا نے کہا کہ میسور سے ملک کے اہم شہروں کیلئے ہوائی سفر کی شروعات کی جائے۔ میسور ٹراولس اسوسی ایشن کے پرشانت نے کہا کہ میسور دسہرہ کے بارے میں صحیح طریقے سے تشہیر نہیں کی جارہی ہے۔ گولڈ کارڈ رکھنے والوں کو بہترین سہولت فراہم کی جانی چاہئے۔سیاحت کے شعبے کی ترقی کیلئے سوشیل میڈیا کا استعمال کرنے میں محکمہ پوری طرح ناکام ہے۔ اس بارے میں خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اسی دوران ریس کورس کے احاطے میں سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ہارس لائے اور مزدوروں کے شیڈ تعمیر کئے جانے پر ریس کورس و میسور گلف کے چیرمین کو وزیر نے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اس اجلاس میں رکن اسمبلی سندیش ناگراج، ایل ناگیندرا، محکمہ سیاحت کے سکریٹری ٹی کے انیل کمار، ڈائرکٹر رامو، ضلع پنچایت صدر نعیمہ سلطانہ، ڈپٹی کمشنر ابھی رام جی شنکر اور دیگر موجود تھے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: