سرورق / خبریں / سگنل فری کاریڈور کیا شہر کے مصروف ترین علاقوں کو راحت فراہم کر پائیں گے؟

سگنل فری کاریڈور کیا شہر کے مصروف ترین علاقوں کو راحت فراہم کر پائیں گے؟

بنگلورو۔آئی ٹی پارک اور آئی ٹی کمپنیوں کے لئے مشہور مہا دیوپورا، کورمنگلا، سلک بورڈ سے لے کر میسور روڈ تک کے علاقوں میں ہر دن لاکھوں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے، اس سے شدید ٹرافک کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، گاڑیوں پر سواری کرنے والے پریشانیاں محسوس کرتے ہیں جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ شہر کے مہادیوپورا وارڈ کے علاقہ میں پرانے ائیرپورٹ روڈ اور اولڈ مدراس روڈ پر ٹریفک کے شدید دباؤ کو کم کرنے کے لئے بی بی ایم پی کے ذریعہ 276 کروڑ روپئے کی لاگت سے اے ایس سی سنٹر سے ہوپ فارم تک اور ہوپ فارم جنکشن سے ہوڈی جنکشن تک دو سگنل فری کاریڈور کی تعمیر کا کام انجام دیا جائے گا۔ اس اہم منصوبے کے بعد مرکزی سلک بورڈ سے میسور روڈ کی طرف بنر گٹہ روڈ سے گزر کر سفر کرنے والے افراد کے لئے ڈالمیا جنکشن پر سگنل فری کاریڈور کا افتتاح ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبلہی عمل میں آچکا،واضح رہے کہ ڈیلمیا جنکشن ان پانچ چوراہوں میں سے ایک ہے جن کا کھولا جانا مرکزی سلک بورڈ اور میسور روڈ کے درمیان کے راستے کو سگنل فری بنانے کے لئے ضروری ہے، ان پانچ میں سے کے ای بی جنکشن پر اس سے پہلے ہی ایک فلائی اوور کا افتتاح ہو چکا ہے،ڈالمیا جنکشن پر فلائی اوور کی تعمیر کا کام نگروتھانا اسکیم کے تحت اگست 2016 میں شروع کیا گیا تھا۔تیسرا منصوبہ ڈاکٹر متھوراج جنکشن (جسے عام طور پر بینک کالونی جنکشن کہا جاتا ہے) پر سگنل فری کاریڈور کی تعمیر ہے، جہاں بی بی ایم پی نے انڈر پاس کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے،یہاں راستوں کی کھدائی کا کام بھی ہو چکا ہے اور بی بی ایم پی کو امید ہے کہ اس کام کی تکمیل ستمبر 2018 تک ہو جائے گی۔ناگراج نے بتایا کہ ’’کام کی ابتداء تو ہو چکی ہے، اس پورے راستہ پر جو زمین کی ضرورت تھی وہ موجود ہے اور اب زیادہ مدت اس کو نہیں لگے گی۔چاروں جانب سے سواریوں کی آمد و رفت کی وجہ سے اس جنکشن پر ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ رہتا ہے۔یہ انڈر پاس ہوساکیرے ہلی اور سیتا سرکل کو جوڑنے والا ہے، میسور روڈ سے کاماکیا پالیہ جنکشن کے درمیان سفر کرنے والے افراد اس انڈر پاس سے گزر سکتے ہیں‘‘۔اس پورے سگنل فری کاریڈور میں جو رکاوٹیں ہیں وہ صرف فڈ ورلڈ جنکشن اور جیڈی مرا جنکشن کے ہیں جہاں انڈر پاس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے لیکن ان دونوں مقامات پر کام ابھی شروع نہیں کیا گیا ہے۔ناگراج نے بتایا کہ ’’ہم لوگ بی ایم آر سی ایل سے بات چیت کر رہے ہیں اس لئے کہ جیڈی مرا جنکشن پر میٹرو کی تعمیرات بھی آنے والی ہیں اور اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔فڈ ورلڈ جنکش پر ٹریفک کے رخ کو موڑنے کی اجازت ٹریفک پولیس کی طرف سے نہیں مل سکی ہے، اس لئے کہ دوسرے رخوں پر بھی تعمیراتی کام جاری ہیں، اس لئے فڈ ورلڈ جنکشن پر ہم کام کا آغاز اسی وقت کر سکتے ہیں جب اس راستہ پر دوسرے مقامات پر جاری کاموں کی تکمیل ہو جائے‘‘۔اس کے علاوہ شہر کے مضافاتی علاقوں اور مصروف ترین علاقوں میں بالخصوص مہادیوا پورا کی حدود میں سگنل فری کاریڈور کی تعمیر کے لئے جن منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے اس میں سگنل فری کاریڈار نمبر 1 کے تحت اے ایس سی سنٹر سے ہوپ فارم تک 17.5 کلومیٹر طویل انڈر پاس کی تعمیر کے لئے 135 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ این اے ایل جنکشن پر انڈر پاس کی تعمیر کے لئے 19 کرور روپئے مختص کئے گئے ہیں، مقبوضہ زمین کے معاوضہ کے طور پر 28.24 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں، سورنجن داس روڈ اور ایچ اے ایل جنکش پر کام کے لئے ضروری زمینات حاصل کی گئی ہیں، کندل پلی جنکشن پر انڈر پاس کی تعمیر کے لئے 19 کروڑ روپئے،زمین کے حصول کے لئے 24.97 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں۔اس طرح کل 17.50 کلومیٹر کے کاریڈور کی ترقی کے لئے 52 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔اسی طرح سگنل فری کاریڈار نمبر 2کے منصوبہ کے تحت ہوپ فارم جنکشن پر انڈر پاس کی تعمیر کے لئے 13.85 کروڑ روپئے، زمین کی حصولیابی کے لئے 31 کروڑ روپئے، آئی ٹی پی ایل جنکش میں انڈر پاس کی تعمیر کے لئے 27 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں، ہوڈی کے قریب 40 کروڑ روپئے کے خرچ سے فلائی اوور تعمیر کیا جا رہا ہے اس طرح اس کاریڈور کی ترقی کے لئے کل 42 کروڑ روپئے کا خرچ ہوا ہے۔شہری ماہرین البتہ بلدیہ کے ان منصوبوں سے متعلق زیادہ اطمینان کا اظہار نہیں کر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ شہری نظام نقل و حمل کو مضبوط بنائے بغیر صرف بنیادی ڈھانچہ کی ترقی شہریوں کے ٹیکس کی بھاری رقم کے زیاص ، افراتفری اور کنکریٹ کے جنگل تعمیر کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: