سرورق / خبریں / سشما سوراج 2014 کے وزیراعظم کے عہدے کے لئے حقیقی امیدوار تھیں : چدمبرم

سشما سوراج 2014 کے وزیراعظم کے عہدے کے لئے حقیقی امیدوار تھیں : چدمبرم

نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات کے بعدمحترمہ سشما سوراج وزیر اعظم کے عہدے کی حقیقی دعویدار تھیں۔

مسٹر چدمبرم نے ایک اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں کہا کہ محترمہ سوراج 2009 سے 2014 تک اپوزیشن کی لیڈر رہی ہیں اور اگلے عام انتخابات میں اگر اپوزیشن پارٹی انتخاب جیت جاتی ہے تو جمہوری روایات کے مطابق اپوزیشن کا لیڈر ہی قدرتی طور پر وزیر اعظم بنتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ 2014 کے عام انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ’باہرکا شخص ‘ اپنے بے شمار سیاسی پینتر ے بازی کی وجہ سے بی جے پی کا رہنما بن چکا تھا اور اس نے محترمہ سوراج کے وزیر اعظم کے عہدے تک کے راستے میں رکاوٹ کھڑا کردیا تھا۔ بعد میں وہی شخص وزیر اعظم بن گیا۔

انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر محترمہ سوراج کے خلاف کئے گئے بیہودہ تبصرے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کسی بھی بی جے پی لیڈر نے ان تبصروں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ محترمہ سوراج کے خلاف بھی وہی طاقتیں کام کر رہی تھیں جوحزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مسلسل بدتمیزی کا مظاہرہ کر رہی تھیں ۔
مسٹر چدمبرم نے اس تناظر میں بی جے پی کے اندر کی سیاست کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ محترمہ سوراج کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی نے بھی مسٹر مودی کے آگے بڑھتے رتھ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن دونوں اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز میں مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت کی تشکیل کے بعد محترمہ سوراج کو وزیر خارجہ بنایا گیا لیکن انہیں خارجہ پالیسی پر کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا کیونکہ اس محکمہ پر تقریبا وزیر اعظم کے دفتر کا ہی قبضہ رہا ہے۔
ان سب حالات کے درمیان محتر،مہ سوراج نے بیرون ملک پھنسے ہوئے اور وہاں کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کو وطن لانے کا ایساانوکھا کام شروع کر دیا کہ ان کی مقبولیت کے سامنے خارجہ پالیسی میں ان کوکمزور کرنے کی مزید کوئی کوشش کامیاب ہی نہیں ہو پائی ۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ رہی ہے کہ محترمہ سوراج نے اس دوران کبھی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ تصادم کی صورت حال پیدا نہیں ہونے دی جس سے انہیں اپنے مخالفین کو سکشت دینے میں خوب مدد ملی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: