سرورق / خبریں / سرجیکل اسٹرائیک: فوجی افسر کا دعویٰ “پاکستان کے ہرجواب کے لئے تیار تھے ہم”۔

سرجیکل اسٹرائیک: فوجی افسر کا دعویٰ “پاکستان کے ہرجواب کے لئے تیار تھے ہم”۔

سری نگر: پاکستان کے قبضے والے کشمیرمیں دہشت گردوں کے ٹھکانے پرسال 2016 میں کی گئی سرجیکل اسٹرائیک کا ویڈیو جاری ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھرسرخیوں میں ہے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنانے والے فوجی افسر نے بھی کچھ نئے انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگراس وقت ضرورت پڑتی توہندوستان مزید جوان ایل او سی پار بھیجنے کے لئے تیار تھا۔ سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ تیارکرنے والی شمالی کمانڈ کےجنرل کمانڈنگ آفیسر(جی او سی)، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) دیویندرسنگھ ہڈا بتاتے ہیں “ہم نے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سبھی ممکنہ نتائج کے بارے میں غور کیا تھا، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی کرتا ہے تو ہم کیا کریں گے”؟ دیویندرسنگھ ہڈا نے مزید کہا “ہم نے الگ الگ حالات پرغوروخوض کیا تھا اور ان حالات میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر منصوبہ تیار کیا تھا۔ میں تفصیل میں نہیں جاوں گا، لیکن یقینی طور پر ہماری توجہ اس پر تھی”۔
واضح رہے کہ 2016 میں اڑی حملے کے بعد ہندوستان نے 29 -28 ستمبر کو پاکستان میں بیٹھے دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہ کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کو انجام دیا تھا۔ اپنی اس کارروائی میں ہندوستان نے دہشت گردوں کے کئی لانچ پیڈ برباد کرنے کے ساتھ تقریباً 70 دہشت گردوں کو مار گرایا تھا۔ اس سرجیکل اسٹرائیک کو لے کر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کہتے ہیں کہ وہ اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی بھی کرے گا تو وہ بہت محدود ایکشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلے میں محدود فوجی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان اتنے بڑے اقدامات نہیں اٹھائے گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوجائے۔ اس کے ساتھ ہی جنرل ہڈا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج اس سے پہلے بھی کئی بار سرجیکل اسٹرائیک کوانجام دے چکی تھی۔ حالانکہ انہوں نے 2016 کے سرجیکل اسٹرائیک کو دو معاملوں میں الگ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک بہت بڑے پیمانے پرکیا گیا تھا اور دوسری بات پہلی بارحکومت نے کھل کراعتراف کیا تھا کہ ہم نے بارڈرکے اس طرف جاکر سرجیکل اسٹرائیک کو انجام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے جو بھی سرجیکل اسٹرائیک ہوئی، انہیں سرکاری طور پر کبھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔

 

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: