سرورق / خبریں / سات لوگوں کو زندہ جلانے والے کو ملے گی پھانسی، صدر جمہوریہ نے رحم کی پہلی درخواست مسترد کی

سات لوگوں کو زندہ جلانے والے کو ملے گی پھانسی، صدر جمہوریہ نے رحم کی پہلی درخواست مسترد کی

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے ایک ہی خاندان کے 7 لوگوں کو زندہ جلاکر مارنے کے معاملے میں موت کی سزا کا سامنا کررہے شخص کی رحم کی درخواست کو خارج کردیا ہے۔ صدر جمہوریہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد رام ناتھ کووند کے پاس یہ پہلے رحم کی عرضی دائر کی گئی تھی۔بہار کے ویشالی ضلع کے راگھو پور بلاک میں ہوئے یہ دل دہلادینے والا واقعہ 2006 کا ہے، جس میں جگ رائے نام کے شخص نے بھینس چوری ہونے کے معاملے میں وجیندر مہتو اور اس کے گھر کے 6 افراد کو زندہ جلا دیا تھا۔مہتو نے ستمبر 2005 میں بھینس چوری ہونے کا ایک معاملہ درج کرایا تھا، جس میں جگت رائے کےعلاوہ وزیر رائے اور اجے رائے کو ملزم بنایا تھا۔ یہ ملزم (جو اب قصور وار ہے) مہتو پر معاملہ واپس لینے کا دباو بنارہے تھے۔
جگت رائے نے بعد میں مہتو کے گھر میں آگ لگادی، جس میں مہتو کی بیوی اور پانچ بچوں کی موت ہوگئی تھی۔ آگ میں بری طرح جھلسے مہتو کی بھی کچھ مہینے بعد موت ہوگئی تھی۔رائے کو اس معاملے کا قصور وار پایا گیا اور مقامی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی۔ بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی نچلی عدالت کی سزا برقرار رکھی۔ اس پر رائے کی رحم کی درخواست عرضی صدر جمہوریہ سکریٹریٹ کو بھیجی گئی تھی۔صدر جمہوریہ دفتر نے اس بارے میں وزارت داخلہ سے مشورہ طلب کیا، جس نے گزشتہ سال 12 جولائی کو اپنی سفارشات بھیجی تھیں۔ صدر جمہوریہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق صدر جمہوریہ نے مہتو کی درخواست عرضی 23 اپریل 2018 کوخارج کردی۔گزشتہ سال جولائی میں صدر جمہوریہ بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کووند نے کسی رحم کی درخواست پر فیصلہ کیا۔ صدر جمہوریہ سکریٹریٹ میں کوئی بھی دیگر رحم کی درخواست اب زیر غور نہیں ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: