سرورق / بین اقوامی / سابق روسي جاسوس اسكرپل پر حملے کے معاملے میں نیا موڑ –

سابق روسي جاسوس اسكرپل پر حملے کے معاملے میں نیا موڑ –

لندن / ماسکو، روس کے سابق جاسوس سرگئی ا سكرپل کی بیٹی جولیا کی صحت بہتر ہونے سے متعلق ایک بیان عام ہونے کے بعد برطانیہ میں گزشتہ ماہ زہر دے کر باپ بیٹی پر قاتلانہ حملے کے معاملے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
جولیا اسكرپل نے اگرچہ واقعہ پر کوئی نئی روشنی ڈالے بغیر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں۔جولیا نے کہا کہ “میں ایک ہفتے پہلے جاگ اٹھی اور مجھے خوشی ہے کہ میری طاقت ہر روز بڑھتی جا رہی ہے۔ میری خیریت میں دلچسپی اور خیر سگالی کے پیغامات کے لئے میں شکر گزار ہوں”۔
گزشتہ چار مارچ کو زہریلی گیس حملے کے بعد ا سكرپل (66) اور ان کی بیٹی جولیا (33) برطانیہ کے سیلسبري کے اسپتال میں ہیں۔ سلسبري میں ایک ساحل بیہوشی کی حالت میں پائے جانے کے بعد دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے اسكرپل پر حملے کو انجام دینے کا الزام روس پر عائد کیا ہے۔لیکن برطانیہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ ماسکو کے کے پاس نرو گیس کا کوئی اسٹاک نہیں ہے۔ اس واقعہ کا سفارتی طورپر کافی اثر ہوا اور روس اور مغربی ممالک نے بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو نکال باہر کیا۔ اسكرپل کی صحت نگہداشت میں مستحکم رہتی ہے جبکہ جولیا کی صحت میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ جولیا نے برطانوی پولس کے حوالے سے کل جاری ایک بیان میں اسپتال عملہ اور لوگوں کے تئیں شکریہ ادا کیا جنہوں نے ‘بے ہوشی’ کی حالت میں ان کے والد اور ان کی مدد کی۔
جولیا نے اپنے مختصر بیان میں واقعہ کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ لیکن ان کی صحت کو بہتر ہونے کا مطلب ہے کہ وہ برطانوی پولس کی تحقیقات میں مدد کر سکتی ہیں۔ برطانیہ کے محکمہ خارجہ نے کہا کہ جولیا کو روسي سفارت خانہ نے مدد کی پیشکش کی تھی لیکن اس نے ابھی تک اسے قبول نہيں کیا ہے۔ برطانوی پولس کی جانب سے جولیا کا بیان جاری ہونے کے چند گھنٹے پہلے ہی روسي سرکاری ٹی وی اور انٹرفیکس کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ جولیا نے روس میں موجود اپنے چچیری بہن وکٹوریہ ا سكرپل سے فون پر بات چیت میں کہا کہ انہیں اور ان کے والد کی صحت میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے اور جلد ہی اسپتال سے چھٹی دیئے جانے کا امکان ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: