سرورق / خبریں / ریاست سے بات چیت بین الاقوامی ثالثوں کی موجودگی میں ہوگی –

ریاست سے بات چیت بین الاقوامی ثالثوں کی موجودگی میں ہوگی –

پشاور: پاکستان میں آباد پختونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تحریک ‘پشتون تحفظ موومنٹ’ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان سے مذاکرات اسی صورت میں کریں گے جب بات چیت میں بین الاقوامی ثالث بھی موجود ہوں۔اتوار کو پشاور کے رنگ روڈ پر ہونے والے جلسے سے خطاب میں منظور پشتین نے کہا کہ ان کی تحریک پشتونوں کے قتل میں ملوث تمام افراد کا احتساب چاہتی ہے چاہے وہ طالبان ہوں یا فوجی اہلکار۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مزید دو ہزار کے قریب ایسے افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے جنہیں ان کے بقول ریاستی اداروں نے اْٹھایا ہوا ہے۔پشتون تحفظ تحریک لگ بھگ ڈھائی ماہ قبل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے کراچی میں پولیس کے جعلی مقابلے میں ہلاکت کے بعد قائم کی گئی تھی۔ جلسے میں شرکت کے لیے قبائلی علاقہ جات سے بھی قافلے پشاور پہنچے تھے؛ لیکن نسبتاً نوجوان قیادت والی اس تحریک کے کامیاب جلسوں اور مظاہروں نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ تحریک تیزی سے پختون اکثریتی علاقوں میں مقبول ہورہی ہے اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔اتوار کو پشاور میں ہونے والے جلسے میں بھی نوجوانوں اور خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی جب کہ پشاور کے علاوہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور قبائلی علاقہ جات سے بھی قافلے جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔اپنے خطاب میں منظور پشتین نے اعلان کیا کہ وہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے الزام میں گرفتار پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد اب پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان کی عدالت میں پیشی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے بعد ان کے بقول جنرل پرویز مشرف کی باری ہوگی ۔منظور پشتین نے اعلان کیا کہ وہ 22 اپریل کو لاہور میں جلسہ کریں اور اسی مہینے کی 29 تاریخ کو سوات میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔پشاور کے جلسے کے لیے پختون تحفظ موومنٹ کی عوامی رابطہ مہم گزشتہ دو ہفتے سے جاری تھی جس کے لیے پشاور کے علاوہ مردان، بنوں اور سرحدی علاقے لنڈی کوتل میں کئی مقامات پر تحریک کے حامیوں نے جلوس نکالے تھے۔پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماو?ں کے مطابق انہوں نے صوبے کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ڈاکٹروں، وکلا اور طلبہ تنظیموں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی انجمنوں کے رہنماو?ں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت کا کوئی نمایاں رہنما اتوار کے جلسے میں شریک نہیں ہوا۔جلسے کے مقام پر انتظامیہ نے غیر اعلانیہ طور پر انٹرنیٹ سروسز بند کردی تھیں جس کے باعث جلسے کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور جلسے کے شرکا کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب کہ جلسے کی سوشل میڈیا پر کوریج بھی متاثر رہی۔جلسے کے شرکا میں ایک بڑی تعداد لاپتا افراد کے لواحقین کی بھی تھی جنہوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اْٹھائی ہوئی تھیں۔پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماو?ں کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کے پانچ مطالبات ہیں جن میں نقیب اللہ کے قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو سزا دلانا، لاپتا افراد کی واپسی اور عدالتوں میں پیشی، مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل ہونے والے افراد کے کیسز کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام، قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور فوجی چوکیوں پرپر پشتونوں کی مبینہ تذلیل روکنا شامل ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جلسے میں موجود ‘پی ٹی ایم’ کی رہنما وڑانگہ وانئی نے کہا کہ 32 ہزار لاپتا افراد میں سے 250 کو رہا کردینا یا پھر چوکیوں پر ایک گلاس شربت پلانے سے ان کے بقول پشتونوں کی محرومیاں ختم نہیں ہوں گی۔جلسے میں موجود ’آل پاکستان سکھ سوسائٹی‘ کے صدر رادیش سنگھ ٹونی کا کہنا تھا کہ ہم پشتون اقلیتوں کو بھی ان کا حق نہیں مل رہا۔سکھ رہنما نے کہا کہ ان کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کے مجرموں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔انسانی حقوق کی مو?قر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت کو پشتونوں کے خلاف امتیازی رویے بند کرنے ہوں گے اور اس کا آغاز منظور پشتین اور دیگر مظاہرین کے خلاف قائم فوجداری مقدمات کے خاتمے اور قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور اس میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے سے ہونا چاہیے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: