سرورق / خبریں / ریاستی گورنر مرکزی بی جے پی قیادت کے سامنے بے بس کرناٹک میں بی جے پی کو منصوبہ بندی کے تحت حکومت سازی کے لئے مدعو کیا گیا

ریاستی گورنر مرکزی بی جے پی قیادت کے سامنے بے بس کرناٹک میں بی جے پی کو منصوبہ بندی کے تحت حکومت سازی کے لئے مدعو کیا گیا

بنگلور  (منیراحمد آزاد چیف رپورٹر) کرناٹک میں حکومت سازی سے متعلق آخر کار وہی ہوا جس کا خوف تھا۔ ریاستی گورنر واجو بھائی رودا بھائی والا مرکزی اور بی جے پی قیادت کے سامنے جھک گئے ۔حکومت سازی کے لئے کسی بھی پارٹی کو مدعو کرنے دو دن کے لئے ٹال مٹول کے بعد کل رات دیر گئے بی جے پی لجس لیٹرس پارٹی لیڈر بی ایس ایڈی یورپا کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرکے آج صبح انہیں ریاست کے 23ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدہ اور راز داری کا حلف دلایا۔ حالانکہ یہ سب آر ایس ایس اور بی جے پی قیادت کی منصوبہ بندی ہے۔بی جے پی کی مرکزی قیادت نے پہلے ہی سے گورنر کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ ایک یا دو دن ٹال مٹول کرنے کے بعد بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کیاجائے۔ کل گورنر کے اعلان کرنے سے بہت پہلے ہی بی جے پی لیڈر سریش کمار نے ٹوئٹ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیاتھا کہ کل 17مئی جمعرات کے دن شری ایڈی یورپا ریاست کے نئے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیں گے ۔حالانکہ گورنر کے اعلان سے پہلے ہی سریش کمار کے اس ٹوئٹ پوسٹ کرنے پر کئی لوگوں کے اعتراض کے بعدسریش کمار نے اس اعلان کو اپنے ٹوئٹ سے ہٹالیا تھا۔ گورنرکے باقاعدہ اعلان سے قبل سریش کمار کے اس ٹوئٹ سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرنا منصوبہ بندی ہے۔ دو دنوں تک اس معاملے میں گورنر نے ناٹک کیا۔انہیں نتائج ظاہر ہونے کے ساتھ ہی بی جے پی کی مرکزی قیادت بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی نے گورنر کو یہ ہدایت دے دی تھی کہ چاہے حالات کچھ بھی ہوجائیں لیکن حکومت سازی کے لئے بی جے پی کو ہی مدعو کرنا ہے ۔ کل شام 5بجے بھی راج بھون کے سامنے بہت بڑا ڈرامہ ہوا۔آر ایس ایس اور بی جے پی کی مرکزی قیادت کے اثر ورسوخ کے آگے دبے ہوئے گورنر سے جب کانگریس جے ڈی ایس اتحاد نے ان کی حمایت کرنے والے118؍ اراکین کاپریڈ کرنے کی اجاز ت طلب کی تو گورنر نے انکار کردیا۔ اتنا ہی نہیں بشمول جے ڈی ایس ریاستی صدر و کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے متوقع وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کئی سابق وزراء اور اہم لیڈروں کو راج بھون میں داخل نہیں ہونے دیا۔انہیں راج بھون کے مین گیٹ پر ہی روک لیا۔ اس کے کافی دیر بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کے صرف دس اراکین اسمبلی کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ان تمام حالات اور حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ گورنر پہلے ہی سے بی جے پی کی مرکزی قیادت کے آگے جھکے ہوئے تھے۔
ایڈی یورپا کتنے دنوں کے سلطان؟ حالانکہ حلف برداری تقریب کے فوری بعد ایڈی یورپا نے اعلان کیا ہے کہ انہیں اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے گورنر کی جانب سے دی گئی پندرہ دنوں کی مہلت نہیں چاہئے بلکہ بہت جلد وہ ایوان میں اپنی حکومت کی اکثریت ثابت کریں گے ۔اگر ایڈی یورپا نے یہ اعلان کیا ہے تو یوں ہی نہیں بلکہ اس میں بھی کوئی منصوبہ بندی چھپی ہوئی ہے۔ حالانکہ کانگریس کے تین کمزور وکٹ گرنے کا امکان نظر آرہا ہے۔ لیکن بی جے پی کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے ا س وقت مزید8؍ اراکین اسمبلی کی ضرورت ہے۔ 224رکن اسمبلی کے لئے 222حلقوں میں انتخابات ہوئے ۔دو حلقوں جئے نگر اور آر آر نگر میں انتخابات ملتوی کئے گئے تھے۔ اس حساب سے ایوان میں معمولی اکثریت کے لئے بھی بی جے پی کو 112؍اراکین اسمبلی کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے اپنے104 ؍اراکین ہیں ۔مزید8؍اراکین کی ضرورت ہے ۔کانگریس اور جے ڈی ایس اپنے اراکین کو آپریشن کنول کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے کئی تدابیر کررہے ہیں ۔ انہیں ایک ریسارٹ میں محفوظ رکھا گیا ہے ۔اس کے بعد آج صبح تین اراکین اسمبلی اپنی خراب صحت کا حوالہ دے کر ریسارٹ سے باہر نکل گئے ہیں ۔اس وقت کانگریس اور جے ڈی ایس کے منتخب اراکین اسمبلی نے اپنی پارٹی کو وفاداری کاثبوت دیتے ہوئے آخر تک پارٹی کے ساتھ ہی جمے رہے اور بی جے پی کی ایک سو کروڑ روپئے اور مرکزی وزیر کی پیشکش کی لالچ کا شکار نہیں ہوئے تو ایڈی یورپا صرف چنددنوں کے سلطان کہلائیں گے اور مجبوراً انہیں اپنا سنگھاسن چھوڑنا پڑے گا۔ اگر کانگریس اور جے ڈی ایس کے منتخب اراکین اسمبلی بی جے پی کے لالچ کے روبرو جھک کر دل بدلی کی اور ایوان میں بی جے پی کی تائید کردی اور دوبارہ اپنے حلقہ میں بی جے پی کی ٹکٹ پر چناؤلڑا تو حلقہ والوں کو ایسے موقع پرست اور مفاد پرست لیڈروں کو اس کامنہ توڑ جواب دینا چاہئے ۔ تب ہی ملک میں جمہوریت کا وقار بحال ہوگاورنہ اس طرح مفاد پرست لیڈر جمہوریت اور معصوم ووٹوں کی دھجیاں اڑائیں گے ۔جب چاہے تب اپنے مفاد کی خاطر دل بدلی کریں گے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: