سرورق / خبریں / حج اللہ سے خوشنودی اور انعام حاصل کرنے کا عمل ہے: مولانا اکبر شریف مولانا قاسم قریشی سہ روزہ حج تربیتی کیمپ رام نگرم کا دعا کے ساتھ اختتام –

حج اللہ سے خوشنودی اور انعام حاصل کرنے کا عمل ہے: مولانا اکبر شریف مولانا قاسم قریشی سہ روزہ حج تربیتی کیمپ رام نگرم کا دعا کے ساتھ اختتام –

رام نگرم:مسجد انصار، کمندان محلہ شہر رام نگر میں سہ روزہ مولانا محمد قاسم قریشی حج تربیتی کیمپ 8,7,6 جولائی منعقد ہوا۔ مقامی و بیرونی شہروں سے اس سال حج بیت اللہ شریف کوجانے والے احباب جوق در جوق کثیر تعداد میں تقریباً 3000 جملہ خواتین و حضرات اس حج تربیتی کیمپ میں شریک ہو کر تمام امور و فضائل حج سے مستفیض ہوئے۔ اس تربیتی کیمپ میں مشہور عالم دین حضرات نے بہت ہی ماہرانہ وعمدہ طریقہ سے ان حجاج کرام کی تربیت فرمائی۔ تمام ارکان حج کو عام فہم زبان میں ممکن حد تک آسانی سے عملی طور پر ان کی تربیت فرمائی۔اس حج کیمپ کا بروز جمعہ 6؍جولائی صبح 10؍بجے سے ہی آغاز ہوا۔دور دراز کے شہروں سے حجاج کرام کی آمد کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ ان تمام حجاج کرام کا شاندار استقبال کرتے ہوئے منتظمین نے ان کی رہائش، غذا، ہر طرح کی سہولتیں فراہم کیں۔ اس حج کیمپ میں خدام حضرات والینٹرس نے اپنی ذمہ داری بڑی حد تک نبھاتے ہوئے مہمانان حرم کا خیال رکھا۔ گزشتہ کی طرح اس سال بھی مستورات کیلئے اسی محلہ اور مسجد انصار کے قریب الحاج سید ضیاء اللہ کے مدرسہ میں بڑے شاندار طریقہ سے تمام تر سہولتوں کے ساتھ زنانہ خدام کی زیر نگرانی بہترین عمدہ انتظامات کئے گئے تھے۔وقفہ وقفہ تربیت کے دوران عمرہ، حج، آداب مکہ، مدینہ کا سفر، مدینہ میں تمام ارکان ادا کرنے کے بارے میں نہایت تفصیل سے مولانا اکبر شریف ندوی، مفتی طاہر قریشی، مفتی سعید قریشی، مولانا زین العابدین صاحب نے ان 3روزہ حج کیمپ میں اپنے علم و فن پیش کرتے ہوئے حجاج کرام کی رہنمائی کی۔اس حج تربیتی کیمپ میں مقامی حضرات بھی کثیر تعداد میں عازمین حج کی خدمت کرتے رہے۔ ان3دنوں میں پورے جوش و خروش سے لبیک کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ لبیک اللہ کی پسندیدہ پکار ہے۔ مولانا اکبر شریف نے ایک موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان لاکھ بھی مالدار ہو اس کا مال کام نہیں آئے گا۔ جب تک اللہ کی جانب سے حج کا بلاوا نہیں آئے گا۔ کوئی بھی اس کے حکم کے بغیر حج نہیں کرسکتا۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا دور بھی گزرا ہے۔ ان کے کئی باشاہ ہونے کے باوجود بھی حج کی سعادت سے محروم رہے۔ زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔ اسلام کے 5؍ بنیادی رکن میں حج ایک اہم فریضہ ہے۔ اگر ایک مسلمان ہر طرح کی سہولت مال و زر ہونے کے باوجود ہر قسم کی مالی استطاعت رکھنے کے باوجود بغیر حج کئے انتقال ہونے پر وہ نصرانی و یہودی کی طرح موت کے منہ میں جائے گا۔ اگر کسی شخص کے پاس شعبان کے مہینہ تک حج کے سفر کی دولت رقم جمع ہوگئی تو اس کو چاہئے کہ وہ فوراً قصد سفر حج کی تیاری شروع کردے۔ بقیہ جتنے بھی دنیاوی فرائض عائد ہوتے ہیں۔ وہ حج جیسے فریضہ کو ادا کرنے کے بعد پورا کرے۔ بیٹی کی بھائی کی شادی وغیرہ بعد میں کرلے۔ پہلے حج ادا کریں۔ کیونکہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ کیونکہ مسلمان آج کل شادی کے مسئلہ کو بڑا کٹھن بنادیا ہے۔ شادی بیاہ پر بے جا فضول رسم و رواج کو اپنا کرشادی کو ایک بڑا مسئلہ بنادیا ہے جسے پورا کرنے میں انسان خود پھنس گیا ہے۔ جوڑے جہیز کی لعنت میں ملوث ہوچکا ہے۔اسی طرح بغیر محرم کے مستورات حج نہیں کرسکتی،اپنے خون کے سگے رشتہ دار جیسے باپ، بھائی، ماموں ، چاچا وغیرہ کے ساتھ حج بیت اللہ پر تشریف لے جاسکتی ہیں۔ یہی قانون صدیوں سے ہمارے دین و اسلام میں رائج ہے۔ عورت عدت کے دن مکمل ہونے کے بعد ہی حج کرسکتی ہے۔ نوجوانی کے عالم میں حج کرنا بڑا ہی اچھا ہے۔اس سے حج میں جان آجاتی ہے۔ ہر ایک رکن، فضائل حج معلوم کر کے پوری تیاری کے ساتھ حج دار کرنا بڑا ہی قابل قدر کام ہے۔حج کا سفر ہار جیت کا سفر ہے۔ اللہ سے خوشنودی اور انعام حاصل کرنے کا عمل ہے۔ سب ارکان ٹھیک ہوئے تو انعامات نظر کرم اور پاک وصاف ہوکر وہاں سے آتا ہے۔ شرف قبولیت کا مقام ملتا ہے۔ اور اگر نیت نہ ہو، ارکان سیدھے طریقے سے ادا نہ ہوئے تو گناہوں کا بوجھ لے کر حاجی واپس آتا ہے۔ حج کو تجارت یا تفریح گاہ بنانے سے بچیں ،ایسے بھی حج سفر کے ایجنٹ پیدا ہوگئے ہیں جو حاجیوں کی خدمت کے بجائے نت نئے بکھیڑوں میں ڈال کر بھٹکا دیتے ہیں۔ چند ایسے لوگ اور علمائے کرام بھی ہیں جو صرف نام ،شہرت اور مفاد کیلئے برتری جتانے کیلئے حج کرتے ہیں۔ حج مقبول و مبرور کر کے اپنے وطن لوٹ آنے والے کا مقام ایسا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے پاک وصاف پیدا ہوا ہے ۔ ایسے لوگ بنا کسی گناہ کے صاف شفاف رمضان کے روزہ رکھ کر انتقال ہونے کے برابر ہے۔ ایسے حاجی اپنے ساتھ خاندان کے 400 لوگوں کی مغفرت کا حق رکھتے ہیں۔ حاجی جب سفر حج کے ارادے سے لبیک کہتا ہے تو فرشتہ اس کی لبیک پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا آنا مبارک کہتے ہیں، حاجی کا دل ہر طرح سے صاف ہونا چاہئے۔ جو لوگ اس سے کٹ کرہیں ان کے ساتھ جڑجاؤ، ظالموں کے ظلم کو معاف کردو، کسی بھکاری کو بر مت بولو، ایک معصوم بچے کے اخلاق کو اپناؤ، ساری دنیا سے مسلمان حج بیت اللہ کیلئے اللہ کے گھر تشریف لاتے ہیں۔ مختلف زبان والے، مختلف تہذیب والے مختلف رنگ و نسل کے لوگ آپ کو اللہ کے گھر میں ملیں گے۔ ان کو سلام پیش کرو، پھر ایسا ماحول آپ کو اتنے سارے مختلف لوگوں کا نہیں ملے گا۔ آپ کی نگاہ جب پہلی بار کعبۃ اللہ پر پڑے تو اللہ اکبر کہہ کر دعا کریں۔ حج میں ایک روحانیت پیدا ہوگی۔ حاجی اپنا حج کیسے کریں اس کی رہبری کیلئے کتاب ملے گی۔ اس سے فائدہ اٹھائیں حج کے دن قربانی دیتے وقت حضرت ابراہیمؑ کو ضرور یاد کریں۔ حج کا سب سے بہترین عمل کعبۃ اللہ کا طواف ہے۔ جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ کعبۃ اللہ کا طواف کرتے رہیں کیونکہ یہ امن کا گھر ہے۔ یہاں کے درخت یہاں کے پرندے سب امن کے ہیں۔ حج کے دوران مکہ شہر جو امن کا گھر ہے۔ہر حاجی اللہ کی حفاظت اور امن میں رہے گا۔ یہاں حضورؐ کے مقدس قدم اس شہر کے ہر جگہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس کعبۃ اللہ کے اطراف ہر وقت کئی لاکھ فرشتے طواف کرتے ہیں۔ اس مقدس گھر کااحترام بے حد ضروری ہے۔ حاجی صاحبان اپنے وطن توحید رسالت کے ساتھ اپنی نئی زندگی بنانے کی فکر لے کر آئیں۔ اگر کوئی مسلمان حج کرنے کے بعد بھی واپسی پر اپنی پرانی روش پر چلے گا تو اس کا حج بیکار ہوگا۔ اس لئے کچھ بن کر تشریف لاؤ، آج مسلمانوں کا سب سے بڑا شیطان موبائیل فون ہے۔ اس کوضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں۔جس وقت حاجیوں کا حج صحیح طریقہ سے پورا ہوگا۔ ان شاء اللہ اس دن دین پوری دنیا میں چھا جائے گا۔ حج کے دوران آدمؑ کی توبہ ،ہاجرہؑ کا مجاہدہ، ابرہیمؑ کی قربانی، حضور اکرمؐ کے اخلاق و کردار کو یاد رکھو، مدینہ تشریف لے جاؤ تو حضورؐ کے اخلاق و اوصاف ،حمیدہ اپنے اندر پیدا کرو، جب روضہ رسولؐ پر جاؤ تو گڑ گڑاکر روتے ہوئے دعا مانگو، تڑپ پیش کرو، مسلمانوں کی بھلائی ترقی امن و امان کیلئے حضورؐ کے دربار میں دعا کرو، کسی بھی نبی، پیغمبر کے زمانے میں کسی بھی شخص کو حاجی کا لقب نہیں ملا۔ صرف اور صرف امت محمدیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ حج کرنے کے بعد حاجی کا لقب لگائے۔ حاجی بننے کے لئے 33؍سال لگتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی زندگی میں نماز قائم کرو،اس حج کیمپ میں شہر سے جملہ 9؍ نکاح خوانی ہوئے۔ مولانا کی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اس حج کیمپ کا اختتام ہوا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بی ایس این ایل صارفین کو بہتر خدمت فراہم کرے۔ منی اپا

کولار۔ ٹیلی کمیونکیشن ، کولار ضلع صلاح بورڈ کے صدر ورکن پارلیمان کے ایچ منی …

جواب دیں

%d bloggers like this: