سرورق / بین اقوامی / رمضان کی برکت : ہندستان اور انڈونیشیا بین عقائد مکالمے پر راضی

رمضان کی برکت : ہندستان اور انڈونیشیا بین عقائد مکالمے پر راضی

جکارتہ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر جوکوویڈوڈو نے آج ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان بین عقائد مکالمے کے آغاز کا فیصلہ کیا جس کا مقصد مذہبی شناختو ں کے تعلق سے بہتر مفاہمت پیدا کرنا اور سخت گیریت ، دہشت گردی،تشدد اور انتہا پسندی کا قلع قمع کرنا ہے۔دونو ں رہنماؤں نے انڈونیشیا میں اسی سال اکتوبر میں بین عقائد مکالمے کی شروعات کا فیصلہ کیا۔ آئندہ سال ہندوستان میں بھی اسی نوعیت کی مجلس آراستہ کی جائے گی۔یہ فیصلہ سیاسی اور سیکورٹی کے شعبو ں میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور ہم آہنگی کا غماز ہے۔ وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد جاری ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کثرت کے نظم کے ذریعہ ہندوستان اور انڈونیشیا نے اس بات کا ادراک کیا ہے کہ بین عقائد مکالمہ امن اور معاشرتی ہم آہنگی کے علاوہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کی راہ آسان بنائے گا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بین عقاید مکالمہ مذہبی شناختو ں کے تعلق سے نئی مفاہمت سامنے لانے کے لیے دونوں ملکوں میں کہ مشترکہ عہد کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندستان اور انڈونیشیا کثرت پسندی ، رواداری ، قانون کی بالادستی اور پرامن بقائے باہم کی اقدار کے پاسدار ہیں۔
انڈونیشیا ہندوستان کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے۔دونوں رہنماؤں نے سخت گیریت کے خاتمے کی ضرورت اور پرامن کثرت پسندی کے فروغ کی اہمیت کو بھی محسوس کیا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہندستانی وزیر اعظم نریندر مودی انڈونیشیائی رہنماؤں کے ساتھ مسجد استقلال بھی گئے جو جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ مسٹر مودی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ دنیا کی عظیم ترین مساجد میں سے ایک مسجد استقلال کی زیارت کا انہیں موقع نصیب ہوا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: