سرورق / خبریں / رمضان : آخری عشرہ میں بازارکی رونق دوبالا جبکہ سیاسی افطار پارٹیوں کا بھی عروج

رمضان : آخری عشرہ میں بازارکی رونق دوبالا جبکہ سیاسی افطار پارٹیوں کا بھی عروج

ممبئی،  (یواین آئی ) ماہ رمضان کے آخری عشرے میں مانسون کی آمد کے ساتھ ساتھ بازاروں کی رونق دوبالا ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی افطارپارٹیوں کا دوردورہ شروع ہوچکا ہے ۔ان پارٹیوں پر تنازع بھی کھڑا ہوا ،حال میں آرایس ایس کے مسلم راشٹریہ منچ کے زیراہتمام سرکاری گیسٹ ہاﺅس سہیادری میں ہونے والی افطار پارٹی پر مسلمانوں میں شرکت یاعدم شرکت پر اختلاف رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ کئی مسلم شخصیات اور ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کوخصوصی طورپر کئی تنظیموں نے وارننگ دے دی تھی کہ وہ آرایس ایس کے مسلم منچ کے افطار میں شریک نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ چند عہدیداران اور بی جے پی لیڈران بشمول اندریش کمار4جون کے افطار میں مسلمانوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔سنگھ نے اب عیدملن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ جولائی یا اگست میں ہوگی۔
ابتدائی رمضان میں معروف تاجر اور اسلام جمخانہ کے چیئرمین ذکاءاللہ صدیقی نے شاندار افطارکا انعقاد کیا ،جس میں شہر کے سیاسی ،سماجی ،تعلیمی اور ثقافتی حلقوںسے تعلق رکھنے والے معززشہریوں نے شرکت کی ۔کانگریس نے گزشتہ اتوار کو جنوبی ممبئی کے حج ہاﺅس میں افطار کا انعقاد کیا ،جس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صدراور سابق ایم پی سنجے نروپم نے ملک کی ترقی اور اتحاد کے لیے سیکولر قوتوں کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ۔ افطار میں بڑی تعداد میں اہم شخصیات اور ورکرس شریک ہوئے ۔
این سی پی کے سربراہ شردپوار نے بدھ کو حج ہاﺅس میں روایتی افطار منعقد کیا اور انہوں نے آرایس ایس کی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعہ افطار پارٹی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آرایس ایس کا افطاردینا ،مقدس ماہ رمضان سے مذاق سے مترادف ہے ،کیونکہ جن کا نظریہ ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بناناہے اور انہیں تباہ کرنے کی بات کرنا ہے اگر وہ افطار دیتے ہیں تو یہ ایک مذاق ہی ہے۔اس درمیان بی جے پی اقلیتی مورچہ کے چیئرمین حیدراعظم نے بھی جمعرات کو حج ہاﺅس میں افطار کا انعقاد کیا جس میں وزیراعلیٰ فڑنویس سمیت سنیئر بی جے پی لیڈروںنے شرکت کی اور بڑی تعداد میں مسلم ورکرس اور شخصیات شریک رہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: