سرورق / خبریں / رفاہ تسکین کا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل

رفاہ تسکین کا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل

میسور, ( پیر پاشاہ )والدین اور خاندان کا نام روشن کرنے کے لئے صرف تعلیمی شعبہ واحد میدان نہیں ہے ۔چند بچے مختلف میدانوں میں اپنی خدا داد صلاحیتوں سے اپنے والدین کے نام کے ساتھ اپنے سارے خاندان اور قوم کا نام بھی روشن کرتے ہیں۔ ایسی ہی ہونہار اور بہادر کم سن بچیوں میں شہر میسور کی ایک کم سن 7سالہ لڑکی جو میسور کے اپنا گھر کے احاطے میں واقع ہد یٰ پبلک اسکول میں تیسری جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ صرف 7سال کی عمر میں مختلف پہیوں والی موٹر گاڑیاں چلاکر اپنا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرالیا ہے۔ 5نومبر 2017کو گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ کے افسروں نے میسور پہنچ کر کم سن 7سالہ رفاہ تسکین کا کارنامہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور اسکول کی تمام دستاویز کا جائزہ لیا اور سات سالہ رفاہ تسکین کا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا تھا۔ان افسروں کے روبرو رفاہ تسکین نے گیارہ پہیوں والی لاری چلاکر تما م کو حیرت میں ڈال دیا تھا ۔بروز جمعرات ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی دفتر میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر راہل گاندھی اور سابق صدر سونیا گاندھی نے گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ کا سرٹی فکیٹ بہت ہی کم عمر میں شاندار کارنامہ انجام دینے والی رفاہ تسکین کو پیش کیا۔ اس موقع پر رفاہ تسکین کے والد تاج الدین ، والدہ بی بی فاطمہ، اور بہن شفا صحر بھی موجود تھیں۔ اس سے پہلے رفاہ تسکین نے بروز جمعرات کانگریس کے سینئر قائد،رکن پارلیمان ویرپا موئیلی ، اور بروز چہارشنبہ ریاستی وزیر اعلیٰ ایچ ڈ ی کمار سوامی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں قائدین نے بھی کم سن رفاہ تسکین کے کارنامہ اور اس معصوم بچی کا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے پر بچی اور انکے والدین کو مبارکباد پیش کی اور ہر ممکنہ مدد کرنے کا وعدہ کیا۔نئی دہلی میں ان قائدین سے ملاقات کروانے میں میسور کے حلقہ چامراجہ کے سابق رکن اسمبلی و میسور کے سابق مئیر شری واسو اور کرناٹکا پردیش یوتھ کانگریس کے سابق صدر و یم یل سی رضوان ارشد نے رفاہ تسکین کے والدین تاج الدین و بی بی فاطمہ اور انکی بہن شفا صحر کے ساتھ بھر تعاون کیا اور ان قائدین سے ملاقات کروانے میں ایک اہم رول ادا کیا ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: