سرورق / خبریں / رافیل معاملے میں مودی اور سیتارمن نے ایوان کو گمراہ کیا: کانگریس

رافیل معاملے میں مودی اور سیتارمن نے ایوان کو گمراہ کیا: کانگریس

نئی دہلی، کانگریس نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاملے میں بڑا گھپلہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے ان قیمتوں کے بارے میں پارلیمنٹ اور ملک کو گمراہ کیا ہے اور ان کے خلاف مراعات شکنی کا معاملہ بنتا ہے۔
سابق وزیر دفاع اور کانگریس کے سینئر لیڈر اے کے انٹونی، سینئر لیڈر آنند شرما اور مواصلات محکمہ کے سربراہ رنديپ سنگھ سرجےوالا نے پیر کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ رافیل سودے میں بڑا گھپلہ ہوا ہے اور اس گھپلے کو چھپانے کے لئے وزیر اعظم اور دفاع وزیر پارلیمنٹ اور ملک کو گمراہ کر ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سودے کے سلسلے میں فرانس کے ساتھ 25 جنوری 2008 كو ہونے والے معاہدے میں رازداری کا بار بار حوالہ دیا جاتا ہے لیکن معاہدے میں طیاروں کی قیمت کو خفیہ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
مسٹر انٹونی نے کہا کہ معاہدے میں دفاعی سودوں میں خریدکی قیمتوں کو چھپانے کی بات کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ معاہدے میں ہتھیاروں کے تکنیکی اور صلاحیت سے متعلق تفصیلات کے انکشافات کی اجازت نہیں ہے لیکن ان کی قیمت بتانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
کانگریسی لیڈروں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے معاہدے میں رازداری کی بات کرکے غلط معلومات ملک کی پارلیمنٹ کو دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاہدے میں رازداری کے بارے میں بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا ہے ۔ یہ پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی معاملہ ہے اور مسٹر مودي اور محترمہ سیتا رمن کے خلاف اس سلسلے میں مراعات شکنی کی تجویز لانے پر کانگریس پارلیمانی پارٹی غور کرکے فیصلہ کرے گی۔
کانگریس کے رہنماؤں نے کہا کہ رافیل طیارے کی قیمت بتانے کے سلسلے میں فرانس کے ساتھ معاہدے کے تحت کسی بھی سطح پر رازداری کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے۔ وزیراعظم اور دفاع وزیر جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں اور ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ مودی حکومت اس معاہدے کے لئے قومی مفاد اور قومی سلامتی کے ساتھ معاہدہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رافیل طیارہ بنانے والی کمپنی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ان طیاروں کی قیمت کو ظاہر کیا ہے، اس کے مطابق سرکاری خزانے کو ان طیاروں کی خریداری میں 41 ہزار 205 کروڑ کا نقصان ہوا۔سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے 12 دسمبر، 2012 کو ان طیارون کے سلسلے میں جو معاہدہ کیا تھا اس کے تحت ایک طیارہ کی قیمت 526 کروڑ روپے تھی ۔
ترجمان نے الزام لگایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے فرانس کے دورے کے دوران لازمی عمل کے بغیر معاہدے کو منسوخ کر دیا اور اس کے بدلے اسی طیارے کو 1670.70 کروڑ روپے میں خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح سے 36 طیارے کی قیمت پر پہلے جہاں 18،940 کروڑ روپے کا خرچ آنا تھا ، وہیں مودی حکومت کے منمانے فیصلے کی وجہ سے 60145 کروڑ روپے پر پہنچ گیا ۔ اس طرح مودی حکومت نے ملک کے خزانے پر 41 ہزار 205 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قانون کے مطابق آڈیٹر جنرل اور پارلیمنٹ کے مجلس قائمہ کے سامنے کسی بھی سودے کی قیمت ظاہر کرنے کی پابند ہے۔ قانون میں التزام کے باوجود، مودی حکومت ان جہازوں کی قیمت ملک کو نہیں بتارہی ہے۔ اسے اس کا جواب دینا چاہئے۔
مسٹر سرجےوالا نے کہا کہ وزیر دفاع کے بیانوں سے اس سودے میں بڑا گھپلہ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ محترمہ سیتا رمن نے 17 نومبر 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دفاعی سکریٹری تمام 36 رافیل طیاروں کی قیمت بتا دیں گے، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ معاہدے میں رازداری کی شرط ہے اس لیئے ان طیاروں کی قیمت عام نہیں کی جا سکتی ہے۔
مسٹر سرجےوالا نے کہا کہ اس سے پہلے وزیر مملکت دفاع ڈاکٹر سبھاش بھامرے نے 18 نومبر 2016 کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ رافیل طیارے کی قیمت تقریبا 670 کروڑ روپے ہے۔ وزیر دفاع نے پھر 19 مارچ 2018 کو راجیہ سبھا میں ایک سوال پر ان طیاروں کی قیمت 670 کروڑ روپے بتائی ہے جبکہ طیارے بنانے والی کمپنی نے انکشاف کیا کہ طیاروں کی اصل قیمت 1670 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ دفاع وزیر اب اس سلسلے میں جھوٹ کیوں بول رہی ہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکومت نے بھی جہازوں کی قیمت ظاہر کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ آٹھ مارچ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مودی حکومت اگر طیاروں کی قیمت ظاہر کرنا چاہتی ہے تو وہ کر سکتی ہے۔ فرانس آج بھی کہنا ہے کہ جہاز کی قیمت ظاہر کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کی پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ہے اور پارلیمنٹ اور ملک کو گمراہ کیا ہے اور اس کے لئے ان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہے اور کانگریس اس پر غور کرے گی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: