سرورق / خبریں / رائے سین میں توپ کی آواز سے روزے دار کھولتے ہیں روزے –

رائے سین میں توپ کی آواز سے روزے دار کھولتے ہیں روزے –

رائے سین ، مدھیہ پردیش میں رائے سین کے رن بھومی میں کبھی دشمنوں کے چھکے چھڑانے والی توپ آج یہ روزےداروں کو روزہ شروع کرنے اور روزہ کھولنے کا پیغام دے رہی ہے۔
ضلع رائے سین میں مسلم سماج کے لوگ رائے سین قلعہ کی تاریخی پہاڑی پر رکھی ہوئی اس توپ کی آواز سن کر ہی روزا کھولتے ہیں۔ یہ روایت نوابوں کے دور حکومت سے ہی چلی آ رہی ہے جوکہ اب 200 سال پرانی ہوچکی ہے۔ اس توپ کی گونج تقریبا 30 گاؤں تک سنائی دیتی ہے۔ اس توپ کو برسوں سے ایک ہی خاندان کے لوگ چلاتے آ رہے ہیں۔
مسلم تہوار کمیٹی کے صدر انس خان نے ” یو این آئي” کو بتایا کہ یہاں رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطار کی اطلاع دینے کے لئے توپ چلائے جانے کی روایت ہے۔ قلعہ کی پہاڑی پر توپ چلا کر روزانہ روزہ کھولنے کی اطلاع دی جاتی ہے۔
وہیں اس توپ کو چلانے کے لئے باقاعدہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مسلم تيوهار کمیٹی کو ایک ماہ کا لائسنس بھی جاری کیا جاتا ہے۔ رمضان کے اختتام پر عید کے بعد توپ کی صفائی کر کے اسے سرکاری مال گودام میں جمع کر دیا جاتا ہے۔
توپ چلانے والے پپو خاں نے بتایا کہ ان کا خاندان ہی برسوں سے توپ چلاتا آ رہا ہے۔ وہ خود 15 سال سے توپ چلا رہا ہے۔ توپ چلانے کے لئے آدھے گھنٹے پہلے تیاری کرنا پڑتی ہے، تب کہیں جاکر وقت پر توپ کو چلانے کی تیاری مکمل ہو پاتی ہے۔ رمضان میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، لہذا اس کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔
ماہ رمضان کے دوران ہندو مسلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی منفرد مثال بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔یہاں علی الصباح وقت کی اطلاع دینے کے لئے سحری سے 2 گھنٹے پہلے روزہ داروں کو جگانے کے لئے نگاڑے بجائے جاتے ہیں۔
جس سے لوگ وقت سے پہلے تیاری کر سکیں۔ نگاڑے بجانے کی روایت بھی قدیم زمانے سے ہی چلی آ رہی ہے۔ شہر کا ہندو ونشكار پریوار اس کام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نگاڑے قلعہ کی فصیل سے بجائے جاتے ہیں۔ رات کے سناٹے میں ان کی آواز میلوں دور تک سنائی دیتی ہے۔ایک بار گولہ داغنے میں قریب 500 گرام بارود لگتا ہے جسے مکمل تحفظ کے ساتھ وہ چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں کشور والی مسجد سے مقررہ وقت پر روشنی کا اشارہ ملتا ہے اور وہ توپ سے گولہ داغ دیتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: