سرورق / خبریں / ذات کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کا قیام ملک کی قومی یکجہتی کیلئے خطرہ:رحمان خان

ذات کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کا قیام ملک کی قومی یکجہتی کیلئے خطرہ:رحمان خان

وجئے پور:24 ؍فروری(رفیع بھنڈاری)ذات پات کی بنیاد پر ملک میں سیاسی جماعتوں کا قیام قومی یکجہتی اور سالمیت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر راہل گاندھی کی جانب سے ممبئی- کرناٹک میں جن آشیرواد یاترا کے پیش نظر رکن پارلیمان جناب کے رحمان خان نے جب شہر وجئے پور پہنچے تو الامین میڈیکل کالج کے گیسٹ ہاؤز میں نامہ نگار سالار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا، انہوں نے اس خصوص میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان جیسے ایک سکیولر ، جمہوری ملک میں مسلمانوں کو چاہئے کہ مذہب کے نام پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل سے گریز کریں، اگر ایسے ہی مذہب کے نام پر سیاسی جماعتیں بنتی رہیں گی تو ہندوتان چمن نہیں کہلائے گا، جناب رحمان خان نے بتایا کہ ہندوستان کی تاریخ میں آج تک کیرلا کو چھوڑ کر کہیں بھی مذہب کے نام پر سیاسی جماعتیں کامیابی حاصل نہیں کرسکیں، جبکہ ہر ہندوستانی کا فرض بنتا ہے کہ ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے سکیولرزم کی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کرے اور ہر ہندوستانی کے خیالات کا سکیولر ہونا ضروری ولازمی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے، اور ناانصافیاں ہورہی ہیں، جو ایک قدرتی مظہر ہے، جس کے لئے مسلمانوں کو اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے فسطائی طاقتوں اور ذہن رکھنے والوں کے خلاف صف آراء ہونا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، جناب خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے واضح طور پر بتایا کہ ملک کے موجودہ جمہوری نظام میں مسلمانوں کو چاہئے کہ ہمارے جائز مطالبات کو حاصل کرنے کے لئے خصوصی طور پر تعلیمی ، معاشی اور سماجی طور پر آگے آنے کیلئے ہمیں خاموش منظم طریقہ سے جد وجہد کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ غیر ضروری معاملات میں جذباتی طور پر الجھ کر معاملات کو بگڑنے دیں، انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے لئے جمہوریت ایک بہترین ہتھیار ہے، اس طاقت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت سنجیدگی کے ساتھ نہ صرف تعلیمی، معاشی، اور سماجی میدانوں میں بلکہ سیاسی میدان میں بھی اپنا لوہا منایا جاسکتا ہے، انہوں نے بتایا کہ مسلم عوام معصوم ہیں مذہب کے نام پر جذبات میں آکر ہماری جمہوری طاقت کو رائیگاں جانے مت دیں، کیونکہ ہماری قوم وملت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ چند سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو جذبات بناکر خسارہ میں مبتلا کررہے ہیں، ایسی جماعتوں سے مسلمانوں کو جذباتی بناکر خسارہ میں مبتلا کررہے ہیں،ایسی جماعتوں سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، ایک سوال کے جواب میں خان صاحب نے بتایا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر وجود میں آئے ہوئے مذہب کے نام پر چند سیاسی جماعتوں سے نمٹنے کے لئے ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک عام مسلمانوں سے لے کر علماء کرام کو تک چوکنا ہوکر اپنی اپنی فرض شناسی کا ثبوت دینا ہے، ورنہ معاملات بگڑ جائیں گے تو غیر مسلموں کے رد عمل سے ہمیں لینے کے دینے پڑسکتے ہیں، انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ ریاست میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں جہاں کہیں بھی مسلمان جیت کر آئے آسکتے ہیں کانگریس میں ایسے مسلم رہنماؤں کو پارٹی ٹکٹ کے لئے سفارش کی جائے گی، ایک سوال کے جواب میں خان صاحب نے واضح طور پر بتایا کہ پارٹی جو بھی کام میرے سے لینا چاہتی ہے سنجیدگی کے ساتھ انجام دوں گا، اور ماضی میں انجام دیتا آیا ہوں، قبل ازیں رحمان خان صاحب کے یہاں آمد پر مقامی کانگریس رہنما اور ورکرس نے پرتپاک خیر مقدم کیا، الامین چاری ٹیبل فنڈ ٹرسٹ کے نائب صدر کی حیثیت سے رحمان خان صاحب نے الامین طبی اداروں کا معائنہ کیا، اور تدریس وغیر تدریسی عملہ وڈاکٹروں سے خطاب کیا۔اس موقع پرکالج کے ڈین مسلم دھنڈ شی اور ٹرسٹی ریاض فاروق موجود رہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: