سرورق / خبریں / خطروں میں گھری ردی چننے والوں کی زندگی : ایک غیر سرکاری تنظیم کے فلاحی اقدامات –

خطروں میں گھری ردی چننے والوں کی زندگی : ایک غیر سرکاری تنظیم کے فلاحی اقدامات –

بنگلور۔پچھلے سال مغربی بنگال کا شہری پچیس سالہ ردی چننے والا متھن رائے اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب شمالی بنگلور کے باگلور سے قریب بیلا ہلی میں کچرا نکاسی کے مقام پر بی بی ایم پی کی گاڑی نے اس پر ہزاروں ٹن کچرا انڈیل دیا تھا۔متھن عام طور پر چھوٹے چھوٹے کوڑا دانوں میں دوبارہ استعمال کے قابل اشیاء کو تلاش کرکے چنتا تھا اور انہیں مختلف کارخانوں میں فروخت کر دیتا جس کے ذریعہ بڑی مشکل سے اسے دن کی دو روٹیاں میسر آتی تھیں، متھن کا معاملہ اگرچہ کہ کمیاب ہے،مگرشہر میں موجود تقریباً پچیس ہزار ردی چننے والوں کی حالت زار کچھ بہتر نہیں ہے۔پچیس سالہ سوگندھی اپنے دن کا آغاز صبح پانچ بجے کرتی ہے اور بی بی ایم پی کی سواریاں آنے سے قبل کوڑا دانوں میں جا کر قابل استعمال اشیاء تلاش کرتی ہے، تحفظ کے کسی سامان، شناختی دستاویزات یا یونیفارم کے بغیر علاقہ کے مکین اکثر اس پر شک کرتے ہیں اور اسی لئے پولیس اس کو بعض مقامات کی طرف جانے سے بھی روکتی ہے۔لیکن کوڑا دانوں پر اس کا جانا ضروری ہے کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا روزگار نہیں ہے،روزانہ کی تھکادینے والی محنت اور کچرا چننے کے بعد اسے ایک سو تا دو سو روپئے ہی مل پاتے ہیں۔اسی طرح کا کام انجام دینے والا اور وہی آمدنی کا حامل 28 سالہ منجنا کا کہنا ہے کہ’’اس کام کے ساتھ ہی بیماریاں لگی رہتی ہیں اور میں اکثر بیمار پڑ جاتا ہوں، اس پر مزید یہ کہ پولیس والے میری شناخت کو لے کر اکثر مجھے پریشان کرتے رہتے ہیں‘‘۔کے سی جنرل اسپتال کے ڈاکٹر ایچ روی کمار کا کہنا ہے کہ، حفاظتی آلات جیسے ہاتھوں کے دستانے، پیروں کے جوتے اور چہرے کا ماسک وغیرہ کی عدم موجودگی میں ان ردی چننے والوں کو ٹی بی جیسی وبائی بیماریوں کاشکار ہونے کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ان ردی چننے والوں کو کوئی کسی طرح کا زخم آجاتا ہے تو بیماریوں کے لگنے کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔شہر کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق انہوں نے شہر کے تقریباً دس ہزار ردی چننے والوں کو دوسرے بہتر کاموں میں منتقل کر دیا ہے جہاں، کچرے میں سے دوبارہ قابل استعمال اشیاء کو پہچاننے کی ان کی صلاحیت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ان کاموں میں انہیں بہتر کام کا ماحول اور اچھی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ہسیرو دلا (سبز دستہ) نامی غیر سرکاری تنظیم نے موجودہ صورت میں اس کام کو روکنے کے لئے بے شمار اقدامات کئے ہیں اور بعض مواقع پر ریاستی حکومت کے ساتھ بھی اشتراک کیا ہے۔دیگر اور اقدامات کے ساتھ ہی اس تنظیم نے شہر کے مختلف رہائشی علاقوں میں ان ردی چننے والوں کی بڑی تعداد ،تقریباً سات ہزار افراد کو ، کچرے کے انتظامی مراکز میں ملازمت فراہم کرائی ہے اور ان لوگوں کو شناختی دستاویزات بھی دئے گئے ہیں۔ہسیرو دلا کی بانی نلینی شیکھر نے بتایا کہ اس تنظیم کا ایک نیا طریقہ یہ بھی ہے کہ ان ردی چننے والوں کو ان کے گھروں میں کھمبی (مشروم) کی کاشت کرنے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، اس لئے کہ یہ لحمیہ (پروٹین) کے حصول کا سستا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ’’شہر میں تقریباً پچیس ہزار ردی چننے والے ہیں اور ہم نے ان میں سے صرف دس ہزار سے رابطہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں اور بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات میں اس میدان میں کام کی ضرورت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ شہر کے راستوں کو کچرے سے پاک کرنے کے کئی منصوبے حکومت کی جانب سے نافذ کئے جا رہے ہیں اور یہ صورت حال ان لوگوں کے لئے بہت پریشان کن ثابت ہوگی‘‘۔متھن رائے کی موت کا ذکر کرتے ہوئے نلنی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات دوسرے شہروں میں بھی پیش آئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ کچرے کی نکاسی کے سلسلہ میں دوسرا طریقہ کار اختیارکرنے کی ضرورت ہے ، جن مقامات پر کارپوریشن کی سواریاں کچرا جمع کرتی ہیں وہاں پہنچنے کے بعد یا تو تھوڑی دیر انتظار کرکے اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ اس مقام پر کوئی موجود تو نہیں ہے یا پھر تھوڑا سا کچرا باہر کسی مخصوص مقام پر گرایا جانا چاہئے جہاں یہ ردی چننے والے اپنے مقصد کی چیزیں اس میں سے بغیر کسی خطرہ کے تلاش کر سکیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: