سرورق / خبریں / حکومت نجی اگریکلچر یونیورسٹیوں کیلئے منظوری نہ دے۔احتجاجی طلبا

حکومت نجی اگریکلچر یونیورسٹیوں کیلئے منظوری نہ دے۔احتجاجی طلبا

بنگلورو۔ اگریکلچریونیورسٹی 1963ء ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے نجی اگریکلچر کالجوں کو منظوری نہ دینے کی مانگ کو لے کر آج اگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر یونیورسٹی کے طلبا نے شہر میں احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیا۔ سٹی ریلوے اسٹیشن سے فریڈم پارک تک احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے طلبا نے کہاکہ ریاستی حکومت نے نجی اگریکلچر کالجوں کو منظوری دینے کا فیصلہ کیاہے ۔ حکومت کا یہ اقدام غیر معنی اور حکومت کا یہ فیصلہ غلط ہے ۔اس سے طلبا کو کافی پریشانی کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔احتجاجی طلبا نے بتایاکہ حکومت نے 2016 کے دوران اگریکلچر کالجوں کو قائم کرنے کے لئے اپنی منظوری دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت سے اپنے اس فیصلہ کو فوری منسوخ کرنے کی مانگ کی۔انہوں نے بتایا کہ رئی یونیورسٹی نے ڈوڈبالا پور میں منظوری حاصل کرتے ہوئے یہاں کالج شروع کیا ہے ۔ مذکورہ یونیورسٹی انڈین اگریکلچر ریسرچ بورڈ اور اگریکلچر یونیورسٹی سے منظوری حاصل کئے بغیر چلائی جارہی ہے۔یہاں کی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں کئی مرتبہ شکایتیں درج کروانے کے باوجود کوئی اقدام ابھی تک نہیں ہوپایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رئی یونیورسٹی سے اپنی اگریکلچرڈگری حاصل کئے طلبا کا مستقبل دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ اس لئے اگریکلچر یونیورسٹی قوانین میں فوری ترمیم کرتے ہوئے نجی اگریکلچر کالجوں کو منظوری ہرگز نہ دیں ۔اس کے علاوہ احتجاجی طلبا نے اس بات کی بھی مانگ کی کہ حکومت نجی اگریکلچر یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے ہرگز منظوری نہ دے۔ انہوں نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ موجودہ نجی اگریکلچر کالجوں کو بند کیا جائے ۔ ہر سال اگریکلچر کالجو ں میں خالی عہدوں کو پر کیا جانا چاہئے ۔احتجاجی ریلی کے دوران پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: