سرورق / بین اقوامی / حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو ہلاک کرنے کی سازش میں ایرانی سفارتکار گرفتار –

حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو ہلاک کرنے کی سازش میں ایرانی سفارتکار گرفتار –

برلن ، ایک طرف ایران جہاں امریکی پابندیوں اور گھریلو احتجاج و مظاہروں سے دوچار ہے ،وہیں اب ایک سفارتکار کی گرفتار ی سے اسے کی پریشانیاں دو چند ہوگئی ہیں ۔ جرمنی کی پولیس نے حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے ایرانی سیاستدانوں کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے پر ایرانی سفارتکار کو حراست میں لیا ہے جبکہ آسٹریا نے ایرانی سفارت کار کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کر رہا ہے۔ ایرانی سفارتکار ویانا میں ایرانی سفار خانے میں تعینات ہے۔شبہ ہے کہ ایرانی سفارتکار فرانس میں جلا وطنی کاٹنے والے حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے ایرانی سیاست دانوں کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔آسٹریا کے حکام نے بم دھماکے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں ایرانی سفارت کار اور دیگر دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔
تہران نے اس قسم کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق یہ سفارتی تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر حسن روحانی جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے بدھ کو آسٹریا آ رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایرانی سفارت کار کے علاوہ بیلجیئم کی شہریت رکھنے والے جوڑے کو بروسیلز سے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ دونوں شوہر اور بیوی ایرانی نژاد ہیں۔ جبکہ پولیس نے ایرانی سفارتکار اسد اللہ اے کو جرمنی سے گرفتار کیا گیا ہے وہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایرانی سفارتخانے میں تعینات ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان باہرم قاسمی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایران کے پاس یہ شواہد موجود ہیں کہ اس حملے کی منصوبہ بندی میں دہشت گرد تنظیم ملوث ہیں۔
ایران میں حزب مخالف کی جماعت قومی مزاحمتی کونسل نے گذشتہ ہفتے پیرس میں ایک ریلی منعقد کی تھی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں ’ہزاروں افراد‘ نے شرکت کی تھی۔ ریلی کے دن بیلجیئم کی پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا۔ ان کے پاس آدھا کلو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر برآمد ہوا جس سے مبینہ بم دھماکے کی منصوبہ بندی کا پتہ چلا۔ اس جوڑے کی گرفتاری کا اعلان پیر کو کیا گیا۔ایرانی سفارتکار سفارتکار اسد اللہ اے کو جرمنی سے گرفتار کیا گیا۔ ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ویانا میں اینٹلیجنس یونٹ کے سربراہ ہیں۔ قومی مزاحمتی کونسل کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی میں ایرانی حکومت شامل ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ‘گروہ کے اراکین’ خود اپنے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کا ڈرامہ رچا رہے ہیں تاکہ ایران کو بدنام کیا جا سکے اور اس کا جوہری معاہدہ ختم ہو جائے۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوروپی ممالک کے اصرار کے باوجود ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ ایرانی حکام کی کوشش ہے کہ یوروپ اور باقی ممالک اس معاہدے کو برقرار رکھیں۔ آسٹریا نے ایران سے کہا ہے کہ اسد اللہ کا سفارتکار کا درجہ ختم کریں لیکن آسٹریا خود بھی سفارتی استثنیٰ ختم کر سکتا ہے۔ اس بات قوی امکان ہے کہ آسٹریا خود گرفتار ایرانی سفارت کار کا سفارتی کاری کا درجہ ختم کر دے اور انھیں حاصل استثنیٰ اگلے دو دن میں ختم کردیا جائے گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: