سرورق / خبریں / حج ہاؤز کو ’’ کرناٹک حج گھر‘‘ کے نام سے منسوب کیا جائے ریاستی وزیر برائے حج ضمیر احمد خان کومیسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین سید حفیظ اللہ کا مشورہ –

حج ہاؤز کو ’’ کرناٹک حج گھر‘‘ کے نام سے منسوب کیا جائے ریاستی وزیر برائے حج ضمیر احمد خان کومیسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین سید حفیظ اللہ کا مشورہ –

میسور :میسور میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے سید حفیظ اللہ سابق چیرمین میسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بی زیڈ ضمیر احمد خان ریاستی وزیر اوقاف نے یہ اعلان کیا تھا کہ بنگلور میں تعمیر شدہ حج ہاؤز کو جنگ آزادی کے اولین مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ اس سے ضمیر احمد خان کی حضرت ٹیپو سلطا ن شہید ؒ کے ساتھ گہری عقیدت و محبت کا اظہار ہوتا ہے۔فی الوقت حالات سازگار نہیں ہیں اور سارے ملک میں فرقہ پرستی کی لہر چل رہی ہے اور فرقہ پرست طاقتیں اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفر ت کے بیچ بو نے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس ملک کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اور سیاسی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے جس سے فرقہ پرستوں کو سیاسی فائدہ ہو۔ سال2019میں منعقدہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے ان فرقہ پرست قوتوں نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے تاکہ ایک بار پھر پوری طاقت کے ساتھ مرکزپر قابض ہوجائیں۔ اس کے لئے انہوں نے ایک حکمت عملی بھی تیار کرلی ہے۔ اقلیتوں کو تنہا کرکے اسکے مقابل ہندو ووٹ بینک کو ایک طرف یکجا کیا جائے۔ اس کے لئے ملک کی ہر ریاست میں متعلقہ ریاست کی مناسبت سے مسلمانوں کے خلاف مسائل کو یکجاکیا جارہا ہے۔ تاکہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اسے ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ حج گھر کو حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کے نام سے موسوم کرنے کو ہی لے کر ریاست کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر آنے والے لوک سبھا انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ ریاست کا نام سب سے پہلے ’’کرناٹک ‘‘ رکھنے والے مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ ہی تھے جو اپنی زندگی میں اپنے والد بزرگوار نواب حیدر علی خان بہادر ؒ کی وفات کے بعد مقبرہ گنبد شاہی ، سری رنگا پٹن میں جنوبی دروازے پر اپنے والد کو کرناٹک کا سپوت لکھ کر اس ریاست کے نام کا اعلان کردیا تھا۔ لہٰذابی زیڈ ضمیر احمد خان سے گزارش ہے کہ ’’حج گھر ‘‘کو ’’کرناٹک حج گھر‘‘کے نام سے موسوم کرکے اس کا اعلان کردیا جائے جس سے اس ریاست کے ساڑھے چھ کروڑ عوام بھی خوش ہوجائیں گے اور فرقہ پرست طاقتوں کی سیاست بھی دم توڑ دے گی۔ یہی سیاسی دور اندیشی ہے اور عقلمندی ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: