سرورق / بین اقوامی / جوہری تنازع پر پانچ عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے پھر تیار –

جوہری تنازع پر پانچ عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے پھر تیار –

تہران ، تہران اور ماسکو نے کہا ہے کہ ایران اور دیگر 5 ممالک کے وزراخارجہ آسٹریا میں تنازع کے شکار جوہری معاہدے 2015 کے حوالے سے ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اتحادی ممالک کی تجاویز اور مشوروں کو رد کرتے ہوئے 8 مئی کو ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدہ منسوخ کردیا تھا جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور حکومت میں 2015 میں دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے مابین طے پایا تھا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں برس امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد یہ پہلی ملاقات ہو گی جس میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے سفیر آسٹریا کے شہر ونایا میں ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف سے تبادلہ خیال کریں گے۔
ایرانی نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق ایران کو جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کے لیے یوروپی یونین کی جانب سے پیش کردہ ’پیکج‘ پر بات چیت ہوگی۔ اس حوالہ سے بتایا گیا’ ’امریکہ کی جانب سے غیرقانونی طریقے سے معاہدے سے دستبرداری کے بعد اجلاس میں جوہری ہتھیار سے متعلق ممکنہ حل کے امور زیر بحث آئیں گے‘‘۔
دوسری جانب ماسکو میں نائب وزیر خارجہ نے روسی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وینا میں اجلاس کا مقصد ’’معاہدے کو اس کی اصل شکل میں جاری رکھنا اور اقصادی ممالک کے مفاد کا تحفظ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اجلاس کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتائیں گے کہ معاہدے سے متعلق ایران اور امریکہ کے موقف میں کتنا فرق ہے‘‘۔
واضح رہے کہ جمعہ کو متوقع اجلاس کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی صدر حسن روحانی نے یوروپ سے معاہدے کے حق میں مدد طلب کی تھی۔ حسن روحانی وزیر خارجہ کے ہمراہ سوئزرلینڈ میں موجود ہیں تاکہ ادھر سے ویانا جا سکیں جہاں 2015 میں جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نے دو ماہ قبل ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کر دیا تھا اور دیگر ممالک پر بھی زور دیا تاہم یوروپی یونین نے معاہدہ کو جاری کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ دوسری جانب ایران نے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ برقرار نہیں رکھا گیا تو وہ یورنیم کی افزودگی 20 فیصد سے زائد بڑھا دے گاجو معاہدے کے خلاف کھلی ورزی ہو گی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: