سرورق / خبریں / جنوبی کشمیر کے کولگام میں مسلح تصادم، 3 جنگجو ہلاک

جنوبی کشمیر کے کولگام میں مسلح تصادم، 3 جنگجو ہلاک

سری نگر ، جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھڈونی میں اتوار کی صبح جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے ایک مسلح تصادم میں تین جنگجو مارے گئے۔ مسلح تصادم میں ایک فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجو ٹرینی پولیس کانسٹیبل محمد سلیم شاہ کو اغوا اور قتل کرنے میں ملوث تھے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کھڈونی میں تین جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف ضلع کے کچھ علاقوں میں مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسزکے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔انتظامیہ نے احتیاطی طور پر کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادی ہیں۔ اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر اور صوبہ جموں کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر چلنے والی ریل خدمات کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کھڈونی چوک میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے اتوار کی صبح مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔
انتظامیہ نے احتیاطی طور پر کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادی ہیں۔ اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر اور صوبہ جموں کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر چلنے والی ریل خدمات کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کھڈونی چوک میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے اتوار کی صبح مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا ’تلاشی آپریشن کے دوران ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا۔
سیکورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے بعد طرفین کے مابین مسلح تصادم شروع ہوا‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسلح تصادم میں تین جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’مسلح تصادم کے مقام سے تین جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ وہاں سے اسلحہ وگولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے‘۔ ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجو ٹرینی پولیس کانسٹیبل محمد سلیم کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔
کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا ’کانسٹیبل سلیم کے اغوا اور قتل میں ملوث جنگجوؤں کو کھڈونی کولگام میں ہونے والے ایک مسلح تصادم میں ہلاک کیا گیا‘۔ پولیس سربراہ ایس پی وید نے ٹویٹ میں کہا ’جنگجوؤں کا گروپ جس نے ہمارے ساتھی کانسٹیبل محمد سلیم کو ٹارچر کے بعد بے دردی سے ہلاک کیا، کھڈونی کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسے ہوئے ہیں‘۔
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ’مسلح تصادم کے مقام سے تین جنگجوؤں کی لاشیں اور تین ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں‘۔ اس دوران ریاستی پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں پولیس کے ترجمان نے کہا کہ مارے گئے جنگجو پولیس کانسٹیبل محمد سلیم کے اغوا اور قتل معاملے کے کلیدی ملزم تھے۔ انہوں نے کہا ’پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک جنگجو لشکرطیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستہ تھے‘۔
پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے 2 اے کے رائفلیں اور ایک کاربائن برآمد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ’مسلح تصادم کے مقام سے کچھ اسلحہ وبارود بشمول دو اے کے 47 رائفلیں اور ایک کاربائن برآمد کی گئی ہیں‘۔ واضح رہے کہ جنگجوؤں کے ایک گروپ نے ہفتہ کے روز متل ہامہ کولگام کے رہنے والے ٹرینی پولیس کانسٹیبل سلیم احمد شاہ کو اغوا کے بعد ہلاک کردیا ۔ سلیم کی لاش ہفتہ کو سہ پہر کے وقت کیموہ کولگام سے برآمد کی گئی۔
کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر کہا گیا تھا ’جنگجوؤں نے کولگام میں ہمارے ساتھی سلیم احمد شاہ کو اغوا کے بعد ہلاک کیا۔ ہم اس بزدلانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم مہلوک پولیس کانسٹیبل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں مہلوک اہلکار کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔ محمد سلیم صوبہ جموں کے ضلع کٹھوعہ میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت تھا۔ وہ چھٹی پر گھر آیا تھا۔ محمد سلیم پہلے محکمہ پولیس میں سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) کی حیثیت سے کام کررہا تھا۔ اسے حال ہی میں پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے ترقی دی گئی تھی۔ جنگجوؤں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کردی ہے جس میں محمد سلیم کو ٹارچر کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ سیکورٹی فورسز کے لئے مخبری کرتا تھا۔ محمد سلیم گذشتہ قریب 40 دنوں کے دوران جنوبی کشمیر میں اغوا کے بعد ہلاک کئے جانے والے تیسرے سیکورٹی فورس اہلکار بن چکے ہیں۔ 6 جولائی کو ضلع شوپیان میں جنگجوؤں نے ریاستی پولیس کے ایک اہلکار کو اغوا کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔ مہلوک پولیس کانسٹیبل کی شناخت ویہل شوپیان کے رہنے والے جاوید احمد ڈار ولد عبدالحمید ڈار کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ اس سے قبل فوجی اہلکار اورنگ زیب کو جنگجوؤں نے 14 جون کو ضلع پلوامہ میں اغوا کیا تھا۔ اس کی گولیوں سے چھلنی لاش رات دیر گئے گوسو نامی گاؤں سے برآمد ہوئی تھی۔ 4 جیک لی سے وابستہ اورنگزیب شوپیان میں قائم 44 آر آر کے کیمپ میں تعینات تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: