سرورق / خبریں / جنوبی کشمیر مسلح تصادم، تیسرا مہلوک جنگجو حیدرآبادی نوجوان ’محمد توفیق‘ تھا: انصار غزوۃ الہند کا دعویٰ-

جنوبی کشمیر مسلح تصادم، تیسرا مہلوک جنگجو حیدرآبادی نوجوان ’محمد توفیق‘ تھا: انصار غزوۃ الہند کا دعویٰ-

سری نگر ، القاعدہ کی ذیلی تنظیم انصار غزوۃ الہند نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 اور 12 مارچ کی درمیانی رات کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ہاکورہ میں ہونے والے مسلح تصادم میں جاں بحق ہونے والے تیسرے جنگجو کا تعلق بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد سے تھا۔
غزوۃ الہند جس کی قیادت تیس سالہ کشمیری جنگجو ذاکر رشید بٹ عرف ذاکر موسیٰ کررہے ہیں، نے مذکورہ مہلوک جنگجو کی شناخت محمد توفیق کے بطور کرلی ہے۔ بتادیں کہ 11 اور 12 مارچ کی درمیانی رات کو اننت ناگ کے ہاکورہ میں ایک مسلح تصادم ہوا جس میں تین جنگجو مارے گئے۔ ان میں سے دو کی شناخت عیسیٰ فاضلی ساکنہ احمد نگر صورہ سری نگر اور سید اویس شفیع ساکنہ گوہن ککرناگ اننت ناگ کے بطور ہوئی تھی، تاہم تیسرے جنگجو کے بارے میں پولیس نے بتایا تھا کہ وہ بظاہر’غیرملکی‘ ہے۔ اسے شمالی کشمیر کے اوڑی میں غیرملکی جنگجوؤں کے لئے مخصوص قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔
دونوں عیسیٰ اور اویس جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل انجینئرنگ پڑھ رہے تھے۔ ہاکورہ میں مسلح تصادم کے دو روز بعد سوشل میڈیا پر انصار غزوۃالہند کا ایک مبینہ پمفلٹ نمودار ہوا جس میں عدم شناخت تیسرے جنگجو کی شناخت حیدرآباد کے رہائشی محمد توفیق کے بطور کی گئی۔ ’النصر‘ نام کے ساتھ شائع ہونے والے اس پمفلٹ میں کہا گیا ’محمد توفیق جنوبی کشمیر کے علاقے اسلام آباد (اننت ناگ) میں 12 مارچ 2018 کی صبح ایک معرکے میں دو ساتھیوں عیسیٰ فاضلی اور سید اویس کے ساتھ شہید ہوگئے۔ آپ افغان مجاہد اور فاتح ہند محمود غزنوی کے ورثاء تھے‘۔ اس میں کہا گیا ’شریعت اور شہادت کی پکار کو لبیک کہتے ہوئے ہندوستان کے حیدرآباد سے محمد توفیق نے 2017 میں کشمیر کے کوہساروں کی طرف ہجرت کرکے اپنا جہادی سفر شروع کیا اور انصار غزوۃ الہند کے پہلے صفوں میں شامل ہوگئے‘۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے’دور جدید میں محمد توفیق ہند سے کشمیر کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے مجاہد بنے اور شروع سے ہی دعوت و تبلیغ میں شرکت کی۔ آپ کا جہادی نام سلطان ذابل الہندی اور ابو ذر الہندی تھا‘۔ اس میں کہا گیا ہے ’ہم آپ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محمد توفیق ایک اعلیٰ صفت اور مومن مزاج مجاہد تھا‘۔
مذکورہ پمفلٹ جس میں پمفلٹ نمبر، مہینے کا نام اور انصار غزوۃ الہند کا نام ایک الگ حصے پر تحریر ہے، میں کہا گیا ہے ’انصار غزوۃ الہند محمد توفیق، عیسیٰ فاضلی اور سید اویس کے والدین کو ان کے بیٹوں کی عظیم شہادت پر مبارکباد دیتی ہے اور ان سے صبر اور دعا کی درخواست کرتی ہے‘۔
قابل ذکر ہے کہ ذاکر موسیٰ کو گذشتہ برس کے وسط میں عالمی شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ نے ’کشمیر لنک‘کا سربراہ منتخب کیا۔ اس حوالے سے برطانوی اخبار دی گارڈین میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں القاعدہ سے وابستہ پروپیگنڈہ نیٹ ورک گلوبل اسلامک میڈیا فرنٹ نے اعلان کیا تھا کہ ذاکر موسیٰ القاعدہ کی ’انصار غزوۃ الہند ‘ نامی سیل کی قیادت کریں گے۔ تیس سالہ ذاکر اس سے قبل حزب المجاہدین کے کمانڈر اور اس کے مہلوک کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھی تھے۔
ذاکر موسیٰ نے گذشتہ برس مئی میں ایک آڈیو بیان میں کہا تھا کہ ’وہ کشمیر میں شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہے ہیں اور جو علیحدگی پسند راہنما اس راہ میں کانٹا بنیں گے، اُن کو لال چوک میں لٹکایا جائے گا‘، تاہم اس بیان پر چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد ذاکر نے ایک اور آڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ’لال چوک میں لٹکانے‘ کی بات علیحدگی پسند راہنماؤں کے لئے نہیں کہی تھی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: