سرورق / خبریں / جنوبی بنگلور میں نشہ بازوں کا اڈہ خوبصورت پارک میں تبدیل-

جنوبی بنگلور میں نشہ بازوں کا اڈہ خوبصورت پارک میں تبدیل-

بنگلور، 24 ؍ فروری(ف ن) دیڑھ ایکڑ کا کوڑا دان، جہاں آٹھ سال قبل ایک لاش کچرے میں دفن ملی تھی، اب ایک خوب صورت ’’اسٹون پارک‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔آپ سوال کریں گے کہ یہ سب کیونکر ہو گیا؟ اس تبدیلی کی شروعات ایک سال قبل ہوئی تھی۔مقامی بی بی ایم پی کارپوریٹر رام موہن راجو سی آر نے علاقہ کے ایک فکر مند شہری کی طرف سے اس کوڑا دان کے بارے میں شکایت حاصل کی تھی۔70 سالہ وی ایس مورتی جو اسی محلہ میں سالوں سے رہتے آئے ہیں ، کوئی ایسا وقت یاد نہیں کر سکتے جب انہوں نے اس جگہ کو کوڑا کرکٹ سے پاک دیکھا ہو۔دیورا چکنا ہلی، وارڈ نمبر 174 کے مکین اس کوڑا دان کی بد بو ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس جگہ کی چوروں اور نشہ بازوں کا اڈہ ہونے کی حیثیت سے شہرت کی بنا پر پھر اس سے دور ہی رہتے تھے۔جب علاقہ کے کارپوریٹر شکایت حاصل ہونے کے بعد اس جگہ کا معائنہ کرنے کے لئے پہنچے تو انہیں نے دیکھا کہ یہ جگہ ایک پہاڑی پر واقع ہے، کارپوریٹر نے بتایا کہ’’میں فوراً کام پر اتر گیا، اور مجھے پو ری امید تھی کہ یہاں ایک عالمی سطح کے معیار کا ’’راک گارڈن‘‘ تعمیر ہو سکتا ہے‘‘۔اسی سال جنوری کے ابتدائی دنوں میں دوسرے ہی دن یہاں صفائی کا کام کرنے والوں کو لایا گیا اور انہیں کام پر لگا دیا گیا۔سانپ اور بیماریوں سے کام کرنے والے پریشان:راجو کا کہنا ہے کہ ،یہاں سڑھانڈ اور بد بو اتنی زیادہ اور خراب تھی کہ دس میں سے چار کرم چاری کام کے شروع ہونے کے دوسرے ہی دن بیمار پڑ گئے اور انہیں دوبارہ صحت مند ہونے کے لئے پورا ایک ہفتہ لگ گیا تھا۔اس جگہ کی مکمل صفائی کے لئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ لگا اور اس دوران ایک ناگ کے بشمول پچاس سانپ ملے تھے۔کارپوریٹر نے مزید بتایا کہ ’’اس مقام سے جو کچرا نکالا گیا تھا اس کو ہم نے یلہنکا میں اس مقام پر ڈال دیا جہاں کے لئے ہمیں اجازت ملی تھی۔ہمارے اس علاقہ میں موجود اس بھاری کوڑا دان سے کچرے کا نکالنا بے حد ضروری تھا، یہاں کوڑا کرکٹ اتنا زیادہ بھرا ہوا تھا کہ سات سال قبل یہاں جو لاش ڈالی گئی تھی ہم اسے بھی دیکھ نہیں پائے تھے‘‘۔اسٹون گارڈن کا نقشہ:پیدل چلنے کے لئے اس خوبصورت اسٹون گارڈن میں جو راستہ تیار کیا گیا ہے اس کی طوالت ایک کلو میٹر ہے اور اس پورے پارک میں پتھر کے ہی بنے ہوئے بیس خوب صورت نقش و نگار والی چیزیں رکھی گئی ہیں، جگہ اور پتھریلے نقوش کی وجہ سے اس پارک کو ’’اسٹون پارک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس پہاڑی پر جگہ جگہ باہر سے لا کر رکھی گئی مٹی پر سبز گھاس بھی اگائی گئی ہے۔پارک کا لوہے کا دروازہ کھلتے ہی سامنے تین، ایک دوسرے سے جڑی ہوئی مچھلیوں کے شکل کا ایک ستون بنایا گیا ہے جس کے پیچھے واضح طور پر نظر آنے والا بی بی ایم پی کا لوگو موجود ہے۔گوتم بدھا کے سر کی ایک مورتی ،مچھلی اور بھینسوں کی مورتیوں کے پیچھے رکھی ہوئی ہے اور راجو کا کہنا ہے کہ یہ صرف امن اور سکون کی علامت ہے، انہوں نے بتایا کہ ’’ لوگ پارک میں سکون حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں ….. اس کے پیچھے کوئی مذہبی خصوصیت نہیں ہے‘‘۔چھوٹے بچوں کی خوشی کے لئے یہاں چمپانزیوں اور بھالو وغیرہ کی مورتیاں بھی بنائی گئی ہیں، یہ تمام مورتیاں تامل ناڈو کے مہا بلی پورم سے بنا کر لائی گئی ہیں، راجو کا کہنا ہے کہ ’’مہا بلی پورم میں کالا پتھر بہت مشہور ہے اور یہ مندروں کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اس پتھر کی یہ خصوصیت ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں زیادہ چمک پیدا ہوتی رہتی ہے‘‘۔اس پارک کی ایک اہم ترین خصویت چالیس اسکوئر فیٹ کی ایک جگہ ہے جو صرف کسانوں کے لئے مخصوص ہے، کسان روایتی طور پر جو بھی آلات استعمال کرتے ہیں جیسے مارٹر، موسل، راگی کی اوکھلی اور تیل نکالنے کے لئے استعمال کئے جانے والے پتھر وغیرہ کی یہاں نمائش ہے۔اس پارک میں تیل نکالنے کے جو پتھر رکھے گئے ہیں ان میں ایک گھاٹی سبرا منیا کے سبرامنیا مندر کے قریب ایک گاؤوں سے ملا تھا۔راجو نے بتایا کہ ’’اس گاؤں میں یہ ایک کسان کے پاس تھا اور وہ اس کے والد کی میراث تھی۔میں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے اس سے بہت منتیں کی تھی، لیکن وہ اسے میرے ہاتھوں فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ایک بار میں نے اسے اس پارک کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اگر وہ یہ پتھر دیتا ہے تو اس پراس کے والد کا نام کھدوایا جائے گا، اس پر اس نے خوش ہو کر یہ پتھر میرے حوالہ کر دیا‘‘۔ان چیزوں کی نمائش کے بالکل پیچھے بچوں کے کھیلنے کی جگہ ہے جہاں پھسلن اور بندری سیڑھیاں وغیرہ لگائے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں کے لئے پیڈلس اور ہینڈ گئیرس کے ساتھ ایک کھلا جم خانہ بھی ہے، انہی بزرگ شہریوں کے لئے پارک کے ایک حصہ میں ’’پالنگوژی ‘‘ کھیل کا نقشہ بھی بنایا گیا ہے، یہ کھیل روایتی طور پر املی کے بیچوں کو استعمال کرتے ہوئے کھیلا جاتا ہے۔بومن ہلی میں کچرے کے ایک بڑے میدان کو پاک و صاف کرکے تعمیر کردہ اس ’’اسٹون گارڈن‘‘ میں گھاس پر پھیلا ہوا ہندوستان کا ایک کاغذی نقشہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس نقشہ کے اطراف سنگ مرمر کے پتھروں سے بنے ستون موجود ہیں جو شام کے اوقات میں 6-30 بجے کے قریب اس نقشہ پر 16 مختلف رنگوں کے سائے بکھیرتے ہیں۔اس پارک میں جو نشست گاہیں تعمیر کی گئی ہیں وہ سب بھی پتھر ہی کی بنی ہوئی ہیں اور یہاں جو پندرہ درخت ہیں وہ صندل اور بادام کے ہیں۔بارہ فیٹ اونچی ایک جال پارک کو گھیرے ہوئے ہے اور اس پارک کی تعمیر کل 2.5 کروڑ روپئے کے خرچ سے ہوئی ہے۔علاقہ کی عو ام کا کیا کہنا ہے:چونکہ پارک میں پیدل چلنے کا جو راستہ تعمیر کیا گیا ہے وہ بالکل ایک بڑے میدان کی جانب کھلتا ہے، شام کے اوقات میں غروب آفتاب کا ایک خوب صورت نظارہ یہاں لوگوں کے لئے یقینی ہے۔ یہ جگہ جو ماضی قریب میں بالکل بچھڑی ہوئی تھی اور کوئی اس کے قریب بھی جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا، اب شہر کے مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں سے بھری رہتی ہے۔گووردھن ریڈی اور اس کا بھائی ناگیندرا ریڈی ،بچوں سمیت اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں چہل قدمی کر تے ہیں، گووردھن نے بتایا کہ’’یہ پارک ہمارے لئے ایک بڑی راحت بن کر آیا ہے، بڑی عمر کے حضرات صبح اور شام کے اوقات میں یہاں چہل قدمی کر سکتے ہیں جبکہ بچے یہاں کھیل سکتے ہیں۔۔۔اس طرح ایک صحت مند زندگی یہاں سے مل سکتی ہے‘‘۔گندی بدبو ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ ایک ورزش کا میدان ہے، علاقہ کے ایک مکین نوین چندرا کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے لئے جو قریب ترین پارک تھا وہ وجیا بینک لے آؤٹ میں ہے اور وہ یہاں سے کافی فاصلہ پر ہے اور اس کے لئے بہت دور تک چل کر جانا پڑتا تھا‘‘۔وی ایس مورتی نے بتایا کہ’’موت کے اس گڑھے کو ایک خوب صورت پارک میں تبدیل ہوا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے‘‘۔پارک کے اطراف موجود دکانوں میں بھی اس پارک کے افتتاح کے بعد کاروبار میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔یہاں قریب ہی چاکلیٹ اور بسکت کی دکان چلانے والی جیا نے بتایا کہ ایک سال قبل یہاں کاروبار بہت مندا تھا لیکن اب لوگ بڑی آسانی سے اس کی دکان کو دیکھ لیتے ہیں اور چیزوں کی خریدی کے لئے آتے ہیں۔لیکن سب خوش نہیں ہیں:قریب ہی میں مکئی بیچنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ کارپوریٹر نے اسے اس جگہ سے اپنے کاروبار کو ہٹانے کا حکم دیا اور سختی کے ساتھ دھمکی دی تھی کہ وہاں وہ اپنا کاروبار نہ چلائے۔پارک کے افتتاح کے موقع پر مکئی بیچنے والا لوگوں کے درمیان سے یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ وہ پارک کے باہر بھی اپنا کاروبار نہیں چلا سکتا۔یہ ’’اسٹون پارک ‘‘ روزانہ صبح پانچ بجے سے 10-30 بجے تک اور شام میں 4-30 سے 8-00 بجے تک کھلا رہتا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: