سرورق / خبریں / جموں وکشمیر میں موجودہ حالات میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں کرسکتے: کانگریس

جموں وکشمیر میں موجودہ حالات میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں کرسکتے: کانگریس

سری نگر ، جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر نے ریاست میں موجودہ حالات میں کسی سیاسی جماعت سے اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ بی جے پی پی ڈی پی مخلوط حکومت نے ریاست کو زخمی کرکے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو معطل رکھنے سے ہارس ٹریڈنگ کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی صورت میں ہارس ٹریڈنگ کی مرتکب نہیں ہوگی۔

ریاستی کانگریس پارٹی صدر نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں منعقدہ کانگریس پارٹی کے اجلاس کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ پارٹی کے اس اجلاس میں سینئر لیڈران غلام نبی آزاد اور امبیکا سونی نے شرکت کی۔
غلام احمد میرنے کہا ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ریاستی کانگریس کا ایک اہم اجلاس آج صبح گیارہ بجے سے جاری ہے۔ ریاستی کانگریس کے سبھی ممبران اسمبلی، ممبران کونسل، سابق وزراء، سابق ممبران اسمبلی و کونسل اور پوری ریاست سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداران اس اجلاس میں موجود ہیں۔
مرکزی قیادت سے ہمارے بیچ میں غلام نبی آزاد صاحب، امبیکا سونی جی اور سابق پی سی سی صدر پروفیسر سیف الدین سوز صاحب ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’یہ اجلاس ریاست میں پیدا ہونے والی سیاسی اتھل پتھل پر بحث کے لئے بلایا گیا ہے۔ جو مخلوط حکومت تین برس قبل یہاں بنی ہوئی تھی، اس کو ہم نے ہمیشہ ایک غیرمقدس الائنس قرار دیا تھا۔ یہ سرکار ٹوٹنے کے لئے ہی بنی تھی۔ ان کو صرف ٹوٹنے کے لمحات کا انتظار تھا۔
انہوں نے ریاست کو گورنر راج کی طرف دھکیل دیا۔ اس کی ذمہ داری بی جے پی اور پی ڈی پی پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے لئے نہ تو جموں وکشمیر کی عوام اور نہ کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے‘۔ انہوں نے کہا ’کانگریس پارٹی کا ماننا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال انتہائی ابتر رہی۔ ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پہلے زمینی سطح پر حالات بہتر ہوں۔
لوگوں کا جمہوریت اور جمہوری عمل پر اعتماد پیدا ہو‘۔ ریاستی کانگریس صدر نے کہا کہ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہاں ایک لمبے عرصے تک گورنر راج نافذ نہیں رہنا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا ’ہم نے گورنر صاحب کو کل جماعتی میٹنگ میں بتایا تھا کہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ زمینی صورتحال بہتر ہو۔ اس کے بعد جب آپ موزوں سمجھیں تو یہاں الیکشن کرائے جائیں۔
گورنر راج ایک لمبے عرصے تک نافذ نہیں رہنا چاہیے۔ پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا، آپ کو اس سے واقف کرایا جائے گا‘۔ غلام احمد میر نے کہا کہ اسمبلی کو معطل رکھنے سے ہارس ٹریڈنگ کی راہیں کھل جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا ’ہر چیز کے کچھ قاعدے اور قانون بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے گورنر صاحب سے کہا ہے کہ اگر آپ کے پاس کسی نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے تو اس صورت میں بھی قانونی طور پر آپ کے پاس ایک محدودقت ہے۔ اگر جموں وکشمیر میں متحرک چار پارٹیوں (بی جے پی، کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی) میں سے کسی نے آپ کو لکھ کر نہیں دیا ہے تو اس صورت میں اسمبلی کو معطل کرکے رکھنے کا مطلب ہے کہ اس سے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ کھل جائے گا۔ اگر کوئی پارٹی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو گورنر صاحب کو اسے دیکھنا چاہیے‘ ۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سابقہ بی جے پی پی ڈی پی مخلوط حکومت نے ریاست کو زخمی کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ ریاست پہلے ہی زخمی ہوچکی ہے۔ اب ہارس ٹریڈنگ، افواہوں اور دوسرے طریقے سے پتہ نہیں اور کیا کیا ہوگا‘۔
غلام احمد میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی صورت میں ہارس ٹریڈنگ کی مرتکب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا ’کانگریس 135 سالہ پرانی پارٹی ہے۔ کسی غیراصولی اقدام کی مرتکب نہیں ہوگی۔ ہاوس میں جو اس وقت پوزیشن ہے، اس میں کانگریس پارٹی کا ایسا کوئی ڈیزائن نہیں ہے‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: