سرورق / خبریں / جموں میں تیسرے محاذ کی تشکیل کیلئے سیاسی سرگرمیاں عروج پر، کشمیری مین اسٹریم لیڈران نشانے پر

جموں میں تیسرے محاذ کی تشکیل کیلئے سیاسی سرگرمیاں عروج پر، کشمیری مین اسٹریم لیڈران نشانے پر

جموں، جموں وکشمیر کے صوبہ جموں کے بعض سیاسی لیڈران نے صوبہ کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کا سدباب کرنے کے لئے تیسرا محاذ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم اس کا اب تک عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔اس مجوزہ تیسرے محاذ کا مقصد کشمیری مین اسٹریم لیڈران کی جانب سے صوبہ جموں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اور اہلیان جموں کے حقوق کے لئے سیاسی جنگ چھیڑنا بتایا جارہا ہے۔
تیسرے محاذ کی تشکیل سے متعلق اس پہل کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے باغی لیڈر چودھری لال سنگھ کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر شام لال شرما بھی مبینہ طور پر تیسرے محاذ کی تشکیل کے لئے ہورہی پہل کا حصہ ہیں۔ ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’چودھری لال سنگھ نے حال ہی میں کانگریس کے شام لال شرما اور پی ڈی پی کے سابق ایم ایل سی وکرم ادتیہ سنگھ کے ساتھ میٹنگیں کیں۔ بند کمرے میں ہونے والی ان میٹنگوں کے دوران جموں کے مسائل اور تیسرے محاذ کی تشکیل پر بات چیت ہوئی۔ اس مجوزہ تیسرے محاذ کا مقصد کشمیری (میں اسٹریم) سیاستدانوں کا جموں کے تئیں متعصبانہ اپروچ اور صوبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف جنگ چھیڑنا ہے‘۔
شام لال شرما نے گذشتہ ہفتے یہ کہتے ہوئے پارٹی کے ’سینئر نائب صدر‘ کے عہدے سے استعفیٰ دیا کہ موجودہ جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر صوبہ جموں کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہے ہیں۔ گذشتہ برس کے اکتوبر میں پی ڈی پی سے مستعفی ہونے والے وکرم ادتیہ نے اپنے استعفیٰ نامے میں لکھا تھا کہ وہ جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو شہر بدر نہ کئے جانے ، ڈوگرہ حکمرانوں کے کارناموں کو اسکولی کتابوں میں شامل نہ کئے جانے اور مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان نہ کئے جانے کے خلاف مستعفی ہورہے ہیں۔
ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ جموں میں تیسرے محاذ کے قیام کی قیادت چودھری لال سنگھ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’وہ بحیثیت وزیر مستعفی ہوجانے کے دن سے اب تک مسلسل جموں کے لیڈران کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ لال سنگھ سیاسی لیڈران سے کہتے ہیں کہ اہلیان جموں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں‘۔
لال سنگھ نے بات کرتے ہوئے مجوزہ تیسرے محاذ پر کوئی بھی خلاصہ پیش کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے تاہم کہا ’ڈوگراوں نے اپنے فخر کو کبھی نہیں کھویا ہے۔ وہ اس کے لئے ہمیشہ لڑتے رہیں‘۔ انہوں نے کہا ’میرا جگہ جگہ ریلیاں اور جلسے کرنے کا مقصد ڈوگراوں کو یکجا کرنا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم متحد ہوکر اپنے حقوق کے لئے لڑیں‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ڈوگرہ ایک چھتری کے نیچے آئیں گے۔ انہوں نے کہا ’وہ لوگ جو ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کریں گے، انہیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ میں ڈوگراوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہی چھتری کے نیچے آئیں‘۔ حلقہ انتخاب مڑھ جموں سے ممبر اسمبلی اور سابق وزیر چودھری سکھ نندن نے گذشتہ ہفتے ایک ریلی کا انعقاد کیا جس کے دوران انہیں اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں نے کہا کہ وہ بی جے پی سے کنارہ کشی اختیار کرکے ان کے حقوق کے لئے لڑیں۔
چودھری سکھ نندن خود بھی ظاہری طور پر ریاستی کابینہ میں حالیہ پھیربدل میں نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے پارٹی سے ناراض ہے۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’میں پارٹی کا ایک سینئر لیڈر ہوں۔ میرے حلقہ انتخاب کے لوگ مجھے کابینہ میں شامل نہ کئے جانے کے خلاف ناراض ہیں‘۔
سکھ نندن سابق پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت جس کی قیادت مرحوم مفتی محمد سعید کررہے تھے، میں کابینی وزیر تھے۔ انہوں نے بتایا تھا ’میرے حلقہ انتخاب کے لوگ ناراض ہیں۔ اُن سے رنگ روڑ کی تعمیر کے لئے زمینیں لی گئیں لیکن انہیں مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی زمین کے عوض اتنا ہی معاوضہ دیا جائے جتنا کشمیر میں دیا گیا‘۔ سکھ نندن بھی تیسرے محاذ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اب تک اس کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ جموں میں مجوزہ تیسرے محاذ کی تشکیل کی قیادت کرنے والے چودھری لال سنگھ نے گذشتہ ماہ پارٹی کی ہدایت پر ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دیا۔ مستعفی ہوجانے کے دن سے لیکر اب تک لال سنگھ نے متعدد احتجاجی پروگراموں کا انعقاد کرکے کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ کٹھوعہ واقعہ کی وجہ سے ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ کو گذشتہ روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔ کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔
کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

شیشے کی کھڑکیوں پر سے اشتہارات ہٹانے بی ایم ٹی سی کا فیصلہ مسافروں نے راحت کی سانس لی –

بنگلور۔بی ایم ٹی سی بسوں کی دونوں جانب کھڑکیوں کے اوپر لگائے جانے والے اشتہارات …

جواب دیں

%d bloggers like this: