سرورق / خبریں / تین روزہ دورہ: اردن کے شاہ اسلام میں لبرل ازم پر لیکچر دیں گے-

تین روزہ دورہ: اردن کے شاہ اسلام میں لبرل ازم پر لیکچر دیں گے-

نئی دہلی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم بن الحسین جمعرات کو نئی دہلی میں اسلام میں اعتدال پسندی پر ایک لیکچر دیں گے جسے سننے کے لئے خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود رہیں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہندوستان کے تین روزہ دورہ پر کل یہاں آ رہے شاہ عبداللہ دوم یکم مارچ کو وگیان بھون میں یہ لیکچر دیں گے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی طرف سے منعقد اس لیکچر میں ملک بھر کے اسلامی علماء کرام، غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر معززین کو مدعو کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر شاہ عبداللہ دوم کے رشتے کے بھائی شاہزادہ غازی بن محمد کی کتاب ‘دی تھنكنگ پرسنز گائیڈ آف اسلام’ کا رسم اجرا ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں ہندوستان کے بارے میں اہم باتیں کہیں گئیں ہیں اور ہندوستان میں اسلام کی روایات کو دنیا کے لئے مثالی بتایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ دوم کا یہ لیکچر کئی معنوں میں تاریخی اہمیت کا ہوگا۔ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ یروشلم میں الا اقصی مسجد اور عیسائی گرجا کے سرپرست ہیں۔
ذرائع کے مطابق اردن مغربی ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے جو تمام قسم کے تضادات کے درمیان استحکام کی علامت ہے۔دہشت گردی اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف وہ پر عزم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے ایجنڈے میں بھی یقینی طور پر یہ ایشو ہو گا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکورٹی تعاون بڑھانے کو لے کر بھی بات چیت ہوگی۔
ہندوستان کو لے کر اردنی قیادت کے جذبات کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں وزیر اعظم مسٹر مودی کے فلسطین دورے کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ دوم بیرون ملک سفر پر تھے لیکن ہندوستانی وزیر اعظم کی آمد کی اطلاع ملتے ہی وہ بیرون ملک کادورہ درمیان میں ہی چھوڑ کر وطن لوٹ آئے تھے اور وزیر اعظم کو رملہ جانے کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر مہیا کرایا تھا۔
مغربی ایشیا میں امن کے بارے میں ہندوستان کے کردار اور اردن کی توقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر ذرائع نے کہا کہ اردن اور فلسطین کے رہنما اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور فلسطین اور ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ہندوستان کا فلسطین پر موقف شروع سے ہی ایک طرح سے واضح رہا ہے جو اقوام متحدہ میں بھی دکھائی دیا۔لہذا اردن اور فلسطین دونوں کو ہی ہندوستان کی منشا کو لے کر کوئی شک نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی اور شاہ عبداللہ دوم کے درمیان دو طرفہ بات چیت یکم مارچ کو دوپہر میں حیدرآباد ہاؤس میں ہوگی اور اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں صحت، ثقافت، ماس میڈیا، کسٹمز،انسانی وسائل وغیرہ شعبوں میں تعاون شامل ہوں گے۔ آگرہ اور اردن کے شہر پیٹرا کے درمیان ثقافت پر مبنی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردن نے ہندوستان کے ساتھ دفاع سے متعلق تال میل قائم کرنے کی منشا ظاہر کی ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اردن کس قسم کا تعاون چاہتا ہے، یہ بھی واضح نہیں ہے، لیکن ہندوستان کوتربیت اور ضروری آلات کی فراہمی میں مدد دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔
ذرائع کے مطابق ہندوستان اور اردن کے درمیان سیکورٹی ڈائیلاگ بھی 2016 میں قائم ہوا ہے جس کی پہلی میٹنگ جولائی 2016 میں ہوئی تھی اور ہندوستان کے قومی سلامتی کے نائب مشیر اور اردن کے خفیہ محکمہ کے ڈائریکٹر نے حصہ لیا تھا۔ اگلی میٹنگ اسی سال ہندوستان میں ہو گی۔
دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ذرائع نےکہا کہ ہندوستان اردن کا چوتھا سب سے بڑا کاروباری پارٹنر ہے۔ دونوں کے درمیان دو طرفہ تجارت 1.35 ارب ڈالر کا ہے۔ اردن کے شاہ 28 فروری کو دارالحکومت نئی دہلی میں ہندوستانی صنعتی کنفیڈریشن (سی آئی آئی)، فکی، ا یسو چیم کے ایک مشترکہ پروگرام میں ہندوستانی صنعت کاروں سے بات چیت کریں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: