سرورق / کھیل / تیسرے یک روزہ میں جیت کے ساتھ نمبر ون بننا ہند کا مقصد کوہلی کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے کوشاں۔ انگلینڈ فتح کے ذریعہ پوزیشن مضبوط کرنے کا متمنی –

تیسرے یک روزہ میں جیت کے ساتھ نمبر ون بننا ہند کا مقصد کوہلی کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے کوشاں۔ انگلینڈ فتح کے ذریعہ پوزیشن مضبوط کرنے کا متمنی –

لیڈس، (آئی این ایس)کمزوریوں کے اجاگر ہونے کے بعد ہندوستانی ٹیم کل انگلینڈ کے خلاف ہونے والے فیصلہ کن تیسرے اور آخری یک روزہ میں اپنی خامیوں کو دور کرنا چاہے گی ۔اس میں جیت سے ویراٹ کوہلی کے کھلاڑی مسلسل 10 ویں سیریز اپنے نام کر لیں گے۔ناٹنگھم میں پہلے میچ میں8 وکٹ سے جیت درج کرنے کے بعد لارڈز میں ٹیم کو 86رن کی شکست جھیلنی پڑی۔ اب دونوں ٹیمیں 1-1 کی برابری پر آ گئی ہیں۔لندن میں جیت سے انگلینڈ کا آئی سی سی رینکنگ میں نمبر ایک یک روزہ ٹیم کے طور پر مقام پکا ہوگیاوہیں ہیڈنگلے میں ہندوستان کے لئے جیت فرق کم کرنے والی اور یکم اگست سے شروع ہونے والی ٹسٹ سیریز سے پہلے اعتماد بڑھانے والی رہے گی۔ہندوستان نے اس سے پہلے ٹی۔20بین الاقوامی میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کی تھی۔وہیں یک روزہ کرکٹ میں ہندوستانی ٹیم اچھی کارکردگی کر رہی ہے۔جنوری 2016ء سے دیکھیں تو ا سے آسٹریلیا میں 1-4سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے اس نے ہر یک روزہ سیریز اپنے نام کی ہے۔اس نے زمبابوے، نیوزی لینڈ ( 2 بار)، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا (2 بار)، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کو گھریلو اور اس کے میدان پر شکست دی۔ٹیم انڈیا کے لئے یہ انگلینڈ پر یک روزہ برتری یقینی رکھنے کا ایک اور موقع ہوگا کیونکہ ہندوستان نے 2011ء کے بعد اس مخالف ٹیم کے خلاف 2 سیریز نہیں گنوائی ہے۔7 سال پہلے یہاں 0-3 سے شکست کے بعد ہندوستان نے دبدبہ برقرار رکھا ہے اور 17میچوں میں سے 10میں فتح حاصل کی ہے۔2015ء کے بعد سے انگلینڈ کے سفید گیند کے کرکٹ کو دیکھتے ہوئے گزشتہ2 مقابلوں میں مساوات متوازن ہو گئے ہیں۔ ہندوستان نے جنوری 2017ء میں ہوم سیریز میں 2-1سے کامیابی حاصل کی تھی اور موجودہ سیریز میں بھی مقابلہ اسی فرق پر ختم کرے گا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بھی ٹیم جیتے۔اگرچہ انگلینڈ کا ٹی۔ 20کی بجائے یک روزہ میں دبدبہ مضبوط ہے۔گزشتہ مقابلے کو دیکھا جائے تو اس میں ہندوستان کی 50اوور کے فارمیٹ کی کمزوری ظاہر ہوئی جو ٹی۔20کرکٹ کی وجہ سے کسی حد تک چھپی رہی ہے ۔ہندوستانی اسپنروں کی بات کریں تو وہ پورے میچ میں متاثر کن رہے لیکن تیز گیند بازی حملے میں اپنی فارم میں کمی نظر آئی۔ خاص طور آخری اوور میں۔لارڈز میں آخری 8اوور میں انہوں نے 82رن گنوائے جس میں امیش یادو، سدھارتھ کول اور پانڈیا نے 6 اوور میں 62رن لٹائے۔اس سے ہندوستانی ٹیم کی بھونیشور کمار اور جسپریت بمراہ پر انحصار بھی نظر آیا۔سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے آخری دوروں پر بھونیشور کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کو اس یک روزہ سیریز میں ان کی کافی کمی کھل رہی ہے اور ان کی دیکھ بھال یا دستیابی پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔انہوں نے دوسرے یک روزہ سے پہلے لارڈز پر نیٹ پر بولنگ بھی کی اور وہ قابو پانے کی راہ پر ہیں۔لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ انہیں اس فیصلہ کن میچ میں کول یا امیش یادو کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں۔گزشتہ سال اگست میں بھونیشور نے 237رن کے ہدف کے دوران ٹیم کے 131رن پر 7 وکٹ گنوانے پر مہیندر سنگھ دھونی کے ساتھ میچ فاتح نصف سنچری اننگز کھیلی تھی۔اگرچہ مڈل آرڈر دباؤ کے بوجھ سے گھرا ہے کیونکہ ہندوستان چوتھے نمبر کے لئے مستقل کھلاڑی نہیں ڈھونڈ سکا ہے۔کسی بھی کامیاب یک روزہ ٹیم کے لئے یہ مقام سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے ہندوستان اس مقام کے لئے حل ڈھونڈنے میں ناکام رہا ہے۔اس سیریز میں لوکیش راہل نے چوتھے نمبر پر واپسی کی ہے۔ان کا سب سے بڑا امتحان لارڈز پر تھا کیونکہ وہ گزشتہ کچھ وقت سے کافی اچھے فارم میں ہیں لیکن وہ صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ٹیم مینجمنٹ کا دھونی کے آگے کارتک کے نام پر غور کرنے کا امکان نہیں ہے۔ پچھلا یک روزہ برطانیہ دورے پر صرف تیسرا موقع تھا جب دھونی کو مڈل آرڈر میں بیٹنگ کا موقع ملا۔اس سے پہلے انہوں نے ڈبلن اور کارڈف میں ٹی۔ 20میں بلے بازی کی تھی۔دھونی کو اگرچہ کوہلی اور کوچ روی شاستری دونوں کی حمایت حاصل ہے، جس سے ایک بار پھر ہندوستان کی ٹیم کوہلی، شکھر دھون اور روہت شرما پر انتہائی انحصار کرتی نظر آتی ہے۔گزشتہ2 سیشن میں ان تینوں نے ہندوستان کے یک روزہ کے لئے تقریباً60فیصد رن جٹائے ہیں۔وہیں انگلینڈ کے لئے یہ ہندوستان کے خلاف اپنا ریکارڈ بہتر بنانے کا صرف موقع نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں سب سے سخت حریف ٹیم پر جیت درج کرنا عالمی کپ کی تیاریوں کے لئے بھی اہم ہوگا۔ جو روٹ جہاں رن بنارہے ہیں، وہیں دیگر بلے باز بھی کلائی کے اسپن کا بہتر طریقے سے سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی تشویش آل راؤنڈر بین اسٹوکس کی فارم ہوگی۔یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حالیہ چوٹ کا اثر وہ اب بھی محسوس کر رہے ہیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں کھیل پا رہے ہیں۔لیکن وہ ٹیم کا حصہ بنے رہیں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

وزیر کھیل راٹھور سے ملے لکشے سین –

نئی دہلی، جونیئر ایشیائی بیڈمنٹن چمپئن شپ میں 53 سال کے طویل وقفے کے بعد …

جواب دیں

%d bloggers like this: