سرورق / بین اقوامی / توپوں کے آگے ڈٹ جانے والی قوم ایک بار پھر سرخرو رجب طیب اردگان ترکی کے دوبارہ صدر منتخب –

توپوں کے آگے ڈٹ جانے والی قوم ایک بار پھر سرخرو رجب طیب اردگان ترکی کے دوبارہ صدر منتخب –

انقرہ:ترکی کے سابق صدر رجب طیب اردگان نے ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرلی، اردگان کا کہنا ہے کہ ملک سنوارنے کا وقت آگیا ہے ۔ترک میڈیا کے مطابق صدارتی انتخاب کی دوڑ میں عوامی اتحاد کے رجب طیب اردگان، جمہوریت عوام پارٹی کے محرم انجے ، کرد سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صلاح الدین دمیر تش، فضیلت پارٹی کے تیمل کرمولا اولو اور وطن پارٹی کے دواُو پیرنچک کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں سابق صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر اپنے حریفوں کو شکست دے دی۔ انہوں نے اپنے حریفوں کے مدمقابل 53.1؍ فیصد ووٹ لے کر سبقت حاصل کی۔ صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ طیب اردگان کی جماعت’’اے کے پارٹی‘‘ کو پارلیمان میں واضح برتری حاصل ہے ، ترک میڈیا کے مطابق تقریباً 44؍فیصد ووٹوں کے ساتھ ’’اے کے پارٹی‘‘ پھر سے حکومت بنانے جارہی ہے۔ جب کہ اردگان کے قریبی حریف محرم انجے کو 31؍ فیصد ووٹ ملے ہیں۔ حتمی نتائج کا اعلان جمعہ کو کیاجائے گا۔
نتائج کے اعلان میں جانبداری کا الزام: صدر طیب اردگان نے فتح کااعلان کردیا جس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے فوری طور پر شکست قبول کرنے سے انکار کردیا اور سرکاری ٹی وی پر نتائج کے اعلان میں جانبداری کا الزام لگا دیا۔رجب طیب اردگان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے مجھے صدارت کے لیے مینڈیٹ دے دیا ہے ، عدلیہ پر اعتبار بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے ، امید ہے انتخابی نتائج پر انگلی اٹھاکر جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ انتخابی کشیدگی کو بھلاکر ملک کے مستقبل پر توجہ دیں، انسانی حقوق اور شہری آزادی کویقینی بنانے کے لیے وہ پرعزم ہیں، دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرکے ترکی کو ڈرانے والوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے ، جمہوریت اور معیشت کی بہتری کا سفر جاری رکھیں گے۔ ادھر انتخابات میں کامیابی پر متعدد عالمی رہنماؤں خصوصاً اسلامی ممالک کے سربراہان اور رہنماؤں نے طیب اردگان کو مبارکباد پیش کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوئے۔ ووٹرز کی تعداد5؍کروڑ 63؍ لاکھ 22؍ ہزار 632تھی جب کہ ساڑھے 30؍لاکھ بیرون ملک مقیم شہریوں نے بھی ووٹ ڈالا۔پارلیمانی انتخاب کے لیے ترکی میں8؍ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوا جن میں اے کے پارٹی، جمہوریت عوام پارٹی، اچھی پارٹی، خداپار، فضیلت پارٹی، پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور وطن پارٹی شامل تھے ۔ آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی نے عوامی اتحاد سے اتحاد کرلیا ہے جسے عظیم اتحاد پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے ۔واضح رہے کہ صدارتی انتخاب اگلے سال ہونے تھے لیکن طیب اردگان نے قبل از وقت الیکشن کا اعلان کرکے دونوں انتخاب ایک ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا۔
شام میں پیش قدمی جاری رکھیں گے:ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ اْن کا ملک ’’شام کی اراضی آزاد کرانے کا سلسلہ‘‘ جاری رکھے گا یہاں تک کہ پناہ گزینوں کی بحفاظت شام واپسی ہو جائے۔ انہوں نے یہ بات صدارتی انتخابات میں جیت کے بعد پیر کے روز کہی۔انقرہ میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے صدر دفتر میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ ترکی مزید جوش کے ساتھ زیادہ فیصلہ کن انداز سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف حرکت میں آئے گا۔اس سے قبل ترکی میں انتخابات کے سپریم کمیشن کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کے روز ہوئے صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردگان نے نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے جیت کو گلے سے لگا لیا۔صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے بعد انقرہ میں کمیشن کے صدر دفتر میں اپنے خطاب کے دوران سعدی جوِفن نے بتایا کہ کْردوں کی حمایت یافتہ ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے مطلوب کم از کم شرح یعنی دس فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔تاہم حزب اختلاف نے ابھی تک صدر اردگان کی کامیابی کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے اور سرکاری نتائج سے پہلے کہا تھا کہ بھی بھی بہت سارے ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور نتائج جو بھی ہوں وہ ملک میں ’’جمہوریت‘‘ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔الیکشن کمیشن کے بیان سے پہلے صدر رجب طیب اردگان نے اپنی فتح کے اعلان کے ساتھ پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت آق پارٹی کی پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔
ترکی میں نئے آئین کا نفاذ: ترکی کا نیا آئین انتخابات کے بعد نافذ ہونے جا رہا ہے اور اس کے تحت صدر کو زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے جس کے بارے میں مغرب نواز حلقہ سراسیمگی کا شکا ر ہوگیا ہے ۔ ناقدین کے مطابق ان کی مفروضہ خودساختہ’ جمہوریت‘ کمزور ہو گی۔صدارتی انتخابات کے علاوہ ترکی میں پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے۔ اتوار کی صبح صدر اردگان نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس مرتبہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ زیادہ رہا۔اتوار کی صبح صدر اردگان نے استنبول میں کہا کہ ’اس الیکشن کے ساتھ ترکی ایک جمہوری انقلاب سے گزر رہا ہے۔‘صدر اردگان چاہتے تھے کہ انہیں50؍ فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں تاکہ ووٹنگ دوسرے راؤنڈ میں نہ جائے۔صدراتی اور پارلیمانی ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 8؍ بجے شروع ہوا۔رجب طیب اردگان کا سینٹر لیفٹ رجحان رکھنے والے ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے امیدوار محرم انجے سے مقابلہ تھا واضح ہو کہ محرم انجے مغربی افکار کے حامل ہیں جو ترکی پر عائد سوسالہ پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔خیال رہے کہ ترکی میں جولائی 2016ء حکومت کا تختہ الٹنے کے واقعہ کے بعد سے ایمرجنسی نافذ ہے۔یہ انتخابات نومبر 2019ء میں ہونے تھے لیکن صدر اردگان نے انہیں قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا۔صدر اردگان اور ان کے حریف مسٹر انجے دونوں نے ہفتہ کو اپنی انتخابی مہم کے آخری دن بڑی ریلیاں کیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو ترکی پر حکومت کرنے کا نااہل قرار دیا۔ شکست خوردہ محرم انجے کی انتخابی مہم نے بھی ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے استنبول میں تقریباً 10؍لاکھ کے مجمع سے کہا کہ اگر اردگان کی فتح ہوتی ہے تو آپ کے فون کی نگرانی جاری رہے گی، خوف کی حکومت برقرار رہے گی اور اگر انجے کی جیت ہوتی ہے تو عدالتیں ’آزاد‘ ہوں گی۔ محرم انجے نے مغربی کاشت کے سبز باغ دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ؛لیکن توپوں کے سامنے ڈٹ جانے والی عثمانی قوم نے محرم انجے کے سبز باغ کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو ترکی میں عائد ایمرجنسی کو48؍گھنٹے کے اندر ہٹا لیا جائے گا۔ ایمرجنسی کی وجہ سے حکومت پارلیمان کو نظر انداز کرتی ہے۔دوسری جانب اپنی ریلی میں صدر اردگان نے عوامی ریلی میں مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لطیف اشارہ میں پوچھا کہ کیا کل ہم انہیں عثمانی تھپڑ لگائیں گے؟ خیال رہے کہ رجب طیب اردگان 2014ء میں صدر بننے سے قبل11؍سال تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: