سرورق / خبریں / تنازعات میں گھرا خستہ حالی کا شکار بنگلور کا اولین انجینئرنگ کالج

تنازعات میں گھرا خستہ حالی کا شکار بنگلور کا اولین انجینئرنگ کالج

بنگلور، (فتحان نیوز) اس کالج کے احاطہ میں چہل قدمی کرتے ہوئے اس کا جائزہ لیجئے!ٹپکتی ہوئی چھت، دیواروں کے کچھ بوسیدہ حصے اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی کانچیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔یہ ریاست کرناٹک کے سب سے پہلے انجینئرنگ کالج کے کیمپس کی صورت حال ہے۔یونیورسٹی وشویشوریا کالج آف انجینئرنگ (یو وی سی ای)کا شعبہ برائے میکانکل انجینئرنگ، پچھلے تقریباً دس سالوں سے بے حد خستہ حالی کا شکار رہا ہے۔موسم باراں کے شروع ہوتے ہی، یہاں کے طلباء اپنی درسگاہوں اور تجربہ گاہوں کے صرف ایک حصہ کو ہی استعمال کر سکتے ہیں، دوسرے حصوں میں ٹپکتی ہوئی چھت سے گرتا پانی، یہاں چھوٹے تالابوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس کالج کا کارپنٹری کا شعبہ، صرف تین دیواروں والا کمرہ ہے اور چوتھی دیوار منہدم ہو چکی ہے، ایک عارضی انتظام کے طور پر کالج کے عملہ نے یہاں اسبیسٹاس شیٹیں اور دوسری لکڑیاں لگا دی ہیں۔تجربہ گاہ کے ایک حصہ کو پرانے ٹیبل کرسیاں اور عمارت سے ٹوٹ کر نکلنے والے کباڑ وغیرہ کو ڈالنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔جی ہاں !ٹپکتی ہوئی چھت، ٹوٹی ہوئی دیواریں، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر بکھرے ہوئے، کارپنٹری شعبہ کے کمرے میں ایک دیوار ندارد اور تجربہ گاہوں میں پرانے ٹیبل کرسیوں کا کباڑ، ایسی حالت میں ریاست کے اس اولین انجینئرنگ کالج میں طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں۔کالج کے عملہ کے ایک رکن نے بتایا کہ’’یہ ایک قدیم عمارت ہے اور اس کی دیکھ بھال درست انداز میں نہیں کی گئی ہے۔حالانکہ کافی دنوں سے یہاں چھت کی مرمت کے لئے شیٹیں تیار رکھی ہوئی ہیں مگر اس کام کو کرنے والا کوئی نہیں ہے‘‘۔ہر مرتبہ بارش کے بعد ان تجربہ گاہوں میں موجود بجلی کے آلات پر بھی پانی جمع ہو جاتا ہے اور یہ صورت حال، طلباء اور اساتذہ دونوں کے لئے خطرہ کی بات ہو تی ہے۔تجربہ گاہ کے نگران نے بتایا کہ’’ہم پی ایس جی لیتھ ( ایک آلہ) کو بھی اس کی صفائی کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ہر وقت بجلی کے جھٹکے لگ جانے کا خوف لگا رہتا ہے اس لئے کہ پانی ان آلات کے اندر داخل ہو جاتا ہے‘‘۔کالج کی عمارت تقریباً ایک صدی پرانی ہے اور توجہ کی طالب ہے، واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے پچھلے سال کے اپنے بجٹ میں اس کالج کے لئے 25 کروڑ روپئے کے تعاون کا اعلان کیا تھا، اسی کے پیش نظر یہ منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ اس عمارت کو مکمل طور پر منہدم کرکے یہاں ہمہ منزلہ نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔اس کالج نے ’’دی میکانکل انجینئرنگ اسکول‘‘ کے طور پر تعمیر کردہ اس ادارے میں سال 1917 میں ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔اس طرح اس تاریخی تعلیمی ادارہ کو اس سال ایک صدی کا عرصہ پورا ہو گیا ہیاور جاریہ سال اس کی صد سالہ تقاریب کے منانے کا بھی منصوبہ ہے۔یو وی سی ای کالج کے تدریسی عملہ کے ایک رکن نے بتایا کہ، وہ لوگ بہت جلد موجودہ خستہ حال عمارت کو منہدم کرکے اس کی جگہ پر جدید اور ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ ہمہ منزلہ عمارت تعمیر کرنے والے ہیں۔کالج کے ذرائع کے مطابق اس نئی عمارت کی تعمیر کے لئے تعمیراتی نقشہ تیار ہو چکا ہے، لیکن محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم کی جانب سے اس کی منظوری ملنا ابھی باقی ہے۔کالج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ’’فی الحال طلباء ان کمروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو کسی زمانہ میں گھوڑوں کے اصطبل کے طور پر استعمال کئے جاتے تھے۔ان طلباء کو اگر بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کر دیا جائے تو وہ اپنے تعلیمی سفر میں مزید ترقیات حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں‘‘۔یو وی سی ای کے بارے میں کچھ باتیں:یونیورسٹی وشویشوریا کالج آف انجنئیرنگ (یو وی سی ای)ابتدائی طور پر سر ایم وشویشوریا کی جانب سے سرکاری انجینئرنگ کالج کے نام سے موسوم کیا گیا تھا اور یہ تعلیمی ادارہ میسور یونیورسٹی سے ملحق تھا۔یہ ریاست کرناٹک کا پہلا اور ملک کا پانچواں انجینئرنگ کالج ہے۔یو وی سی ای بعد میں چل کر بنگلور یونیورسٹی کے قیام کے موقع پر اس سے ملحق کالجوں میں سے ایک بن گیا اور اب بھی یہ بنگلور یونیورسٹی سے ملحق واحد انجینئرنگ کالج ہی کی حیثیت سے کام انجام دے رہا ہے۔اس کالج کا قیام سال 1917 میں عمل میں آیا اور اسی سال سے اس کالج میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا تھا۔انہدام نہیں تجدید ہونا چاہئے:اس کالج کی عمارت کو سر ایم وشویشوریہ کی شخصیت سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اور اسی حیثیت سے اس کی شہرت بھی ہے اور یہ گویا قومی اور تاریخی ورثہ میں شامل عمارت ہے، اسی لئے کالج کے قدیم طلباء یہ کہتے ہیں کہ اس عمارت کی مرمت اور اس کی تجدید کی جا سکتی ہے اور اسے مکمل طور پر منہدم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آرکٹیکٹ اور کالج کے ایک قدیم طالب علم ستیا پرکاش واراناسی نے اس تاریخی اہمیت کی حامل عمارت کو منہدم کرنے کے منصوبہ پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ’’یہ ایک تاریخی عمارت ہے، اس طرح کی عمارتوں کے تحفظ کے لئے مناسب قوانین کا فقدان ہے۔جب اس کالج کی مرمت اور تجدید کا کام صرف پچیس لاکھ روپئے خرچ کرکے کیا جا سکتا ہے تو پھر نئی عمارت کی تعمیر کے لئے پچیس کروڑ روپئے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘واراناسی نے مزید کہا کہ بنگلور شہر میں اس طرح کی اب صرف ایک سو عمارتیں باقی رہ گئی ہیں، ہماری دلچسپی ان عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے سلسلہ میں ہونی چاہئے نہ کہ انہیں منہدم کرنے کے لئے‘‘۔انٹیاک (INTACH) نامی ایک غیر سرکاری تنظیم جو تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرم ہے، اس کی کو کنوینر میرا ائیر کا کہنا ہے کہ’’حالانکہ سرکاری طور پر اس عمارت کو تاریخی ورثہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ حقیقت کہ یہ عمارت ایک سو سالہ قدیم ہے، اس کو اہمیت عطا کر دیتی ہے‘‘۔عملہ کی قلت اور ملکیت کا مسئلہ:حال ہی میں بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وینو گوپال کے آر جو اس سے قبل یو وی سی ای کے پرنسپل رہ چکے ہیں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ یو وی سی ای پچھلے بیس سالوں سے صرف پچاس فیصد عملہ کے ساتھ کام انجام دے رہا ہے حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے 300 اراکین کے تقرر کے سلسلہ میں منظوری حاصل ہو گئی ہے لیکن اب تک تدریسی عملہ کے صرف 96 اور غیرتدریسی عملہ کے پچاس اراکین کا تقرر عمل میں آسکا ہے۔دوسری جانب یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ کی ملکیت کو لے کر بنگلور یونیورسٹی اور بنگلور مرکزی یونیورسٹی کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، واضح رہے کہ یو وی سی ای اس وقت بنگلور مرکزی یونیورسٹی کی حدود میں قائم ہے جبکہ یہ کالج بنگلور یونیورسٹی کے تحت ہی کام انجام دے رہا ہے۔ بنگلور یونیورسٹی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے سلسلہ میں قائم ’’کوری کمیٹی‘‘ نے یو وی سی ای کو بنگلور یونیورسٹی ہی کے تحت رکھنے اور اس کو گنانا بھارتی کے احاطہ میں منتقل کرنے کی سفارش کی تھی جبکہ حال ہی میں ایک مقننہ کمیٹی نے اس بنیاد پر کہ یو وی سی ای اس وقت بنگلور مرکزی یونیورسٹی کی حدود میں قائم ہے اس کو بنگلور مرکزی یونیورسٹی کے تحت رکھنے کی بات کہی ہے جس کے بعد اس سلسلہ میں دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان کھینچا تانی شروع ہو گئی ہے لیکن بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ یو وی سی ای ہر حال میں بنگلور یونیورسٹی ہی کے ماتحت رہے گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: