سرورق / خبریں / تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں گورنر کے خطبہ کے دوران پیش آئے ناخوشگوار جمہوریت کی مذمت:اکبرالدین اویسی

تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں گورنر کے خطبہ کے دوران پیش آئے ناخوشگوار جمہوریت کی مذمت:اکبرالدین اویسی

حیدرآباد ، تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے بجٹ سیشن کے آغاز کے پہلے دن 12مارچ کو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں گورنر کے خطبہ کے دوران کانگریس کے ارکان اسمبلی کی جانب سے پھینکے گئے ہیڈ فون سے کونسل کے صدرنشین سوامی گوڑ کی آنکھ کے زخمی ہونے کے ناخوشگوار واقعہ کی مذمت کی ہے۔انہوں نے اس مسئلہ پر آج ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کل کے دن کو جمہوریت اور ایوان کے لئے سیاہ دن قراردیا ۔انہوں نے کہاکہ یہ ارکان اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھیں اور جس عہدہ پر ہم فائز ہیں اس کے وقار کو برقرار رکھیں ،وزیراعلی کے چندرشیکھر راو کی جانب سے اس واقعہ پر دیئے گئے بیان کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر کسی کو احتجاج اور مظاہرہ کا حق حاصل ہے اور جمہوریت میں یہ حق ہمیں دیا گیا ہے تاہم پُرتشدد طریقہ سے قواعد کی خلاف ورزی اور حدود کو تجاوز کرتے ہوئے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ گزشتہ روز تمام حدود سے تجاوز کیا گیا۔
انہوں نے گزشتہ روز پیش آئے واقعہ کو نامناسب قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ جب کبھی بھی کوئی بھی جماعت کے ارکان احتجاج ایوان میں کرتے ہیں تو براہ راست ٹیلی کاسٹ کرنے والے کیمرہ کو اسپیکر یاپھر اظہار خیال کرنے والے رکن کی طرف کردیاجاتا ہے تاہم ان کی خواہش ہے کہ اگر ایسے واقعات پیش آرہے ہیں تواحتجاج کابراہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کیاجائے بلکہ ارکان کے ناخوشگواررویہ کو ریکارڈ کرنا چاہئے اور ضرورت پڑنے پر ان ریکارڈنگس کو میڈیا کے لئے جاری کیاجائے تاکہ لوگ ان ریکارڈنگس کو دیکھ سکیں اور عوام کو معلوم ہوسکے کہ ان ارکان کا رویہ کیسا ہے؟ایوان کے قواعد کی کتاب کہتی ہے کہ ارکان احتجاج کرسکتے ہیں تاہم وہ ایوان کے وسط میں نہیں آسکتے ۔قواعد یہ کہتے ہیں کہ ایوان میں پلے کارڈز بھی نہیں ہونے چاہئے۔انہوں نے سوال کیا کہ ایوان میں پلے کارڈز کی کیوں اجازت دی جارہی ہے۔
انہوں نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ کسی بھی پارٹی کا کوئی بھی رکن پلے کارڈ ایوان میں نہ لانے پائے ۔انہوں نے کہا کہ مائیک کے ذریعہ احتجاج کیاجاسکتا ہے جو سب سے طاقتور چیز ہے۔اگر ہم اس کے ذریعہ ہماری آواز کو بلند کریں گے اور احتجاج کریں گے ،حقائق کو سامنے رکھیں گے، ناانصافی کوبیان کریں گے تو ضرور ہم کو انصاف ملے گا۔ہم تمام کو قانون ساز کی طرح رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ہم قانون ساز ہیں عوام نے ہم پر ذمہ داری عائد کی ہے ، ہم کو قانون ساز کی طرح رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ سڑک پر لڑنے والوں کی طرح۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایوان میں روڈی ازم کے نظارے دیکھے گئے۔اکبراویسی نے حکومت کی جانب سے ان ارکان کے خلاف اٹھائے گئے قدم کی ستائش کی اور اس کی حمایت کی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اس با ت کو سمجھے گی اور احتجاج جمہوری انداز میں کرے گی تاکہ عوام کے مسائل حل کئے جاسکیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: