سرورق / خبریں / تقریریں بھلادی جاتی ہیں، تصویریں باقی رہ جاتی ہیں آر ایس ایس کے اسٹیج سے پرنب مکھرجی نے دیا حب الوطنی کا درس –

تقریریں بھلادی جاتی ہیں، تصویریں باقی رہ جاتی ہیں آر ایس ایس کے اسٹیج سے پرنب مکھرجی نے دیا حب الوطنی کا درس –

نئی دہلی: آج پورے ملک کی نگاہیں ناگپور میں واقع راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر پر رہیں جہاں سے کانگریس کے قدآور لیڈر سابق صدر ہند پرنب مکھرجی نے سیوم سیوکوں کے تین سال تربیتی کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔ کانگریس کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط وابستگی کے دوران ہمیشہ آر ایس ایس کے نظریات کے مسترد کرتے آئے سابق صدر پرنب مکھرجی نے کہاکہ ہندوستان دنیا میں ایسا ملک ہے جس کی خصوصیت کثرت میں وحدت ہے اور حب الوطنی کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ حب الوطنی مطلب، ملک کی ترقی میں حصہ داری ہے۔ سابق صدر نے کہاکہ ہندوستان کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ میں یہاں وطن اور حب الوطنی کو سمجھانے کے لئے آیا ہوں۔ یہاں پر آنے کے لئے کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہاں آیئے اور سنگھ کو پہچانئے، جانئے، ویسے ہم تو سنگھ کو جانتے ہیں اور آپ بھی جانئے اور خیالات سے اتفاق کیجئے۔ اس تقریب میں آر ایس ایس کے 707؍ سوئم سیوک موجود تھے۔ اس تقریب میں اہم مقرر کے طور پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی موجود رہے۔ قبل ازیں چہار شنبہ کے روز جب پرنب مکھرجی ناگ پور پہنچے تو آر ایس ایس کے نائب سربراہ بھیا جی جوشی نے ایر پورٹ پر پہنچ کر ان کا استقبال کیا۔ ان کے ساتھ ناگپور شہر سربراہ راجیش جی لویا اور ودربھا علاقہ کے نائب سربراہ اتل موگھے بھی موجود رہے۔آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے ملک کی ثقافت اور اس کی شناخت کے حوالہ سے کئی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں قوم، قومیت اور حب الوطنی پر بولنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لئے وقف ہو جانا ہی حب الوطنی ہے۔ نیز ہندوستان ایک روادار ملک ہے اور یہاں کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔سنگھ اور بی جے پی کو شیشہ دکھاتے ہوئے مکھرجی نے کہا، ’’آج غصہ بڑھ رہا ہے۔ ہر دن تشدد کی خبر آ رہی ہے۔ تشدد کو چھوڑ کر ہم سب امن کے راستے پر چلیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’کثرت اور رواداری میں ہی ہندوستان آباد ہے۔ صرف ایک مذہب، ایک زبان ہندوستان کی شناخت نہیں۔ 50 سالوں میں نے یہی سیکھا ہے۔‘‘پرنب مکھرجی نے کہا کہ، ’’تفریق اور نفرت کریں گے تو ہماری پہچان کو خطرہ ہوگا۔ الگ زبان، مذہب اور رنگ ہندوستان کی پہچان ہیں۔‘‘ جہاں پرنب مکھرجی نے اپنے خطاب کے ذریعہ سنگھ اور بی جے پی کو شیشہ دکھایا وہیں انہوں نے سنگھ کے ہیڈ کواٹر میں رکھی وزٹنگ ڈائری میں تحریر کیا کہ’’میں آج یہاں بھارت ماتا کے عظیم بیٹے ڈاکٹر ہیڈگیوار جی کے لئے عزت اور خراج عقیدت پیش کرتا ہوں‘‘۔ پرنب مکھرجی کی یہ تحریر سنگھ کے لئے ایک بہت بڑا سرٹیفیکیٹ ہے۔ واضح رہے کانگریس کے کئی سینئر رہنما پرنب مکھرجی کے اس دورے کے خلاف تھے اور انہوں نے بہت کھل کر کہا تھا کہ پرنب مکھرجی کو وہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہاکہ سنگھ صرف ہندوؤں کی تنظیم نہیں ہے۔ ہم تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے تمام کا موقف مقصد اور نصب العین ایک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ طاقت کے ساتھ عمل کا ہونا بے حد ضروری ہے اور سنگھ یہی کام کررہاہے۔ کئی رکاوٹوں کے باوجود سنگھ اپنے مقاصد کی تکمیل اور منزل کی جانب گامزن ہے۔ غورطلب ہے کہ پرنب مکھرجی کی بیٹی شرمسٹھا مکھرجی نے اپنے والد سے آر ایس ایس پروگرام میں نہ جانے کی اپیل کی تھی۔ شرمسٹھا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ تقریر تو بھلادی جائے گی۔ لیکن تصویریں ہمیشہ رہیں گی۔ تقریر کو لوگ بھول جائیں گے۔ شرکت کی تصویریں باقی رہ جائیں گی، جنہیں جعلی بیانات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
کانگریس ناخوش:سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی ناگپور میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں کانگریس کے بزرگ رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن احمد پٹیل نے مسٹر مکھرجی کے متذکرہ تقریب میں شرکت پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے ۔سوشیل میڈیا پر کل رات مسٹر پٹیل نے جو سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ پرنب دا سے اس کی امید نہیں تھی۔

   

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: