سرورق / خبریں / تعلیمی معذوری کا شکار طلباء کیلئے ماہر اساتذہ کا تقرر ضروری –

تعلیمی معذوری کا شکار طلباء کیلئے ماہر اساتذہ کا تقرر ضروری –

بنگلور،  عمدہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار خصوصی معلمین کی قلت نے خصوصی توجہ کے طالب ان طلباء کے لئے جو اصل دھارے کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، پریشانیاں پیدا کردی ہیں۔ سنٹرل بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے پچھلے دنوں ایک گشتی مراسلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس سے ملحق تمام تعلیمی اداروں کے لئے لازمی ہوگا کہ اپنے یہاں معذور اور خصوصی توجہ کے طالب بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے تجربہ کار خصوصی معلمین کا تقرر کیا جائے۔تعلیمی معذوری سے متعلق ماہر اور لرننگ آرک کی بانی سیما بھوشن نے سی بی ایس ای کے اقدام کی تعریف کی ہے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے مؤثر نفاذ کے لئے مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ’’میں شہر کی کئی اسکولوں کے ساتھ کام کر تی ہوں، شہر میں کئی ایسے معروف تعلیمی ادارے ہیں جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کے سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں۔بعض تعلیمی ادارے جن میں خصوصی معلمین موجود ہیں، سیکھنے سے متعلق معذوری کو ٹھیک طرح سے پہچاننے اور اس کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہو تے ہیں‘‘۔سیما کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سارے معاملات میں جن بچوں میں سیکھنے سے متعلق معذوری کی تشخیص ہوتی ہے ، ان کے والدین اس کی اطلاع اسکولوں میں نہیں دیتے ،اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں ان کے بچوں کے ساتھ اسکول میں امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔سیما نے کہا کہ’’حالیہ دنوں میں سیکھنے سے متعلق معذوری کے سلسلہ میں کافی بیداری پائی جاتی ہے، اسی لئے حالات تبدیل ہو رہے ہیں ، لیکن وسائل کی دستیابی کے سلسلہ میں کافی خلاء پایا جاتا ہے، خاص طور پر یہ صورت حال چھوٹے خانگی اسکولوں میں پائی جاتی ہے‘‘۔اس طرح کے معذور بچوں کے والدین اپنے بچوں کو اصل دھارے کی اسکولوں میں داخل کرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں مساوی مواقع حاصل ہو سکیں۔آٹیزم کا شکار بچوں اور بڑوں کو سہارا فراہم کرنے کے لئے قائم سپورٹ فاونڈیشن (آئی ایس ایف) کی بانی جوہی رمنی کا کہنا ہے کہ’’والدین یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے، اصل دھارے کی اسکولوں میں شریک ہو نے والے بچوں کو آزاد رہنے اور معاشرہ کے ساتھ خود کو جوڑ لینے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں‘‘۔دس سال قبل جوہی کو اپنے آٹزم کا شکار بھائی کے لئے ایک اصل دھارے کی اسکول کو تلاش کرنا مشکل ہوا تھا، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ حالات کافی تبدیل ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ’’ان دنوں تعلیمی ادارے کم از کم اس طرح خصوصی توجہ کے طالب بچوں کو اپنے یہاں قبول کر رہے ہیں، ان میں بعض اسکولوں میں خصوصی معلمین بھی پائے جاتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ ان کی صلاحیتیں کس درجہ کی ہیں‘‘۔اسکولوں کو در پیش سب سے بڑا چیلنج تجربہ کار تربیتی ماہرین کی دستیابی ہی ہوتی ہے۔دہلی پبلک اسکول (شمال) کی پرنسپل منجو بالا سبرامنیم نے بتایا کہ’’خصوصی معلمین کی مانگ بہت زیادہ ہے جبکہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد کی تعداد بہت کم ہے، ان کا بھی کسی اسکول کے لئے دستیاب ہونا کافی مشکل ہوتا ہے، ان میں سے اکثر اپنے طور پر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ اس طرح وہ زیادہ کمائی کر سکتے ہیں‘‘۔ان کی اسکول میں چار خصوصی معلمین موجود ہیں جو جماعتوں کے اساتذہ کے ساتھ مل کر کام کر تے ہیں اور انہیں بچوں کی ضروریات کی بنیاد پر تدریسی مواد کی تیاری میں مدد کرتے ہیں اور اساتذہ و والدین کی تربیت کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔منجو نے بتایا کہ’’ان خصوصی معلمین کو سہارا دینے کے لئے ہم نے خصوصی توجہ کے طالب بچوں کی نشاندہی کرنے کے تعلق سے 57اساتذہ کو تربیت بھی فراہم کی ہے۔ہمارے یہاں ان بچوں کے والدین کو بھی اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اسکول میں آ کر اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیں تاکہ وہ اپنے گھروں میں اسی طریقہ کار کو اختیار کریں‘‘۔پرنسپل نے کہا کہ سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی کی طرف سے مشترکہ تعلیمی نظام پر زور کے پیش نظر یہ امید کی جا رہی ہے کہ زیادہ تعداد میں خصوصی تعلیم کے میدان میں افراد داخل ہونے والے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: