سرورق / خبریں / تحریک عدم اعتمادپر بحث شروع، بی جےڈی کاواک آؤٹ

تحریک عدم اعتمادپر بحث شروع، بی جےڈی کاواک آؤٹ

نئی دہلی، بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے واک آؤٹ اور اپوزیشن جماعتوں کے طے وقت کی حد بڑھانے کی مانگ کے درمیان مودی حکومت کے خلاف پہلے تحریک عدم اعتماد پر آج لوک سبھا میں بحث شروع ہو گئی۔

ایوان کی کارروائی صبح شروع ہوتے ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری کاغذات ایوان میں پیش کرنے کے بعد تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کےرکن کے۔سرینواس نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی تجویز کے بارے میں کہا کہ پورے دن بحث کے بعد شام چھ بجے پولنگ ہوگی۔ انہوں نے تمام مقررین سے وقت کی حد اور “دوسروں کاطےوقت” کا خیال رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج وقفے بھی نہیں ہوں گے۔

تبھی کانگریس کے ملک ارجن كھڑگے نے کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کو بحث کے لئے طے وقت کو ناکافی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم تجویز ہے۔ پہلے بھی تحریک عدم اعتماد پر دو دن، تین دن تک بحث ہوئی ہے اور اسی لئے آج کی بحث کے لئے بھی کوئی وقت کی حد نہیں ہونی چاہیے۔

اسی درمیان بیجد کے مہتاب نے کہا کہ گزشتہ 14 سال میں یو پی اے حکومت کے 10 سال اور این ڈی اے حکومت کے چار سال کی مدت میں اڑیسہ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور آج کی بحث سے بھی ریاست کو کوئی فائدہ ہونےوالا نہیں ہے۔ لہذا ان کی پارٹی ایوان سےواک آؤٹ کر رہی ہے۔ اس کے بعد بی جے ڈی کے تمام اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔

پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے مختلف جماعتوں کے لئےتجویز پر بولنے کی وقت کی حد کے بارے میں کہاکہ ون ڈے کے زمانے میں اپوزیشن پانچ دن کا ٹیسٹ میچ کھیلناچاہتی ہے۔تحریک عدم اعتمادکاموازنہ کرکٹ سے کرنے پر اپوزیشن کے کچھ ارکان نے هنگامہ شروع کر دیا۔ ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے بھی کہا کہ اپوزیشن کو زیادہ وقت دیا جانا چاہیے۔

اس کے بعداسپیکرنے تمام ارکان کو پرسکون کراتے ہوئے مسٹر سرینواس سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنےکو کہا۔ ان کی تجویز پیش کرنے کے بعد مسز مہاجن نے بتایا کہ ٹی ڈی پی رکن نے زور دیا ہے کہ ان کی جانب سے پارٹی کے جے دیوگلاکوبحث کے آغاز کرنے کی اجازت دی جائے جسے انہوں نےمنظور کر لیا ۔ اسپیکر کی اجازت سے مسٹر گلا نے تحریک عدم اعتماد پر بحث شروع کی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: