سرورق / خبریں / تحریک اعتماد کاسامناکرنے سے پہلے ہی ایڈی یورپا نے ہتھیار ڈال دےئے ملک کے آئین اور قانون سے بڑا کوئی نہیں ۔ کرناٹک میں یہ ثابت ہوگیا :سدارامیا

تحریک اعتماد کاسامناکرنے سے پہلے ہی ایڈی یورپا نے ہتھیار ڈال دےئے ملک کے آئین اور قانون سے بڑا کوئی نہیں ۔ کرناٹک میں یہ ثابت ہوگیا :سدارامیا

بنگلورو ،آخر کار ریاستی اسمبلی میں جمہوریت اوردستور کی جیت ہوئی ۔ آج اسمبلی میں تحریک اعتماد کا سامنا کرنے سے پہلے ہی ڈھائی دن کے سلطان وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے ہتھیار ڈال دےئے اوروزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کااعلان کردیا ۔ اگلے 24گھنٹوں میں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکم کے بعد ہی بشمول بی جے پی قیادت ایڈی یورپا کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ اب اقتدار ان کے ہاتھ میں باقی نہیں رہے گا ۔ حالانکہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرتے وقت ایڈی یورپا نے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے صرف ایک ہفتہ کاوقت مانگا تھا لیکن ریاستی گورنر واجو بھائی والا نے بی جے پی کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیتے ہوئے اکثریت ثابت کرنے 15دنوں کا وقت دیا ۔ اگر ایڈی یورپا کی قیادت والی حکومت کو ایک ہفتہ کی بھی مہلت مل جاتی تو ایک ہفتہ بعد صورتحال کچھ اور ہی ہوتی ۔ ایک رکن اسمبلی کو وزارت کے ساتھ دیڑھ سو کروڑ کی پیش کش کے روبرو کانگریس اور جے ڈی ایس کے کئی ایک اراکین اسمبلی اپنے ایمان کو بیچنے میں دیر نہ کرتے ۔ لیکن سپریم کورٹ کے کل کے تاریخی فیصلہ نے بی جے پی کو خریدنے کا وقت ہی نہیں دیا اور اراکین کو فروخت ہونے کی مہلت نہیں ملی۔ پچھلے تین دنوں سے غائب اراکین اسمبلی آنند سنگھ اور پرتاب گوڈا پاٹل کو آج عین وقت پر کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیو کمار نے اسمبلی میں لاکر پیش کردیا ۔ آج صبح میں جب اسمبلی کا خصوصی اجلاس شروع ہوا اور نئے اراکین اسمبلی کو حلف دلانے کے دوران آنند سنگھ اور پرتاب گوڈا پاٹل کے نام پکارے گئے تو دونوں ایوان میں حاضر نہیں تھے ۔ جب پتہ چلاکہ دونوں ایک ہوٹل میں ہیں تو کانگریس نے انہیں فوری اسمبلی میں حاضر ہونے وہپ جاری کردیا اور پولیس کی مدد بھی طلب کرلی۔ انہیں ہوٹل سے ایوان لاکر ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ دونوں کو ایوان لایا گیا ہے۔حالانکہ بی جے پی کو یہ علم تھا کہ ان کی تعداد 104ہے ۔ اس کے باوجود انہوں نے دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی ۔ حالانکہ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ کے اعلان سے قبل ایڈی یورپا نے کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد پر جم کر اپنی بھڑاس نکالی۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا اس پر جواب دینے کھڑے ہونے سے قبل ہی اسمبلی کے عبوری اسپیکر کے جی بوپیا نے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا ۔
آئین اورجمہوریت کی جیت
اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے اختتام پر اسمبلی لاڈج میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود بی جے پی کی مرکزی قیادت بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدرامیت شاہ نے ہٹ دھرمی کی۔ مودی کو ہٹلر اور امیت شاہ کو گوبلس قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ دونوں کی ہدایت پر ریاستی گورنر وجو بھائی والا نے عمل کیا ۔ پچھلے چار دنوں سے گورنر نے جو حرکتیں کیں اس سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کرناچ رہے تھے۔ آخر کار جمہوریت ملک کے دستور اور قانون کی حکمرانی کی جیت ہوئی ہے ۔ہندوستان کی تاریخ میںآج کا دن تاریخ کا حامل ہے ۔ آج ثابت ہوگیا کہ ملک کا قانون اور آئین سب سے بڑھ کر ہے ۔ایڈی یورپا نے خود ایوان میں قبول کیا ہے کہ بی جے پی نے بھاری پیمانے پردیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تھی ۔ لیکن وہ ناکام رہے ۔ فرقہ پرست قوت کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے پارٹی کے اراکین اسمبلی نے جو متحد ہونے کا مظاہرہ کیا اس کے لئے انہوں نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد دیتے ہوئے شکریہ بھی ادا کیا۔ دریں اثناء رام لنگاریڈی نے بتایا کہ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت میں بہت جلد کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت قائم ہوگی ۔ لیکن گورنر کی دعوت کاانتظار ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: