سرورق / بین اقوامی / بی جے پی یووا مورچہ کی غنڈہ گردی جھارکھنڈ میں سوامی اگنی ویش کے ساتھ مار پیٹ –

بی جے پی یووا مورچہ کی غنڈہ گردی جھارکھنڈ میں سوامی اگنی ویش کے ساتھ مار پیٹ –

پاکوڑ’ : (یوا ین آئی) جھارکھنڈ کے پاکوڑ ضلع میں سماجی کارکن سوامی اگنی ویش کی کچھ لوگوں نے پٹائی کردی۔سوامی اگنی ویش آج یہاں منعقد ایک پروگرام میں حصہ لینے والے تھے ۔ پروگرام میں حصہ لینے سے پہلے ہی مسٹر اگنی ویش کو ان کے ہوٹل کے باہر کچھ لوگوں نے پٹائی کردی۔ سوامی اگنی ویش کے دورے کے خلاف سیاہ پرچم دکھانا شروع کردیا۔ تنازعہ صرف دھکا مکی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ مشتعل لوگوں نے سوامی اگنی ویش کو دھکیل کر نیچے گرادیا اور ان کے کپڑے تک پھاڑ ڈالے ۔اس دوران مسٹر اگنی ویش نے الزام لگایا کہ بی جے پی یووا مورچہ اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنوں نے ان پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ جھارکھنڈ ایک پرامن ریاست ہے لیکن اس واقعہ کے بعد میرے خیالات بدل گئے ہیں۔دوسری طرف پورے معاملے کے سلسلے میں ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا اور ٹیلی ویزن چینلوں پر چل رہا ہے جس میں ہجوم سماجی کارکن اور ان کے حامیوں کو مبینہ طورپر پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے ۔خیال رہے کہ سوامی اگنی ویش لٹی پاڑا میں منعقد پہاڑیا سماج کے 195 دامن دیوس کے موقع پر منعقد پروگرام میں حصہ لینے کے لئے آج صبح پاکوڑ پہنچے تھے۔
سوامی اگنی ویش کو سچ بولنے کی سزادی گئی ہے : جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے سناتن گرو،ممتاز سماجی کارکن اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علمبردار سوامی اگنی ویش پر جھارکھنڈ میں ہوئے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لئے بدقسمتی کی بات ہے کہ سوامی اگنی ویش جی کو تشددکا نشانہ اسی روز بنایا گیا جس دن عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ جمہوریت میں ہجومی تشددکے لئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی ، مولانا مدنی نے کہا کہ آج سوامی اگنی ویش کو جس طرح جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں تشددکا شکاربنایا گیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کس طرح اس وقت اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھ رہے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرہر اس شخص کو ظلم وزیادتی کا شکاربنارہے ہیں جو ان کے نظریہ کا مخالف ہے ، اس طرح کے حادثات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہجومی تشددکو روکنے کے لئے نہ تومرکزی سرکارسنجیدہ ہے اور نہ ہی ریاستیں ، انہوں نے کہا کہ سوامی اگنی ویش پر یہ حملہ ان کی زبان بندکرنے کے لئے کیا گیا ہے ، آخرمیں انہوں نے کہا کہ مرکزسے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ نہ صرف خاطیوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے بلکہ عدالت عظمی ٰ کی ہدایت کے مطابق ہجومی تشددپر قابوپانے کے لئے جلد ازجلد ایک مؤثر قانون بھی لائے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: