سرورق / خبریں / بی جے پی حکومت’ لڑاؤ اور حکومت کرو ‘کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ مولانا عرفی قاسمی

بی جے پی حکومت’ لڑاؤ اور حکومت کرو ‘کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ مولانا عرفی قاسمی

نئی دہلی، گؤ رکشک دلوں کی غنڈہ گردی اور تحفظ گائے کی آڑ میں بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری، زد و کوب ،قتل کے معاملات ، اقلیتوں اور دلتوں پرمبینہ مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے الزام لگایا کہ موجودہ بی جے پی حکومت’ لڑاؤ اور حکومت کرو ‘کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے جاری بیان میں الزام لگایا کہ اس لیے وہ شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کرکے اور انھیں بے قصوروں کے خلاف ورغلا کر اپنا الو سیدھا کر رہی ہے۔ انھوں نے ریاست جھارکھنڈ میں گائے تحفظ کے نام پردرجنوں قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس جمہوری ملک میں ہر شہری کو آزادانہ طور پر رہنے، اپنا کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تو پھر گؤ کشی کے نام پر کسی شخص کوزدو کوب کرنا اور اس کو موت کے گھاٹ اتار دینا ازروئے قانون غلط ہے۔
انھوں نے دعوی کیاکہ اس سے بڑی بے شرمی کیا ہوگی کہ بعض طبقے کے اشارے پر نہ صرف قاتلوں اور مجرموں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے، بلکہ انھیں وزرا اورلیڈروں کے ذریعے عزت افزائی بھی کی جاتی ہے ۔ مولانا نے الزام لگایا کہ دادری میں اخلاق احمد، میوات میں پہلو خان،راجستھان میں افرازل اور جھارکھنڈ میں علیم الدین انصاری کے قتل کے پیچھے کار فرما ذہنیت پر غور کیا جائے تو یہی نکتہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اپنی سیاسی نا کامیوں پردہ ڈالنے کے لیے مذہب کی پناہ لے رہی ہے۔ وہ مندر مسجد، گائے، لو جہاد، تبدیلی مذہب، گھر واپسی اور دوسرے مذہبی تنازعات میں ہندو مسلمانوں کو الجھا کر2019میں ووٹوں کی فصل کاٹنا چاہتی ہے۔ وہ ہند مسلم کارڈ کھیل کر پورے ملک میں یہ فضا قائم کرنا چاہتی ہے، تاکہ انھیں یہ سوچنے اور سوال کرنے کا موقع ہی نہ ملے کہ کہ مرکزی سرکار نے اپنے پانچ سالہ دوراقتدار میں عوام، کسانوں اور بے روزگاروں کے لیے کیا کیا؟
انھوں نے کہا کہ جس طرح شر پسند عناصر ملک کے گوشے گوشے میں نفرت، تشدد اور قتل و غارت گری پر اترے ہوئے ہیں اس سے اس ملک کی عالمی پیمانے پر شبیہ مجروح ہورہی ہے، ہندستان میں عدم تحفظ کے خطرات کی وجہ سے دوسرے یورپی ممالک کے تاجر بغرض تجارت آنے سے کترانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کی اقتصادی شرح نموبھی کم ہورہی ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ یہاں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے،کسان ہر دن خود کشی کر رہے ہیں، عورتوں کی عصمت سڑکوں پر پامال ہورہی ہے، مگر حکومت ان امور پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے بھی گؤ رکشک دلوں پر لگام کسنے اور گؤ تحفظ کی آڑ میں اقلیتوں پر جبر کرنے والے عناصر کی نشان دہی کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے، مگر یہ سارے عدالتی احکامات بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ انھوں نے مسلم تنظیموں اور ملک کے انصاف پسند افراد سے ملک کی اقلیتوں کو تحفظ کے معاملے کو زور و شور سے سڑک سے لے کر عدالت تک اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کے افراد کے دل میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور انھیں ملک کے نقشہ میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنا ایک جمہوری ملک کی پیشانی پر بد نما داغ کے مترادف ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: