سرورق / خبریں / بی ایم آر سی ایل، میٹرو مسافرین کو در پیش مسائل پر بھی غور کرے –

بی ایم آر سی ایل، میٹرو مسافرین کو در پیش مسائل پر بھی غور کرے –

بنگلور،  نما میٹرو کے ملازمین اور انتظامیہ (بی ایم آر سی ایل) کے درمیان پچھلے کئی ماہ سے جاری رسہ کشی شاید حتم ہو چکی ہے اور ملازمین کے مسائل کو کسی حد تک قابو میں کر لیا گیا ہے، لیکن شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایم آر سی ایل کو مسافرین کے مسائل پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔بنگلور شہر میں نما میٹرو کے اجراء کے بعد، شہر کی ٹریفک سے پریشان حال افراد نے اسے ایک نعمت غیر مترقہ تصور کیا تھا اور بڑی تعداد میں اس میں سفر کو اختیار کیا ۔ پہلے نما میٹرو پر روزانہ سفر کرنے والے مسافرین کی تعداد دو لاکھ ہی تھی لیکن دو ماہ قبل گرین میٹرو کے شروع ہو جانے کے بعد مسافرین کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیا، ماہرین کا خیال بلکہ خود کاروپریشن کا یہ اندازہ تھا کہ یہ تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے لیکن نما میٹرو اس ہدف کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں ابھی ایک لاکھ کے عدد سے پیچھے رہ گئی ہیں اور ماہرین کا خیال یہ ہے کہ اس کی وجہ میٹرو کے راستے اور اسٹیشنوں پر بنیادی سہولیات کے سلسلہ میں پائی جانے والی کو تاہیاں ہیں،معمول کے مسافرین ایسے بہت سے معاملات کی نشاندہی کرتے ہیں جن میں صارفین کو دقتوں کا سامنا ہو رہا ہے۔سیکیورٹی اور سامان کی جانچ کے لئے لمبی قطاروں سے لے کر ٹکٹ جاری کرنے والے کاؤنٹر، ایسکلیٹر اور ایلیویٹر وغیرہ ہر ایک کے تعلق سے صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا موجودہ بنیادی ڈھانچہ ان تمام معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً موجودہ رخوں پر جن کی تعمیر کافی پہلے مکمل ہو چکی تھی۔اس کے علاوہ میٹرو اسٹیشنوں کے باہر پارکنگ کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے وہ افراد بھی متاثر ہیں جو میٹرو کا استعمال نہیں کرتے ۔مثال کے طور پر اندرا نگر کے مکینوں نے میٹرو لائن کے شروع ہونے کے بعد بارہا ان کے مکانوں کے سامنے بڑی تعداد میں کھڑی کی جانے والی نجی سواریوں کے مسئلہ کو اٹھایا ہے۔ایک مکین نے بتایا کہ’’ان سواریوں کے علاوہ ، اسٹیشن کے آس پاس ٹیکسیاں اور آٹو رکشا بھی ہجوم کر دیتے ہیں۔اب جبکہ شمال، جنوبی رخ کو شروع کردیا گیا ہے، حالات اور زیادہ ابتر ہو گئے ہیں۔ان اسٹیشنوں میں بھی جہاں مستقل سواریوں کی پارکنگ کا نظام موجود ہے جیسے نائنڈہلی اسٹیشن وغیرہ میں عام طور پر میٹرو استعمال کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ پارکنگ کی جگہ ناکافی ہے۔کچھ اور مسافرین کا کہنا ہے کہ میٹرو اسٹیشنوں میں جہاں پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے وہاں پارکنگ کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، خاص طور پر بائیپنا ہلی اسٹیشن میں سواروں سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔یہ مسئلہ تقریباً ہر ایک میٹرو اسٹیشن کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یہ بھی الزامات لگائے گئے ہیں کہ میٹرو اسٹیشنوں کے قریب موجود پارکوں اور بچوں کے کھیل کے میدانوں کو بھی پارکنگ لاٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے چہل قدمی کرنے والے بزرگ افراد اور کھیلنے کے لئے ان پارکوں میں جانے والے بچوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔مجسٹک کے کمپے گوڈا میٹرو اسٹیشن میں جہاں پرپل اور گرین لائنیں ملتی ہیں، پارکنگ کا مسئلہ اور بھی زیادہ شدید ہوجاتا ہے۔اس اسٹیشن سے سفر کرنے والے ایک مسافر انوج ایس نے کہا کہ’’کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ پارکنگ کہاں بنائی گئی ہے‘‘۔البتہ بی ایم آر سی ایل کے افسران کا کہنا ہے کہ صارفین بی ایم ٹی سی، کے ایس آر ٹی سی اور کرانتی ویر سنگولی راینا ریلوے اسٹیشن کے پارکنگ مقامات کو استعمال کر سکتے ہیں۔مسافرین اسٹیشنوں کے اندر موجود سہولیات کے سلسلہ میں بھی پریشان ہیں، خاص طور پر مصروف اوقات میں صارفین کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔میسور روڈ سے ایم جی روڈ کا سفر کرنے والے آر وجے نے بتایا کہ’’کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسکلیٹر کام نہیں کرتے ، ادھیڑعمر اور بزرگ افراد کو مجبوراً طویل سیڑھیوں پر سے چڑھ کر جانا پڑتا ہے‘‘۔نما میٹرو کے عام مسافرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اسٹیشنوں سے باہر نکلنے اور داخلے کے راستوں پر ٹکٹ اور میٹرو کارڈ جاری کئے جانے والے کاؤنٹرس کی تعداد بہت کم ہے، وجے نے کہا کہ’’مصروفیت کے اوقات میں داخلی دروازوں پر ٹوکن حاصل کرنے کے لئے ہمیں بہت دیر تک اور کافی طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، آنے والے دنوں میں ہمیں ڈر ہے کہ یہ انتظار اور بھی زیادہ طویل ہوجائے گا، کیونکہ لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہی ہو تا جارہا ہے، لیکن بنیادی ڈھانچہ تو اب بھی وہی ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بھونگیر حادثہ۔تلنگانہ کے وزیراعلی کا اظہار افسوس

حیدرآبادتلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ضلع یادادری بھونگیر میں پیش آئے سڑک حادثہ …

جواب دیں

%d bloggers like this: