سرورق / خبریں / بچہ مزدوری کی روایت کا خاتمہ ہر ایک کی ذمہ داری کولار میں منعقد ’’ عالمی یوم مخالف بچہ مزدوری‘‘ کے افتتاح کے موقع پر جج این ایس ممدا پورا کا خطاب

بچہ مزدوری کی روایت کا خاتمہ ہر ایک کی ذمہ داری کولار میں منعقد ’’ عالمی یوم مخالف بچہ مزدوری‘‘ کے افتتاح کے موقع پر جج این ایس ممدا پورا کا خطاب

کولار: (سید تبریز) بچہ مزدوری مخالف دن صرف حکومت یا کسی محدود محکمہ کی طرف سے منایا جائے یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ بچہ مزدوروں کی روایت کے خاتمہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات ڈسٹرکٹ سیشن جج و ڈسٹرکٹ لیگل سرویس اتھارٹی کے چیرمین این ایس ممدا پورا نے کہی۔ انہوں نے آج یہاں شہر کے ٹی چنیا رنگا مندر میں ضلع انتظامیہ، ڈسٹرکٹ لیگل سرویس اتھارٹی، ڈسٹرکٹ چائلڈ لیبر رجسٹریشن کنٹرول اسوسی ایشن، محکمہ محنت اور اڈوکیٹس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی یوم مخالف بچہ مزدوری کے جلسے کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو چاہئے کہ لازمی طور پر تعلیم حاصل کریں۔بچوں کو زبردستی مزدوری پر لگانا یا کمانے کیلئے روانہ کرنا جرم ہے۔اگر کہیں بچہ مزدوری کرتے ہوئے دکھائی دے تو ایک اچھے شہری ہونے کے ناطے اس کی اطلاع ضرور ہیلپ لائن نمبر کے ذریعہ متعلقہ محکمہ کے افسروں کو دیں۔اطلاع دینے والے کا نام اور پتہ خفیہ رکھا جائے گا۔ جج ممدا پورا نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو اچھی پرورش اور ان کے بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ بچوں کی خواہش پوری کرنے اور ان کے مطالبات پورے کرنے میں والدین اپنی زندگی لگادیتے ہیں۔ بچوں کو بھی چاہئے کہ ماں باپ کی قدر کریں اور ان کی خواہش کو پورا کریں۔ ضلع پنچایت چیف ایگزی کیٹیو آفیسر کے ایس لتا کماری نے اس موقع پر حلف دلایا اور کہا کہ بچہ مزدوری کی روایت کے خاتمہ کیلئے ہر ایک کو جدوجہد کرنی ہوگی۔ بچہ مزدور مخالف دن کے اس موقع پر ہر ایک کو اپنا بچپن ضرور یاد آئے گا۔ مگر بچپن کی ایک بھول اور نادانی زندگی بھر پچھتا نے پر مجبور کرسکتی ہے۔اس لئے بچوں کو چاہئے کہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے روشن مستقبل کیلئے جدوجہد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم، صحت، آزادی اور پاک وصاف ماحول بچوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ ان حقوق کی پامالی ہوتے ہوئے دکھائی دے تو فوراً 1098 پر فون کال کر کے اطلاع دیں ضرور قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ بچہ مزدوری پر پابندی 1986 میں عائد کی گئی اس کے تحت ہر سال 12؍جون کو بچہ مزدوری مخالف دن منایا جاتا ہے۔ اس سال ’’ تحفظ اور صحت مند پیڑھی ہماری ہو‘‘ کے نعرے کے ساتھ بچہ مزدوری مخالف دن منایا جارہا ہے۔ ڈسٹرکٹ لیگل سرویس اتھارٹی کے ممبر سکریٹری و سینئر سیول جج گروراج شیرول نے کہا کہ بچوں کا اغوا کرکے زبردستی کام پر لگانا یا بھیک مانگنے پر مجور کرنا بھی جرم ہے۔ اس طرح کے معاملات زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا میں آج اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔اسکولوں سے دوری اختیار کئے ہوئے بچوں کے بارے میں متعلقہ افسروں، اساتذہ یا والدین کو اطلاع دیں اور پھر سے بچوں کو اسکول کی طرف لانے میں مدد کریں۔ اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیو نے کہا کہ بچہ مزدوری سماج میں ایک بری بیماری کے مانند ہے۔ اس کا مکمل صفایا ضروری ہے۔غریبوں اور ناخواندہ لوگوں میں زیادہ تر بچہ مزدوری کی روایت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانے کیلئے تعلیم اور بیداری کی ضرورت ہے۔ بچہ مزدوری مخالف دن کے جلسے سے قبل شہر کے گاندھی پارک سے اسکول طلبہ کی طرف سے جاتھا کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر بی ٹی نرنجن، محکمہ تعلیم کے ڈی ڈی پی آئی سوامی، اڈوکیٹس اسوسی ایشن کے بی آر جئے رام، محکمہ بہبود خواتین و اطفال کی ڈپٹی ڈائرکٹر ساؤمیا، بلاک ایجوکیشن آفیسر جی رگھوناتھ ریڈی اور دیگر موجود تھے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: