سرورق / خبریں / بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات پر روک تھام کیلئے مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ –

بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات پر روک تھام کیلئے مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ –

کلکتہ، (یو این آئی) مغربی بنگال حکومت غیر سرکاری این جی او کے ساتھ مل کر بچوں کے خلاف اضافہ ہورہے جرائم کے واقعات پر روک تھام کیلئے مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آر بی )کی رپورٹ کے مطابق 2016میں بچوں کے کرائم کے خلاف 7004کیس درج کیے گئے ہیں ۔جو پانچ سرفہرست ریاستوں میں سے ایک ہے ۔اس فہرست میں اترپردیش سرفہرست کے بعد 14فیصد کے ساتھ مہاراشٹر دوسرے نمبر پر ہے ،مدھیہ پردیش 13فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ،دہلی 8فیصد کے ساتھ چوتھے پوزیشن پر ہے اور بنگال 6فیصد کے ساتھ پانچویں پوزیش پر ہے ۔بنگال میں اوسطاً یومیہ بچوں کے خلاف جرائم کے 20واقعات رونما ہوتے ہیں ۔جس میں اغوا، بچہ اسمگلنگ، جنسی زیادتی شامل ہے ۔ریاست میں کل 4178جرائم کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں 7004واقعات بچوں کے خلاف ہوئے ہیں ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت کل 2132کرائم کے کیس درج کیے گئے جس میں عصمت دری اور جنسی زیادتی کے معاملے شامل ہیں ۔جسم فروشی کیلئے بچیوں کی اسمگلنگ معاملے میں مغربی بنگال اس وقت سرفہرست ہے ۔یہاں کل 53.3فیصد کیس درج ہولے ہیں ۔2012 کے مقابلے 2016میں کل 17 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔۔بچیوں کے اسمگلنگ کے کل 27فیصد کیس درج ہوئے ہیں۔اغوا اور قتل کے 6.6فیصد معاملات درج کیے گئے ہیں یہ ملک میں پانچ سرفہرست ہے جس میں سے 5فیصد معاملات تو صرف کلکتہ شہر میں درج کیے گئے ہیں ۔چائلڈ رائٹ اینڈ کی ریجنل ڈائریکٹر اتیندرا ناتھ داس نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد وشمار کے مطابق مغربی بنگال میں بچیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کے واقعات کیلئے سماجی اور معاشی پسماندگی ایک بڑی وجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ والدین کو دھوکہ دے کر بچوں کی اسمگنگ کی جاتی ہے ۔بڑے شہروں میں کام دلانے کے نام پر والدین سے بچیوں کو لے لیتے ہیں اورپھر اس کے بعد جسم فروشی کے دھندے میں اس ڈھکیل دیا جاتا ہے ۔داس نے کہا کہ بنگال کے کئی اضلاع بین الاقوامی اور کئی ریاستوں کی سرحدوں سے متصل ہے اس کیلئے بھی یہاں جرائم کے واقعات رونما زیادہ ہوتے ہیں ۔تاہم داس نے کہا کہ یہ تمام جرائم ایسے ہیں کہ ان پر انگشت لگائی جاسکتی ہے بس ضرورت اس کی بات ہی کہ حکومت کی تمام مشنریوں کا استعمال کیا جائے اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے مہم چلائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ سی آر وائی اور دیگر این جی او بھی کام کررہے ہیں ۔مگر تال میل قائم کرلیا جائے تو بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں کمی آنا یقینی ہے ۔یواین آئی ۔نور۔ ظ ا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: