سرورق / خبریں / بنگلور شہر بڑے تعمیراتی میدان میں تبدیل ہو چکا ہے –

بنگلور شہر بڑے تعمیراتی میدان میں تبدیل ہو چکا ہے –

بنگلور۔ ریاستی وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے اپنے بجٹ میں بنگلور شہر کے ترقیاتی کاموں کے لئے 16,000؍کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جبکہ پچھلے سال کے بجٹ میں سابقہ سدا رامیا حکومت نے اس مقصد کے لئے7,300؍ کروڑ روپئے مختص کئے تھے، اس طرح بنگلور شہر کی ترقی کے لئے کمار سوامی نے سابقہ سے دگنی رقم کو منظوری دی ہیاور اسی کے ساتھ انہوں نے سابقہ حکومت کے تمام ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اگرچہ کے ریاستی وزیر اعلیٰ کی جانب سے بنگلور شہر کی تعمیر و ترقی کو اہمیت دی جانے کے معاملہ کا شہری ماہرین نے خیر مقدم کیا ہے لیکن وہ اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ شہری ترقیات اور بلدیہ کے ان ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں نے شہر میں افرا تفری پیدا کر رکھی ہے، جگہ جگہ درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے، راستوں کی کھدائی ہے اور گندے پانی کی نالیوں کی صفائی کی وجہ سے راستوں پر کیچڑ کے ڈھیر جگہ جگہ نظر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے راستہ چلتے سواروں اور پیدا چلنے والے راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت ان تمام کاموں کو مرحلہ وار انداز سے اور منصوبہ بند طریقہ پر انجام دے سکتی ہے۔کسی زمانہ میں شہر گلستاں کے نام سے جانے جانے والے اس شہر بنگلور میں اب آنکھوں کی تھنڈک کا کوئی سامان باقی نہیں رہ گیا ہے۔نہ صرف یہ کہ اس شہر کے اکثر درخت، پیڑ پودے غائب ہو گئے ہیں، بلکہ یہ پچھلے کچھ سالوں سے ایک بڑے تعمیراتی میدان میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے اور جگہ جگہ ترقیاتی منصوبوں کے زیر تکمیل ہونے کی وجہ سے ، راستوں پر لوگوں اور سواریوں کا اژدھام نظر آتا ہے اور اس نے لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے کام کے علاوہ جس نے شہر کی صورت بگاڑ کر رکھ دی ہے، شہر کے مختلف علاقوں جیسے قدیم ائیر پورٹ روڈ، قدیم مدراس روڈ، اوکلی پورم اور میسور روڈ سے مرکزی سلک بورڈ تک کے راستہ پر سگنل فری کاریڈور کی تعمیر، ایجی پورا جنکشن سے کورمنگلا کے کیندریہ سدن تک بالائی کاریڈور کی تعمیر، بنگلور ضلع کے ایک سو دس گاؤں کو کاویری کا پانی فراہم کرنے کے لئے جال کی تعمیر اور بلاری روڈ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے ہیبال میں انڈر برج کی تعمیر وغیرہ کے کام پوری تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامی منصوبوں کے سر اٹھانے کے معاملہ پر ، تقریباً مردہ ہو چکی میٹرو پالیٹن پلاننگ کمیٹی پر الزام عائد کرتے ہوئے شہری رضاکاروں کا کہنا ہے کہ علاقوں کے عوام کو اطلاع دینے یا ان سے مشاورت کے بغیر ہی جگہ جگہ چھوٹے اسٹیل فلائی اوور تعمیر کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں ایسا بنیادی ڈھانچہ وجود میں آرہا ہے جس کے بغیر بھی شہر کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ جگہ جگہ کھدائی کا کام کیا جا رہا ہے تاکہ برساتی نالیوں وغیرہ کو نئی شکل دی جا سکے، ایسے کئی راستے ہیں جہاں ٹار کی ضرورت بھی نہیں ہے ان پر کانکریٹ کے راستے تعمیر کئے جا رہے ہیں جس کے لئے کھدائی کا کام عوام کی پریشانیوں کو دابالا کر رہا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: