سرورق / خبریں / بنگلور جنوبی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا عہدہ کب تک خالی رہے گا؟

بنگلور جنوبی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا عہدہ کب تک خالی رہے گا؟

بنگلور،(فتحان نیوز) بنگلور یونیورسٹی جسے بنگلور جنوبی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے ، پچھلے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے بغیر وائس چانسلر کے کام کر رہی ہے اور اس کی وجہ ہے ریاست کے گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان کی رسہ کشی۔ریاستی حکومت اور گورنر کے بیچ اس رسا کشی کے درمیان اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں چھوٹی موٹی تقاریب کے انعقاد میں بھی پریشانیاں محسوس کر رہے ہیں اور بنگلور (جنوبی) یونیورسٹی میں حالات کافی خراب چل رہے ہیں۔ بنگلور (جنوبی) یونیورسٹی کے لئے کل وقتی اور مستقل وائس چانسلر کے انتخاب کے سلسلہ میں کہیں سے کوئی حرکت نہیں دیکھی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ پچھلے سال کے اوائل میں یعنی ماہ فروری ہی میں اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر تمے گوڈا کی طرف سے اس عہدے کو خالی کر دئے جانے کے بعد بنگلور یونیورسٹی (موجودہ بنگلور جنوبی یونیورسٹی) کے لئے مستقل وائس چانسلر کا اب تک انتخاب نہیں ہوا ہے۔اس وقت سے اب تک یونیورسٹی نے چار کارگزار وائس چانسلر دیکھے ہیں۔۔۔ پروفیسر جگدیش پرکاش، پروفیسر ایم منی راجو ، پروفیسر ایچ این رمیش اور اب پروفیسر وی سدیش۔حالانکہ کارگزار وائس چانسلر یونیورسٹی کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہیں لیکن انہیں یونیورسٹی کے تعلق سے کوئی بھی اہم فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہوتا۔تدریسی عملہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں یونیورسٹی میں معمولی تقاریب منعقد کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے اس لئے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آرہی ہے۔
ریاستی حکومت بمقابلہ گورنر:
جہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ریاستی حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کی پسند کے امید وار کو یونیورسٹی کے اس اہم عہدے پر فائز کیا جائے ریاستی گورنر کے ذہن میں البتہ وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں کچھ الگ ہی خیالات پائے جاتے ہیں۔محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر نے ریاستی حکومت کی طرف سے وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں انتخاب پر سوال کھڑا کئے تھے اور اس سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے ریاستی حکومت کی طرف سے گورنر کی خدمت میں وضاحت بھی روانہ کر دی تھی۔خود ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسوا راج رایا ریڈی نے حال ہی میں ایک مقامی انگریزی اخبار سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’’گورنر کے نام خط خود میرے دفتر سے گیا تھا اور ہم نے گورنر کی خدمت میں تمام وضاحتیں پیش کردی تھیں، اب ان کا فیصلہ ہے جو کہ آنا باقی ہے ، جب تک وہ جواب نہیں دے دیتے ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں‘‘۔جب اس معاملہ پر سوال کیا گیا کہ مستقل وائس چانسلر کی عدم موجودگی کی وجہ سے یونیورسٹی میں کسی بھی تقریب کے انعقاد میں دقت محسوس ہو رہی ہے ، رایا ریڈی نے کہاکہ ’’یہ سوال تو آپ کو گورنر کے دفتر سے کرنا ہے مجھ سے نہیں‘‘۔ریاستی حکومت اور گورنر کے درمیان اس جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے اور اسی دوران ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو آسانی کے ساتھ حل کر لیا جا سکتا ہے اگر دونوں فریق ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے لئے دونوں ہی تیار نہیں ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر بضد نظر آتے ہیں۔
کیا چیز داؤ پر لگی ہے؟
جہاں ریاستی حکومت طلباء کے مستقبل اور ان کی تقدیر کے سلسلہ میں بالکل ہی فکر مند نظر نہیں آرہی ہے وہیں وائس چانسلر کے دفتر میں کچھ نا مناسب کارروائیوں کے انجام پانے کے سلسلہ میں بھی رپورٹیں آرہی ہیں۔بنگلور (جنوبی) یونیورسٹی کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’وائس چانسلر کے دفتر میں بہت زیادہ گڑ بڑیں ہو رہی ہیں، ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ، وہ لوگ وائس چانسلر کے دفتر میں آتے ہیں اور کارگزار وائس چانسلر پر دباؤ بنایا جاتا ہے کہ وہ کچھ اہم کاغذات پر دستخط کریں‘‘۔تدریسی عملہ کے ذرائع نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وائس چانسلر کے دفتر میں غیر مناسب کارروائیاں انجام پا رہی ہیں۔یونیورسٹی کے افسران نے اس بات پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ وہ یونیورسٹی کے تعلق سے کوئی بھی مضبوط کارروائی سے متعلق کوئی منصوبہ تیار نہیں کر پا رہے ہیں اور کسی بھی تقریب یا سرگرمی کے لئے تاریخ کا تعیین بھی مشکل ہو رہا ہے۔ان سر گرمیوں اور تقاریب کے انعقاد کے لئے وائس چانسلر کی اجازت ضروری ہوتی ہے جبکہ کار گزار وائس چانسلر ان معاملات پر کوئی فیصلہ نہیں لے رہے ہیں اس لئے کہ یہ کارروائی ان کے لئے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’یونیورسٹی میں کسی بھی تقریب کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ ہم کسی بھی کارروائی کے لئے کوئی تاریخ طے کر سکتے ہیں لیکن خوف یہ ہوتا ہے کہ اگر اسی دوران کوئی نئے وائس چانسلر آجاتے ہیں تو اس کے بعد ان کا کیا فیصلہ ہوگا، اس طرح ہم لوگ ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور یونیورسٹی کی تقاریب میں تاخیر ہوتی جا رہی ہے‘‘۔لیکن وائس چانسلر کے دفتر نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بات درست ہے کہ کار گزار وائس چانسلر کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ، اس لئے کہ وہ ان کی کامیابیوں کی فہرست میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی کارروائی سے متعلق دستاویزات کو آگے بڑھانے کے سلسلہ میں احتیاط ہی برتیں گے‘‘۔واضح رہے کہ تیسرے کارگزار وائس چانسلر پروفیسر ایچ این رمیش کے دور میں بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آئے تھے جس کے بعدانہیں تبدیل کر کے وی سدیش کو ان کی جگہ کار گزار وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا۔ اب ریاستی اسمبلی کے انتخابات اور اس کے بعد ریاست میں بننے والی نئی حکومت کے اقدامات کا انتظار ہی باقی رہ گیا ہے، ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا نئی حکومت اور ریاستی گورنر کے خیالات میں یکسانیت پیدا ہو سکتی ہے اور بنگلور یونیورسٹی کو ایک مستقل وائس چانسلر حاصل ہو سکتے ہیں؟

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: