سرورق / خبریں / بلاٹلی خداخداکرکے۔ڈھائی دن کے وزیراعلیٰ مستعفی کانگریس اور جے ڈی ایس خیمہ میں خوشی کی لہر۔کمار سوامی حکومت سازی کے لئے مدعو۔پیر کو حلف برداری-

بلاٹلی خداخداکرکے۔ڈھائی دن کے وزیراعلیٰ مستعفی کانگریس اور جے ڈی ایس خیمہ میں خوشی کی لہر۔کمار سوامی حکومت سازی کے لئے مدعو۔پیر کو حلف برداری-

بنگلورو:ریاست کرناٹک میں بی جے پی کو آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدنے میں بُری طرح شکست ہوئی جبکہ جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔ ڈھائی دن کے وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا آج ریاستی اسمبلی میں تحریک اعتماد کا سامنا کرنے سے پہلے ہی وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کرنے کے فوری بعد کانگریس قیادت نے یہ بات کہی۔ کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالانے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاہے کہ کنول بی جے پی کا انتخابی نشان ہے۔ لیکن ان کا آپریشن کنول بُری طرح ناکام رہا اور ایڈی یورپا نے ڈھائی دن وزیراعلیٰ رہنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑدیا۔ اس پورے ڈرامے میں آخر کار جمہوریت اور دستور کی جیت ہوئی۔
غنیمت ہے کہ ملک میں سپریم کورٹ کا وجود ہے: سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک میں فی الحال جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) پر کرناٹک اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے ہتھکنڈے اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ بی جے پی اقتدار کے لئے کچھ بھی کر لیتی ہے لیکن ‘غنیمت ہے کہ سپریم کورٹ ہے ۔ مسٹر چدمبرم نے ٹویٹ کیاکہ کرناٹک اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کتنی پینترے بازی کرتی رہی۔کتنی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ پہلے 15؍دن کا وقت مانگا، پھر اینگلو۔انڈین رکن پر داؤ کھیلا، اس کے بعد خفیہ ووٹنگ کی اپیل کی ، پھر عارضی اسمبلی اسپیکر کا داؤ بھی کھیلا۔ سابق مرکزی وزیر نے جمہوری نظام کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھائے اور کہا کہ بھگوان کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ ہے ۔ یہ ریاست کا معاملہ ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ اکثریت ثابت کرنے کے عمل کو براہ راست نشر کرنا شفافیت کا بہتر طریقہ ہے ۔ میں یہ ہدایت دینے کے لئے سپریم کورٹ کو سلام کرتا ہوں۔ اس نظام کے بعد کانگریس اور جنتا دل ایس کے رکن اسمبلی اپنی پارٹیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر جمہوریت کو بچائیں گے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر آج اسمبلی میں سہ پہر 3:45؍بجے تحریک اعتماد پیش کرنے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ اگر ان کی پارٹی کو 104 کی بجائے 113؍نشستیں ملتیں تو اس ریاست کو وہ پورے ملک کے لئے جنت بنادیتے۔ وہ اس دوران بہت مایوس اور تھکے ماندے نظر آرہے تھے۔ کنڑی زبان میں اپنی جذباتی تقریر کے دوران کئی مرتبہ کانگریس پر نکتہ چینی کی اور کہاکہ وہ اپنی آخری ساعت تک کسانوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی انتخابات سے پہلے انہوں نے دوسال تک ریاست کا دورہ کیاتھا اور لوگوں کے چہروں پر درد کو محسوس کیا۔ وہ لوگوں سے ملی محبت اور اخوت کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہاکہ عوام نے بی جے پی کو 104؍نشستیں دی ہیں۔ رائے عامہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے حق میں بھی نہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں 28؍میں سے تمام 28؍حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے وزیراعظم نریندر مودی کو دوبارہ ملک کا وزیراعظم بننے میں مدد کرے گی۔ اس دوران کمار سوامی کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اقتدار نہ ملنے پر خودکشی کی بات میں نے کبھی نہیں کہی۔ اپنی تقریر کے دوران تین مرتبہ دلتوں اور اقلیتوں کی فلاح وبہبودی کا حوالہ دیا۔ لیکن ایک بار بھی اپنی زبان پر اقلیتوں کا نام نہیں لیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کانگریس پر اپنی بھڑاس نکالی۔ وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے جیسے ہی انہوں نے اپنی تقریر ختم کی، عبوری اسپیکر سابق وزیراعلیٰ سدارامیا کو جواب یا اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیئے بغیر ہی اسمبلی کی کارروائی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔
قومی ترانے کی بے حرمتی: اس کے ساتھ ہی ایوان میں قومی ترانہ بجنے لگا، بشمول عبوری اسپیکر ایڈی یورپا بی جے پی اراکین کھڑے ہوکر قومی ترانے کا احترام کرنے کی بجائے ایوان سے باہر جانے لگے۔ اگر یہی حرکت کسی دوسرے سے سرزد ہوتی تو بی جے پی اس کو ایک بڑا معاملہ بتاتے ہوئے انہیں ملک کا غدار قراردیتی۔ اقتدار کھونے کے غم میں وہ قومی ترانے کا احترام کرنا بھی بھول گئے۔جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں دوبارہ اقتدار پر واپس ہونے بی جے پی کی کوششوں کو لگے دھکے اور اس کے وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کے اکثریت ثابت کرنے سے پہلے فلور ٹسٹ کے بغیرہی استعفیٰ کے اعلان پر کانگریس اور جے ڈی ایس کے خیموں میں مسرت کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ اسی دوران کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ وہ کانگریس ،جے ڈی ایس ، آزاد ارکان کے ساتھ ساتھ بی ایس پی کے رکن کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے مرکزی حکومت کی تمام کوششوں کی مزاحمت کی اور متحد رہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ تمام ارکان اسمبلی پارٹی کے اصولوں اور پارٹی کی قیادت کی جانب سے لئے گئے فیصلہ پر ڈٹے رہے۔
بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی: آج شام راج بھون میں ریاستی گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے متوقع وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہاکہ گورنر نے اپنی حکومت سازی کی دعوت دی ہے۔ وہ بروز پیر 21؍مئی کو شہر کے کینٹروا اسٹیڈیم میں دوپہر 12؍اور ایک بجے کے درمیان ریاست کے 24ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدہ کی رازداری کا حلف لیں گے۔ ان سے کیاگیا سوال کہ کیا بی جے پی انہیں اطمینان سے حکومت کرنے دے گی۔؟ اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آپریشن کنول ابھی ختم نہیں ہواہے۔ بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی۔ آپریشن کنول دوبارہ شروع کرے گی اور قدم قدم پر میری حکومت کے لئے رکاوٹیں پیدا کرے گی۔ لیکن ان تمام کا سامنا کرنے کے لئے میں تیار ہوں۔ جہاں تک حکومت میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی حصہ داری کا تعلق ہے ہم دونوں پارٹیوں کے لیڈر مل بیٹھ کر یہ طے کریں گے۔ یہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
وزیراعظم سپریم کورٹ سے بڑے نہیں: ریاست کرناٹک میں کانگریس۔ جے ڈی ایس اتحاد کی جیت اور بی جے پی کی شکست پر مسرت ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اسمبلی اجلاس کے اختتام پر جب قومی ترانہ بجنے لگا تو بشمول اسمبلی کے عبوری اسپیکر مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ ایڈی یورپا اور بی جے پی کے اراکین اسمبلی کھڑے ہوکر قومی ترانہ کا احترام کرنے کی بجائے ایوان چھوڑکر بھاگنے لگے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کے دستور اور کسی ادارہ کا احترام کرنا جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک اسمبلی میں یہ واضح ہوگیا کہ وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے بھاری پیمانہ پر دیگر پارٹیوں کی جوڑ توڑ کرنے کی کوشش کی اور کروڑوں روپئے دے کر پارٹیوں کے اراکین کو خریدنے کی ناکام کوشش کی۔
مودی خود بدعنوان: راہل گاندھی نے مزیدکہاکہ وزیراعظم نریندرمودی اپنے خطابات اور بیانات میں بدعنوانی کے خلاف کہتے نہیں تھکتے۔ لیکن خود بہت بڑے بدعنوان سیاستدان ہیں جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی کو مبارکباد دی جو جمہوریت کی بقا کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم آئندہ بھی اسی طرح بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے کھڑے ہوں گے۔
تحریک اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی استعفیٰ کا اعلان:وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کانگریس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے خلاف سازش رچنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں آج تحریک اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی اپنے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔ ایڈی یورپا نے دو دن پہلے ہی وزیراعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا۔ انہوں نے اسمبلی میں تحریک اعتماد کی تجویز کو ایوان میں کارروائی کے دوران آگے نہیں بڑھایا۔مسٹر ایڈی یورپا نے اراکین کے حلف لینے کے بعد اپنے جذباتی خطاب میں کانگریس پر سازش رچنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی نے یہ یقینی بنایا کہ بی جے پی اکثریت ثابت نہ کرسکے ۔ بی جے پی نے گزشتہ12؍مئی کو ہوئے اسمبلی انتخابات میں104؍سیٹیں جیتی تھیں اور گورنر وجوبھائی والا نے اسے حکومت بنانے کی دعوت دی۔ گورنر نے اسے اکثریت ثابت کرنے کے لئے پندرہ دنوں کا وقت دیا تھا۔ جبکہ سپریم کورٹ نے آج شام 4؍بجے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کاحکم دیا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: