سرورق / بین اقوامی / بزدل صہیونیوں کا آتشی غبارے سے ناک میں ’دم‘ فلسطینی بچوں کو براہ راست بم مار کر قتل کیا جائے:اسرائیلی وزیر

بزدل صہیونیوں کا آتشی غبارے سے ناک میں ’دم‘ فلسطینی بچوں کو براہ راست بم مار کر قتل کیا جائے:اسرائیلی وزیر

مقبوضہ بیت المقدس: (ایجنسی)اسرائیلی حکومت کے ایک سینئر وزیر نے فلسطینی بچوں کو براہ راست بم مار کر شہید کرنے کا انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت میں شامل وزیر برائے تعلیم نفتالی بینٹ نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کے بچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہئے؛کیوں کہ انہوں نے اپنے آتشی غباروں سے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اگر وہ غزہ کی پٹی سے غباروں کے ساتھ آتش گیر بم باندھ کر اسرائیلی کالونیوں میں پھینک رہے ہیں تو انہیں جواب میں نشانہ بنا کر ’بم‘ مارے جائیں۔ عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے لکھا ہے کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے گیسی غباروں سے نمٹنے کے لئے متضاد آراء پائی گئیں۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر تعلیم نے کہا کہ فلسطینی بچوں کو جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں انہیں گیسی غبارے پھینکنے پر براہ راست بم مار کر شہید کیا جائے۔ خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں 30 مارچ سے فلسطینی حق واپسی کے لئے احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران فلسطینیوں نے ایک نیا مزاحمتی طریقہ اپنایا ہے۔ وہ کاغذی آتش گیر جہازوں اور گیسی غباروں کو اسرائیلی کالونیوں پر پھینک کر ان میں آگ لگا رہے ہیں۔ صہیونی ریاست طاقت کے استعمال کے باوجود کاغذی جہازوں کے مزاحمتی عمل کو روک نہیں سکی۔صہیونیوں کے تمام جدید حربی آلات اور دجالی ہتھیار اس آتشیں غبارے کے سامنے بے بس ہیں ۔ دوسری جانب اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل ’7‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع سے محروم کردیا گیا ہے۔ عبرانی ٹی ی کے مطابق کابینہ کی آئینی کمیٹی کی طرف سے مسودہ قانون کی منظوری کے بعد اسے کنیسٹ کی آئینی کمیٹی کو بھیجا گیا ہے۔ اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار بیت المقدس میں قائم مرکزی عدالت کے دائرہ اختیار تک ہوگا۔ فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف اپنے مقدمات سپریم کورٹ میں نہیں لے جاسکیں گے۔ عبرانی ٹی وی نے وضاحت کی ہے کہ نیا بل غرب اردن کے رہنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے عملا روکنا ہے۔ فلسطینیوں کے تمام کیسز کو بیت المقدس کی ضلعی عدالت یا مرکزی عدالت تک محدود کردیا گیا ہے۔ یہ آئینی بل اسرائیلی خاتون وزیر قانون ایلیت شاکید نے پیش کیا ہے جس کا مقصد غرب اردن کے فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کی بالا دستی کو مزید وسعت دینا، مرکزی عدالت کے دائرہ اختیار کو بڑھانا اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرنا ہے۔ وزیر قانون شاکید کا کہنا ہے کہ ہم کنیسٹ کے ذریعے یہودا اور سامرا[غرب اردن] کے علاقوں میں رہنے والوں کے لئے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی اہمیت گرین لائن [1948 ] کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والوں سے کم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ غرب اردن کے سالانہ 2000 کیسز کی سماعت کرتی اور ان پرفیصلے سناتی ہے۔ ان میں سے بیشتر مقدمات فلسطینیوں کی طرف سے مکانات مسماری کے خلاف یا یہودی آباد کاروں کے خلاف دائر کئے گئے ہوتے ہیں۔وہیں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی سرحد پر اسرائیل نے فلسطینیوں کے آتشی کاغذی جہازوں اور گیسی غباروں کے نتیجے میں 17 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ عبرانی نیوز ویب سائیٹ ’0404‘ کے مطابق گذشتہ روز فلسطینیوں کے کاغذی جہازوں سے کئے گئے حملوں میں غزہ کے قریب17 مقامات پرآگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹ کے مطابق آج سوموار کو علی الصباح فلسطینیوں کے کاغذی جہازوں اور آتش گیر غباروں کی مدد سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوشش کی مگرالحمدللہ ! آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ آتش زدگی کا یہ تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تین ماہ کے دوران گیسی غباروں کے نتیجے میں اسرائیل کو 85 لاکھ شیکل کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جب کہ مجموعی طورپر 5000 دونم کے علاقے آگ کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ گیسی غباروں کے گرنے اور آگ لگنے کے بعد اسرائیلی ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ روانہ کیا گیا ہے۔ گرمی کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ وسیع رقبے میں پھیل گئی اور اسے بجھانے میں کئی گھنٹے بھی صرف ہوگئے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے گیسی غبارے اور کاغذی آتش گیر جہاز روکنے کے لئے نیا نظام بھی نصب کیا ہے مگر اس کے باوجود صہیونی حکام فلسطینیوں کے اس مزاحمتی حربے کو روکنے میں ناکام اور بے بس رہے ہیں۔دریں اثنا اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی قوتیں صہیونی ریاست کو غزہ کی پٹی میں جارحیت مسلط کرنے اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرنے والے فلطسینی بچوں کی نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب میں ھنیہ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی روک تھام کے لئے مختلف ممالک اور قوتوں نے کردار ادا کیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کو صہیونیوں پر بالادستی اور فوقیت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی دشمن غزہ کے عوام کو تین بار تباہ کن جنگوں میں آزما چکا ہے۔ فلسطینی قوم نے دشمن کے ہاتھ سے اپنی فتح سلب کرکے حاصل کی۔ اگرچہ فلسطینی قوم کو بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دینا پڑیں مگر آخر کار شکست صہیونی ریاست کا مقدمہ ٹھہری ہے۔ اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی جماعتیں صہیونی غاصبوں کے تعاقب میں ہیں۔حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر حملے کرکے پرامن حق واپسی کی تحریک ناکام بنانا چاہتا ہے مگر دشمن کی یہ سازش کسی صورت میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ محاصرہ جلد ختم ہوگا اور فلسطینیوں کو محصور کرنے اور غزہ کو ایک جیل میں تبدیل کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا(ان شاء اللہ )۔ امریکی حکومت کی طرف سے پیش کردہ صدی کی ڈیل منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدی کی ڈیل گہری سازش ہے مگر اسے نہ تو فلسطینی قوم قبول کرے گی اور نہ ہی علاقائی طاقتیں اسے تسلیم کریں گی۔ ادھر غزہ کی پٹی کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے مندوب نیکولائے ملاڈینوف نے اسماعیل ھنیہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں غزہ کی پٹی کی تازہ کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: