سرورق / خبریں / بار میں آگ لگنے سے پانچ ملازمین زندہ جل مرے-

بار میں آگ لگنے سے پانچ ملازمین زندہ جل مرے-

بنگلور(پی ین ین):۔ کے آرمارکیٹ میں واقع ایک بار اینڈ رسٹورنٹ میں آگ لگنے سے پانچ ملازمین زندہ جل مرے اور اس سلسلہ میں خلاصی پالیم پولیس نے معاملہ درج کرکے بار کے مالک وی آر دیا نائک کو تلاش کررہی ہے ۔پولیس نے بتایا کہ آج بروز پیر کو صبح کی اولین ساعتوں میں کروبراسنگھا عمارت میں واقع ساگر بار اینڈ رسٹورنٹ میں بجلی کے شارٹ سرکیوٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ اور ترکاری ۔پھل اورپھول لے کر فروخت کرنے کے لئے آئے کسانوں سے سب سے پہلے بار کے رولنگ شٹرس کے نیچے سے دھواں نکلتا دیکھا اورپولیس کو اطلاع دی ۔پولیس اہلکاروں نے فائر سرویس عملہ کے ساتھ چار فائر برگیڈکے ساتھ موقعہ واردات پر پہنچی ۔اس سے قبل مقامی لوگوں نے رولنگ شٹرس توڑ کر پانی کے ذریعہ آگ بجھانے کی کوشش کررہے تھے اندھیرا ہونے سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پولیس اہلکاروں اور فائر سرویس عملہ نے لگ بھگ دو گھنٹوں کی کڑی مشقت کے بعد آگ پر قابوپالیا۔ اندر پانچ ملازمین زندہ جل کرمرگئے تھے ان کی پہچان ٹمکور ضلع کے 23سالہ سوامی ناتھ۔ 26سالہ ہری پرساد ۔ ہاسن ضلع کے 45سالہ منجوناتھ۔ 23 سالہ کیرتی او رمیسور ضلع کے 21سالہ مہیش کے طور پر کی گئی ہے ۔یہ لوگ رات دیر تک کام کرنے کے بعد بار کے اندر ہی سویا کرتے تھے ۔بجلی اور تارو ں کا جنکشن کے اندر شارٹ سرکیو ٹ ہونے سے آگ لگی تھی اوربار کے اندر شراب کی بوتلیں اور بڑی مقدار میں اسے جمع کرکے رکھنے کی وجہ سے آگ تیزی سے بھڑکتی چلی گئی۔ ملازمین دم گھٹنے سے او راندھیرا ہونے کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آکر زندہ جل مرے۔ پولیس نے ضروری کاروائی کرنے کے بعد لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے وکٹوریہ اسپتال بھیجا اور پولیس معاملہ درج کرکے بار کے مالک وی آر دیا نائک کو تلاش کررہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ دیانائک فرار ہیاور وہ فالج کا شکار ہے اور گذشتہ 10سال سے سوم شیکھر نامی شخص بار چلاتا تھا اور وہ بھی فرار ہے ۔اس کی اطلاع ملنے کے بعد مہلوکین کے والدین اور رشتہ دار وکٹوریہ اسپتال پہنچ گئے ہیں اور یہاں ماتم چھایا ہوا ہے ۔مےئر سمپت راج ۔پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار اور دیگر پولیس اہلکار موقعہ واردات پہنچ کر ضروری کاروائی کی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: