سرورق / خبریں / بارش کا پانی تالابوں کو مکمل تباہی سے بچا رہا ہے –

بارش کا پانی تالابوں کو مکمل تباہی سے بچا رہا ہے –

بنگلور،  شہر میں تالابوں کا مطالعہ کرنے کے لئے قائم کردہ ماہرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ بارش کا تازہ پانی جو بیلندور اور دوسرے تالابوں میں داخل ہوتا ہے وہ ان تالابوں کو مکمل تباہی سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ڈاکٹر ڈی اے وینکٹیش اور ڈاکٹر رنکو ورما نے مزید کہا کہ ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے آبی ذخائر کو نئی زندگی دینے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت اور بلدی اداروں نے جو اقدامات کئے ہیں وہ کسی قابل نہیں ہیں۔اس ٹیم کے اراکین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر کے کئی تالابوں کی صحت کے سلسلہ میں ا میدیں بہت ہی کم ہیں جب تک کہ حکومت یہاں مزید فاضل پانی کی صفائی کے آلات (ایس ٹی پی)تعمیر نہیں کرتی، جس کے تعلق سے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سال 2020 تک مکمل طور پر تعمیر ہو جائیں گے۔ڈاکٹر وینکٹیش اور ڈاکٹر ورما جو بالترتیب آئی ایس ایف افسر اور یونیورسٹی آف اگریکلچرل سائنس کے معاون پروفیسر ہیں یہ دونوں کرناٹک تالابوں کا تحفظ اور ترقی انتظامیہ (کے ایل سی ڈی اے) کی طرف سے مقرر کردہ تین رکنی گورننگ کونسل کمیٹی کے اراکین ہیں جنہیں شہر کے تالابوں کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔یہ ٹیم جس میں ایک اور آئی ایف ایس افسر یوسف پیروڈی بھی شامل ہیں نے بیلندور سے جڑے ہوئے تالابوں کے مجموعہ کے جائزہ کا کام انجام دیا ہے۔اس مطالعہ کے اختتام پر ان کی طرف سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں ٹیم کی طرف سے شہر کے تالابوں کے پانی کا معیار، ماحولیاتی اختلاف، تالابوں کے تحفظ کے کام میں شریک مقامی افراد اور غیر سرکاری تنظیمیں اور ایس ٹی پی سے متعلق صورت حال وغیرہ کی تفصیلات پیش کی جانے والی ہے۔اس مطالعہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مذکورہ ٹیم تالابوں کا مطالعہ انجینئروں کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ حیاتیاتی نقطہ نظر سے انجام دے گی۔ڈاکٹر وینکٹیش اور ڈاکٹر ورما نے کہا کہ ریاستی حکومت اور متعلقہ محکمہ جات کی طرف سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ سب وقتی ہیں اور اس کا مقصد صرف عدالتوں کو خوش کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔حالانکہ ان تالابوں سے جو مسائل جڑے ہوئے ہیں وہ قدیم بھی ہیں اور ماحول کو بری طرح سے متاثر بھی کرنے والے ہیں۔بیلندور اور ورتور تالابوں کا مطالعہ کرنے والی ایک دوسری ٹیم کے رکن اور ماہر ماحولیات اے این ایلپا ریڈی کا کہنا ہے کہ’’بی بی ایم پی نے سال 1970 میں اپنے زیر زمین گندے پانی کی تمام نالیوں کو تالابوں سے جوڑنا شروع کر دیا تھا، ان تمام سالوں میں جو گندا پانی ان راستوں سے تالابوں میں شامل ہوتا رہا ہے اس نے اب بیو میتھین گیس، گریس اور روغنی مادوں کو پیدا کرنا شروع کر دیا ہے۔اگر شہر کے دوسرے تالابوں میں بھی آگ لگ جائے تو مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوگی۔ریاستی حکومت گندے پانی کی صفائی کے سلسلہ میں خاص طور پر سنجیدہ نہیں ہے۔بی بی ایم پی، بی ڈی اے اور بی ڈبلیو ایس ایس بی لوگوں سے پیسہ وصول کرتے رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ وہ ساری رقم کہاں گئی؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مختلف شہری اداروں کے درمیان آپسی تال میل کا فقدان ہے‘‘۔ڈاکٹر وینکٹیش نے بتایا کہ ’’تالاب میں سے جنگلی جھاڑیوں کو نکالنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ہم نے ادھر ادھر کچھ ایرئیٹرس بھی دیکھے ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں‘‘۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ابھی ترزمین کے ذریعہ تالابوں کے علاج کا نظام قائم کیا جانا باقی ہے جو کہ تالابوں کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے سلسلہ میں کافی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ڈاکٹر ورما حکومت کی توجہ بیلندور تالاب میں گندے پانی کے داخلے کے مقامات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں، چونکہ تالاب میں جھاگ کی پیدائش کا سلسلہ اب بھی جاری ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اقدام کرتے ہوئے صفائی نہیں کئے گئے گندے پانی اور فضلات کو تالاب میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایس ٹی پی یونٹس اور قریب کے علاقوں میں موجود صنعتوں اور رہائشی اپارٹمنٹوں میں سے گندے پانی اور فضلات کی نکاسی پر بھی مسلسل نظر رکھے۔انہوں نے کہا کہ ’’کئی معاملات میں اپارٹمنٹ اور کارخانے وغیرہ ایس ٹی پی کی تنصیب کے قابل ہی نہیں ہوتے‘‘۔ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ قوانین کا نفاذ ’’جن پر عمل کرنے میں خود حکومت ہی ناکام رہی ہے ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘‘۔ بنگلور پانی کی سربراہی اور فضلات کی نکاسی بورڈ (بی ڈبلیو ایس ایس بی)کے علاوہ کرناٹک ریاست آلودگی پر قابو بورڈ (کے ایس پی سی بی)کو چاہئے کہ دونوں مل کر کام کریں اور اپارٹمنٹوں اور کارخونوں کو اپنا تعاون پیش کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تالاب کی اس صورت حال سے حفاظت ممکن ہو سکے کہ اس کو اس قدر خراب کر دیا جائے کہ اس کے بعد دوبارہ اس کی تجدید ہی ناممکن ہو جائے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: