سرورق / قومی / بارش کا قہر اورسیلاب کی صورت حال بلدی حکام کو ماہرین کی آراء پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

بارش کا قہر اورسیلاب کی صورت حال بلدی حکام کو ماہرین کی آراء پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

بنگلورو۔ پچھلے کئی دنوں سے وقفہ وقفہ سے شہر میں ہونے والی بارشوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے ،بارش کے بعد شہر کے کئی علاقے زیر آب آجاتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے۔ کئی سالوں سے شہر میں یہ سب کچھ ہوتا آیا ہے، پیڑ، بجلی کے کھمبے اور دوسری چیزیں اکھڑ جاتی ہیں، گھروں میں پانی بھر جاتا ہے، کئی علاقے زیر آب آجاتے ہیں اور کئی لوگوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔لیکن اس صورت حال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے اب تک کوئی مناسب اور موثر اقدام بروہت بنگلورو مپہا نگرا پالیکے کی طرف سے نہیں کیا گیا ہے۔ شہرکے مئیر کی طرف سے حکام کو اس بات کا انتباہ دئے جانے کے بعد کہ بارش کے قہر سے حفاظت کے لئے فوری اور مناسب اقدامات کئے جائیں ، بنگلور کے شہری اب یہ امید کر رہے ہیں کہ آئندہ موسم باراں شاید شہر میں تباہیوں سے پاک رہے گا لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ بلدی حکام اور افسران ماہرین سے صلاح و مشورہ کرکے مناسب منصوبہ بندی اختیار کریں۔کچھ ماہ پہلے ہی کرناٹک ریاستی مرکز برائے نگرانئ قدرتی آفات(کے ایس این ڈی ایم سی) نے اپنی رپورٹ میں شہر کے 174 سیلابی علاقوں کی نشاندی کی تھی اور یہ کہا تھا کہ بارش کے موسم میں صرف دس ملی میٹر کی برسات ہی ان میں سے سات علاقوں کو مکمل طور پر زیر آب کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بارش کے پانی کو پہنچانے کے لئے متبادل مقام کی عدم موجودگی اور گندے پانی کی نکاسی کے نظام کی بد حالی ہے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے سال کے ایس این ڈی ایم سی کے حکام کی جانب سے بی بی ایم پی کو زیر زمین نالیوں کو از سرنو ترتیب دینے کی صلاح دئے جانے کے بعد شہر میں سیلابی علاقوں کی تعداد دو سو سے کم ہوکر 174 پر پہونچی تھی۔کے ایس این ڈی ایم سی کے منصوبہ بندی سائنس دان (آبی علوم شعبہ)شوبھا اویناش نے ایک مقامی انگریزی اخبار کو بتایا کہ شہر میں کم از کم سات ایسے علاقے موجود ہیں جہاں عام طور پر سیلاب کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور صرف دس ملی میٹر برسات ہی سے یہ علاقے مکمل طور پر زیرآب ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ان میں سے اکثر علاقے شہر کے جنوبی اور بومن ہلی کے زون میں پائے جاتے ہیں۔ہم نے بی بی ایم پی کے افسران کو اس کی اطلاع دیدی تھی تاکہ قبل از وقت منصوبہ بندی کی جا سکے‘‘۔شوبھا اویناش نے بتایا کہ شہر کے 174 سیلابی علاقوں میں سے 48 علاقے بنگلور کے مشرقی زون میں واقع ہیں اور دوسرے مقام پر جنوبی بنگلور ہے جہاں تیس مقامات سیلاب سے متاثر ہونے والے ہیں، مہا دیوا پورا اور راجا راجیشوری نگر میں فی کس 25-25 مقامات ایسے ہی ہیں جبکہ مغربی زون میں 22 ، بومن ہلی میں 14 اور یلہنکا و داسرہلی میں پانچ پانچ مقامات سیلاب کی زد پر ہوتے ہیں۔شوبھا اویناش کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’کے ایس این ڈی ایم سی نے بی بی ایم پی کو صلاح دی تھی کہ وہ برساتی نالیوں کے نظام کو از سر نو مرتب کرنے کی کوشش کرے، اس میں نالوں کو توسیع اورانہیں گہرا بنانا بھی شامل ہے اور مختلف مقامات پر ڈھلانوں کی تعمیر بھی۔لیکن یہ کارروائی بنگلور شہر کے اندرونی علاقوں میں نہیں کی جاسکی کیونکہ وہاں جگہ کی قلت ہے۔البتہ شہر کے باہری علاقوں جیسے بومن ہلی، ہلی ماؤ، مڈیوال اور دیگر مقامات میں یہ کام انجام دیا گیا ہے،ان میں سے سات مقامات ایسے ہیں جہاں سیلاب کی صورت حال پیدا ہوجاتی تھی‘‘۔واضح رہے کہ پچھلے سال اگست کے مہینہ میں شدید بارش کی وجہ سے جنوب مشرقی بنگلور میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ریاستی حکومت نے نیشنل ڈیساسٹر ریسپانس فورس سے کشتیاں طلب کر لی تھیں اور اس کے بعد ریاستی حکومت نے برساتی نالوں اور گندے پانی کی نالیوں پر سے غیر قانونی قبضہ جات ہٹانے کے لئے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیوں کے احکام جاری کئے تھے مگر سروےئرس کی کمی کے پیش نظر اس کارروائی کو درمیان میں ہی روک دینا پڑا تھا۔کے ایس این ڈی ایم سی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جی ایس سرینواس ریڈی کا کہنا ہے کہ شہر میں سیلابی صورت حال کے لئے نکاسئی آب کے قدیم نظام، برساتی نالوں پر غیر قانونی قبضہ جات اور گندے اور برساتی پانی کے داخلہ کے مقامات پر رکاوٹیں ہی اصل وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’بنگلور شہر سالانہ نو سو ملی میٹر بارش حاصل کرتا ہے۔سال 1940 میں بارش کا صرف تیس فیصدی پانی زیر زمین نالیوں میں داخل ہوتا تھا ، اس لئے کہ اس وقت بارش کے پانی کو جمع ہونے کے لئے بہت سارے متبادل مقامات موجود تھے اور اضافی پانی کو اپنے اندر محفوظ کر لینے کے لئے ٹنکیاں اور تالاب بہت زیادہ مضبوط بھی تھے۔لیکن اب شہری علاقہ میں بے تحاشہ اضافہ اور کانکریٹ کی عمارتوں کی بھر مار نے صورت حال کو بالکل اس کے برعکس بنا دیا ہے‘‘۔سرینواس ریڈی نے بتایا کہ ’’اس وقت دس فیصد سے بھی کم بارش کا پانی تالابوں تک پہنچ پاتا ہے، بیس فیصد پانی گندی نالیوں میں بہہ جاتا ہے اور باقی کا سارا پانی راستوں پر جمع رہ جاتا ہے، اس کی وجہ زمین کی سختی ہے ، پانی کے جذب ہونے کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی ہے‘‘۔ایک مقامی انگریزی روزنامہ نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’شہر بنگلور میں مبینہ سیلابی صورت حال سے متعلق کرناٹک ریاستی مرکز برائے نگرانئ قدرتی آفات کی جانب سے پیش کردہ انتباہ ، اس سے زیادہ سخت اور بر وقت نہیں ہو سکتا تھا۔اب یہ شہر کے تمام بلدیاتی اور شہری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شدید حادثہ کے رونما ہونے سے قبل اس کو روکنے کے لئے فوری اور جنگی پیمانہ پر اقدامات شروع کردیں۔ہر مرتبہ بارش کے بعد راستوں پر پانی کا جماؤ اور گھروں میں پانی داخل ہوجانے کے واقعات سے متعلق بنگلور کے شہری اب بے حد مایوس ہو چکے ہیں۔ہر مرتبہ سیلاب کی صورت حال کا پیدا ہو جانا ، ایک قدیم مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں شہری اور بلدی اداروں کی جانب سے مجرمانہ غفلت اور قبل از وقت تیاری کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ افسران مستعد ہو جائیں اور مصیبت کے آنے سے پہلے ہی اقدامات شروع کردیں‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: