سرورق / بین اقوامی / بات چیت ختم کرنے کے لئے امریکہ ذمہ دار: ظریف

بات چیت ختم کرنے کے لئے امریکہ ذمہ دار: ظریف

لندن، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کو ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ بین الاقوامی جوہری معاہدہ سے الگ ہو کر امریکہ نے ہی بات چیت ختم کی ہے جس کے لئے اس کوخود کو قصوروار ٹھہرایاجانا چاہئے۔

مسٹر ظریف نے ٹویٹ کیا، “بین الاقوامی جوہری معاہدے سے الگ ہو کر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ختم کرنے کے لئے امریکہ صرف خود کو ہی مجرم ٹھہرا سکتا ہے‘‘۔

اس سے پہلے پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بغیر کسی شرط پر ایران کے صدر حسن روحانی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بات چیت کرنے کے لئے وہ بغیر کسی شرط کے ایران کے رہنما سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔

امریکی صدر نے اٹلی کے وزیر اعظم کے ساتھ پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا،”اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو میں ضرور ایران کے رہنما سے ملوں گا. مجھے نہیں پتہ کہ وہ اب بھی تیار ہیں۔ میں نے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کیا۔ وہ ایک مضحکہ خیز معاہدہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ شاید ملنا چاہتے ہیں اور میں کسی بھی وقت ملنے کے لئے تیار ہوں‘‘۔
اسی درمیان، ایران کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تہران کے ساتھ بات چیت کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی سے منگل کو بات چیت کے دوران پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے کہا’’مسٹر ٹرمپ،ایران شمالی کوریا نہیں ہے جو مذاکرات کے لئے آپ کی پیشکش کو قبول کر لے۔ آپ کے بعد بننے والے امریکی صدر بھی وہ دن نہیں دیکھ پائیں گے‘‘۔
امریکہ کے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی تلخ ہوئے ہیں۔ مئی میں ٹرمپ نے اس بین الاقوامی جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 22 جولائی کو مسٹر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کرکے ایرانی صدر کو متنبہ کرتے ہوئے کہاتھا ’’امریکہ کو کبھی بھی دھمکی نہ دیں یا آپ ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے اب تک تاریخ میں کچھ ممالک مبتلا ہوئے ہیں۔ اب ہم ایک ایسا ملک نہیں ہیں جو تشدد اور موت کے آپ کے الجھے ہوئے الفاظ کے لئے کھڑے رہیں گے۔ آگاہ رہو‘‘۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی ایک ٹویٹ کرکے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسیاں نہ اپنائے ورنہ ’ایران کے ساتھ جنگ نہیں جنگ عظیم‘ کے لئے تیار رہے۔
قابل غور ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: