سرورق / خبریں / اے ایم یو – محمد علی جناح تنازع: جس طرح سے اے ایم یو نشانہ بنایا گیا ہے وہ قابل مذمت: ہندو اساتذہ و طلبہ

اے ایم یو – محمد علی جناح تنازع: جس طرح سے اے ایم یو نشانہ بنایا گیا ہے وہ قابل مذمت: ہندو اساتذہ و طلبہ

علی گڑھ : ملک کا معروف تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان دنوں تنازع کی زد پر ہے ،جہاں ایک تصویر کو موضوع بحث بنا کر دلوں میں دیواریں کھڑی کرنی کی کوششیں جاری ہیں ۔محمد علی جناح کی تصویر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین حال میں آویزاں ہے جس پر ممبرپارلیمنٹ علی گڑھ کے اعتراضات کے بعدپورے میں ہنگامہ شروع ہو گیاہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ بھی احتجاج کررہے ہیں۔ طلبہ کے اس احتجاج کو ادارے کے ہندو اساتذہ اور طلبہ کی بھی حمایت حاصل ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سے اے ایم یو نشانہ بنایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔طلبہ کا احتجاج خود پر ہوئی بربریت کے لئے ہے ، نہ کہ جناح کی تصویر کے لئے ۔ ایک تصویر کے نام پرمذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔
طلبہ کا مانناہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف تعلیم کا مرکز ہے ،موجودہ جناح مسئلہ صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے اُٹھایا گیا ہے۔یونیورسٹی میں پڑھنے والے ہندو طلبہ وطالبات کہتے ہیں کہ انھیں کبھی کیمپس میں مذہبی تفریق کا احساس نہیں ہوا، جس بھائی چارہ کا مظاہرہ یہاں کیا جاتا ہے ، وہ سارے ہندوستان کے لئے ایک مثال ہے۔
یاد رہے کہ اس ادارے کے بانی سرسید احمد خاں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان ایک دلہن کی دو آنکھوں کی مانند ہیں،اگر ایک میں تھوڑی سی بھی خرابی پید اہوگی تو دلہن کی خوبصورتی ختم ہوجائے گی ۔آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک اس خوبصورتی کو قائم کئے ہوئے ہے ،لیکن کچھ شرپسندوں نے اس ادارے پر حملہ کرکے اس کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے ، جس کو ادارہ میں پڑھانے اور پڑھنے والی ملک کی اکثریت نے ہی مسترد کردیا ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: